محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..’’ اختلاف عمل ‘‘

……….محمد جاوید حیات ………


اختلاف رائے پرہر ایک کا حق ہے مگر اختلاف رائے پر اڑجانا ضد کر نا کسی کا حق نہیں۔ ایسا کرنے سے اختلاف رائے اختلاف عمل بن جاتاہے ۔اختلاف عمل دشمنی میں تبدیل ہوجاتاہے اور فساد پھیلتا ہے بدامنی خدا کا عذاب ہے قرآن میں اللہ پاک نے قریش پر اپنے احسانات گنوا کر ان کو حکم دے دیا کہ عبادت کر و اس پاک گھر کے مالک کی جس نے تمہیں بھوک میں کھانا کھیلا یا اور خوف میں امن بخشا ۔ امن سب سے بڑی دولت ہے ۔امن ہی سے خوشحالی آتی ہے۔ خوشحال قوم اور خوشحال ملک ہی مثال بن جاتے ہیں ۔ہماری سیاست سے اب بھی غیر سنجیدگی کی بوآتی ہے۔ آگر چہ مختلف سیاست دانوں اور پارٹیوں کی منزل ایک ہی ہے۔ جس کا نعر ہ مستانہ الفاظ کی حد تک الا پاجاتاہے۔مگر تقر یر یں اسی لمحے بھلائی جاتی ہیں جس لمحے عملی سیاست میں مفاد پرستی، زاتی پسند نا پسند اور اپنے اقتدار کو طول دینا اور اپنی کرسی بچانے کی فکر شروع ہوجاتی ہے پھر ذیلی عملی سیاست آجاتی ہے جس میں ممبروں کا بنک بیلنس بنانا ، پلاٹس الاٹ کرانا ، ٹھیکے لینا اور دلوانا شامل ہوتے ہیں۔اسی عملی سیاست کو ’’ کیش کرنا ‘‘ کہتے ہیں۔ اور نوز ائیدہ سیاست دان ہر قیمت پر اس سیاست کو ’’ کیش ‘‘ کرتے ہیں ۔زلزلہ آتا ہے متاثرین کی خدمت جہان انسانی ، مذہبی واخلاقی فرض بنتی ہے اس کو ’’ کیش ‘‘ کرتے ہیں ۔اور کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر قوم کو منزل کی راہ پر ڈالنے کا مثبت ، متعین اور نظریاتی سیاست فعال ہوتو پھر دیرپااور قوم و ملک کی وسیع مفاد میں سوچا جاتاہے۔جس پر کسی فردیا کسی جماعت کا چھاپ نہیں لگتا نہ پالیسی تبدیل ہونی چاہیے نہ اعتراض ہوتاہے۔ بلکہ ہاتھوں میں ہاتھ دئیے جاتے ہیں اس کو دور اندیشی یعنی ’’ لانگ ٹرم ‘‘ کہتے ہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہت چھوٹی سوچ رکھتے ہیں۔جب وقت گنواتے ہیں تب فریاد کرتے ہیں ۔تو انائی کا بحران ہے۔کارخانے کھڑے ہیں۔قیمتیں بڑھی ہیں بے روزگار ی ہے۔اور کئی مو روثی المیے ہیں جن کا ہم رونا روتے رہتے ہیں ہم میں اخلاص کی عدم موجودگی ہے ۔ہم خود غرض ہیں ہم اختلاف رائے برائے اصلاح کی صلاحیت نہیں رکھتے ہم کسی چیز کو ’’ قوم کی ‘‘ نہیں کہتے ۔ ’’ پارٹی کی ‘‘ ،’’ علاقے کی ‘‘ ،’’ فر د کی ‘‘ کہتے ہیں۔اسمبلی کے فلور پر کوئی قانون سازی ہوجائے تو وہ اس قوم کی منزل ہوتی ہے پھر وہاں تک پہنچنے کی جدوجہد شروع ہوجاتی ہے ۔مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر بحیثیت قوم کوئی کسی چیز کو حاصل کرنے او ممکن بنانے کے لئے کھڑے ہوجائے تو سوال پیدا نہیں ہوتا کہ مٹنے والی نہ مٹ جائے اور بننے والی نہ بن جائے ۔زندہ قوموں کا ایک اصول ہوتا ہے۔ایک معیار ہوتا ہے اس میں کمپر ومائز نہیں ہوتی ۔قومیں بے شک مٹتی ہیں اصول نہیں مٹتے ۔اگر اصول مٹ جائیں تو یہ قوم نہیں ایک بے ربط احتجا ع بن جاتا ہے ۔جس کا نہ کوئی اصول اور نہ کوئی منزل ہوتی ہے ۔ہماری انفرادیت زندگی کے ہر پہلو کو مثاثر کرگئی ہے اس لئے پارٹیاں ہیں مسلکیں اور علاقیت ہے ۔چاہئیے تھا کہ ہم اپنا تعارف یو ں کرتے کہ ہم مسلمان ہیں پاکستانی ہے ۔بس یہ ہمارا مذہب ہماری پارٹی اور ہمارا تعارف ہے۔الیکشن پارٹیوں کے درمیاں نہیں افراد کے درمیان ہوتا ہے ۔معیار اور اہلیت جیت جاتی ۔تب ڈھیڑانچ کی مسجدیں نہ ہوتیں ۔اللہ کی رسی ہوتی ہم اس کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے مگر ہمارا اپنااپنا الو ہے جو سیدھا نہیں ہوتا ۔مو جودہ دور میں ’’ مثبت تبدیلی ‘‘ کانعرہ بہ مانگ دھل الا پا جاتاہے یہ نعر ہ الفاط سے نکل کرعمل تک آجائے تب ہمارے ’’ کردار ‘ ‘ بولیں گے اصل تبدیلی کردار کی تبدیلی ہے ۔ ہم گلی کوچے اور چھونپڑی والوں کو سب سے محبت ہے ۔سارے لیڈر ہمارے ہے۔ساری قیادت ہماری ہے ۔ہمارے بھائی بند ہیں۔اس لئے جس سے تبدیلی کی توقع ہے اس کو چاہیے کہ توقعات پر پورا اتر ے ۔ہمارے گھر انگن روشن کر نا ان کا سیاسی فرض ہے ا ن کی حکمرانی کے تقاضے ہیں ان کے وعد وں کی ممکنات ہیں مگر ہم ان کو دعائیں دیتے ہیں یہ ان کا اضافی فائیدہ ہے ۔کوئی ایسا اہل دل سیاست میں نہیں آتا جو کہدے کہ یہ پیسے میرے نہیں تمہاے ہیں۔ تمہاری خدمت کر نا میرا فرض ہے ۔خدمت میری شناخت ہے ۔بھوک مٹانا ، پسماند گی دور کر نا ، جہالت ختم کرنا، ،سہولیات باہم پہنچانا، سڑکوں کا جال بچھانا ، انصاف مہیا کرنا ، تمہارا حق ہے میرے فرائض ہیں۔مگر ہم ایک دوسرے پہ احسانات جتاتے جاتے ہیں تبدیلی کاانتظار کرنے سے نہیں آتی ۔ تبدیلی لانے سے آتی ہے ۔اور پھر اپنی اپنی خدمت شروع کر نے سے آتی ہے ۔ہم اختلاف رائے رکھیں بے شک اختلاف عمل نہ رکھیں۔ہرکوئی یہ سوچے کہ میں ’’ پاکستان ‘‘ ہوں میری معمولی غلطی سے میرے ’’ پاکستان ’’ کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ میں اپنی پاک دھرتی کے سامنے شرمندہ ہوجاؤنگا ۔ جس مٹی سے میرا وجود بنا ہے وہ مٹی مجھے ملامت کرے گی ۔اسلئے کہ یہ مجھے میرے رب کا دیا ہوا تحفہ ہے اور دینے والا علیم و خبیرذات مجھے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق