ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دا د بیداد ……جنرل مشرف کا سیاسی کیرئیر

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …..



پاکستان کی سیاست میں جنرل (ر) پرویز مشرف کا سیاسی کیرئیر غیر رسمی طریقے سے ختم ہوگیا۔جب تک وردی میں رہا۔ پنجاب ان کے ساتھ تھا۔ ایم کیو ایم ان کے ساتھ تھی۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے مختلف مواقع پر اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر ان کا ساتھ دیا۔ ایک بڑے سیاسی رہنمانے سیاسی جلسے میں ان کے خلاف دھواں دھار تقریر کی تو مشرف نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ رات کھانے پر موصوف نے مجھے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ لیکن جب انہوں نے وردی کے بغیر سیاست کے میدان میں قدم رکھاتو ان کے ہاتھوں کے تراشے ہوئے شاعر کے بقول خدا بن بیٹھے اور ان کا سیاسی کیرئیر داؤ پر لگ گیا۔ جن لوگوں نے وردی کے ساتھ ان کو 10بار صدر منتخب کرانے کا اعلان کیا تھا۔ان لوگوں نے ان کو اور ان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو ٹکٹ نہیں دیا۔ انہوں نے دلبرداشتہ ہوکر الگ سیاسی جماعت بنائی تو ان کے دور میں بڑے بڑے سیاسی عہدے حاصل کرنے والوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ بدھ 16مارچ 2016ء کو سپریم کورٹ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ان کا نام نکالنے کا حکم دیا اور انہوں نے ہسپتال سے گھر آکر بیرون ملک جانے کی تیاری شروع کی تو ملک کے اندر اور ملک سے باہر پاکستانیوں نے محسوس کیا کہ اب پاکستانی سیاست میں جنرل مشرف کا کیرئیر ختم ہوگیا ہے۔ سیاسی پارٹی بناتے اور ان کو چلاتے ہوئے ان کا تجربہ ائیرمارشل (ر) اصغر خان ، نامور سا ئنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح ناکامی سے دوچار ہوا۔ ابھی فہرست میں اور بھی نام آنے والے ہیں۔ جو سیاست میں آنے سے پہلے مقبول تھے۔ سیاست میں آکر اپنی مقبولیت کھو بیٹھے جنرل مشرف کے سیاسی کردار پر غور کرتے ہوئے قدرت اللہ شہاب کے جملے باربار یاد آتے ہیں۔ 1956کے آئین کو نافذ کرنے کے بعد گورنر جنرل غلام محمد کا زوال شروع ہوا۔ اور جب ریڈیو پاکستان پر یہ اعلان ہوا کہ سکندر مرزا نے اقتدار پر قبضہ کر کے غلام محمد کو معذول کردیاہے تو ان کی امریکی معاون خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ماں بھی آبدیدہ ہوگئیں۔ ان کے زوال پر رونے والی دونوں آنکھیں امریکیوں کی تھیں۔ کسی پاکستانی آنکھ میں ان کے لئے آنسو نہیں تھے۔ مس بورس اور ان کی ماں دونوں امریکی شہری تھیں۔ جنرل مشرف کیلئے آج کسی امریکی مرد یا خاتون کی آنکھیں بھی پُر نم نہیں ہیں۔اس طرح خود جنرل مشرف کی کتاب کا ایک اقتباس یا د آتا ہے۔ 1997ء میں وہ منگلا کے کور کمانڈر تھے۔ جی ایچ کیو میں جنرل اسٹاف آفیسر کے عہدے پر اپنی تقرری کے لئے زور لگارہے تھے۔ اس عہدے پر آنے والا آفیسر چیف آف آرمی سٹاف بن جاتا تھا۔ ایک شام پتہ لگا کہ ان کی جگہ پختون آفیسر لیفٹنٹ جنرل علی قلی خان کو اس عہدے پر لگا دیا گیا ہے تو چیف آف آرمی سٹاف بننے کی ان کی امید خاک میں مل گئی اور انہوں نے تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی ۔ دعا قبول ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد علی قلی خان کی جگہ میاں نوازشریف نے ان کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا۔مشرف کی کتاب میں دعا کے الفاظ بھی تفصیل کے ساتھ دئے گئے ہیں ۔ اس لابنگ کا ذکر بھی بین السطور میں آیا ہے جو چیف آف آرمی سٹاف بننے کیلئے کی جارہی تھی۔ کور کمانڈر وں کی کانفرنس کو بریفنگ دی جاتی تھی کہ کون کیا کہتا ہے۔ علی قلی خان کی باتیں وزیراعظم کو پسند نہیں آتی تھیں۔یہ وہی چکر تھا۔ جوبھٹو کے ساتھ جنرل ضیاء الحق کے تعلق کا پس منظر قرار دیا جاتا ہے یا فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ بھٹو شہید کے تعلق کا پس منظر ہے۔ جنرل مشرف کا پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہوجانا عین متوقع تھا۔ اس کے باوجود جنرل مشرف کے ذاتی کردار پر تبصرے اور تجزیے جاری رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک ان کے کردار میں خوبیاں بھی تھیں اور نقائص بھی تھے۔ سب سے بڑی خوبی یہ تھی۔ کہ ماضی کے حکمرانوں کے برعکس انہوں نے اپنے کنبے کے لوگوں کو سیاست میں ڈنڈے کے زور پر داخل نہیں کیا۔ ان کے دونوں بھائی ملک سے باہر رہے۔ ان کا بیٹا ملک سے باہر رہا۔ انہوں نے اپنے خاندان کو اور اپنی اولاد کو پاکستانی قوم کے کندھوں پر سوار نہیں کیا۔ ان کے جانے کے بعد دشمنوں کو ان کی ذات پر کرپشن کا الزام لگانے کیلئے کوئی بہانہ نہیں ملا۔ان کے ذاتی کردار کی یہ دونوں خوبیاں یاد رکھی جائینگی۔ ساتھ ہی ان کے ذاتی کردار کی ایک خامی بھی یاد رکھی جائیگی۔ وہ مردم شناس نہیں تھے ۔جن لوگوں کو انہوں نے اپنے قریب لاکر بڑے بڑے عہدے دیے۔ بے شمار مراعات سے نوازا۔ وہ لوگ اقتدار سے جانے کے بعد رفو چکر ہوگئے۔ کچھ لوگ مخالف کیمپ میں چلے گئے۔ کچھ لوگ کنارہ کش ہو کر بیٹھ گئے۔ کراچی میں ایم کیو ایم پر ان کا تکیہ تھا۔ وہ بھی اپنے وعدے سے مکر گئے ۔ صر ف چترال سے ان کی پارٹی کو دو سیٹیں مل گئیں۔ چترال کے عوام نے ان کی محبت کا صلہ دیدیا۔ 18کروڑ کی آبادی میں کسی دوسرے حلقے نے صلہ نہیں دیا۔ پاکستانی سیاست میں جنرل مشرف اور ائیر مارشل اصغر خان کا سیاسی کیرئیر یکساں رہا۔ جنرل مشرف نے سب سے بڑا پنگا سپریم کورٹ کے ساتھ لیا تھا۔ آخر میں ان کا نام ہی ای سی ایل سے نکالنے میں سپریم کورٹ ہی ان کے کا م آگئی ۔ خاطر غزنوی نے کیابات کہی ہے:
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
چلو اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق