تازہ ترین

چترال بازار میں جعلی اشیاء کے خاتمے کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال سے بھر پور اقدامات کا مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس )چترال میں ناقص اور جعلی اشیاء خوردونوش کی فروخت نے موت کو انتہائی آسان بنا دیا ہے ۔ اور لوگ اپنی موت کا یہ سامان انتہائی خوشی سے خرید رہے ہیں ۔ گھی ، چائے ، مصالہ جات ،کوکنگ آئل ، سے لے کر سبزی اور گوشت تک خوراک کی جو ناقص اشیاء فروخت ہوتی ہیں ۔ ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ۔ پاکستان کے اگر کسی ضلع میں سب سے زیادہ ناقص اشیاء فروخت ہوتی ہیں تو وہ چترال ہے ، ان جعلی اور ناقص اشیاء خوردونوش کی وجہ سے چترال میں89 ہارٹ اٹیک ، بلڈ پریشر ،معدے کے امراض، صف اول کی فہرست میں شامل ہیں ۔ خاص کر ہارٹ اٹیک کی ر فتار تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ چترال کی کارکردگی اس سلسلے میں نہ ہونے کے برابر ہے اور ایک آدھ مرتبہ چھاپے اور جرمانہ کے بعد مہنیوں ان موت کے سوداگروں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے ۔جو اُنہیں لوٹنے کیلئے موقع دینے کے مترادف ہے ۔ چترال کے ایک معروف ڈاکٹر محمد ابراہیم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں دل کی بیماری دن بدن بڑھ رہی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ غیر معیاری خوراک کا استعمال ہے ۔ جو بازاروں میں کُھلے عام فروخت ہوتے ہیں ۔ متعلقہ اداروں کی طرف سے ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک اور سماجی کارکن شہریار بیگ نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں دیگر اشیاء خوردونوش کے ساتھ ساتھ جعلی دودھ اور مشروبات کی بھر مار ہے ۔ ایک طرف خوراک کے نام پر زہر فروخت کئے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف مرضی کی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں اسی طرح مشکوک اور غیر معیاری ادویات بھی کھلے عام فروخت کئے جاتے ہیں ۔ اور چترال کے لوگ ہر طرف زہر کھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس ،گرفت اور سزا نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔چترال میں خوراک کا محکمہ جو لوگوں کو بازار میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے ۔ کی کارکردگی اس حوالے سے صفر ہے ۔ اس ادارے کو بازار کی چیکنگ کرکے عوام کو سہولت دینے میں ذرا برابر دلچسپی نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ ادارہ عوام چترال کیلئے بازار میں کسی دکاندار کو ناراض کرنا نہیں چاہتی ۔عوامی حلقوں نے چترال میں ناقص اشیاء کی بھرمار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اوربازار میں جعلی اشیاء کے خاتمے کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال سے بھر پور اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق