مقصود الرحمن

( اطھورُ شطر لایمان)

…….مقصودالرحمن ( مستجپاندہ چترال ) …….

Advertisements

پچھلے دنوں تحصیل ناظم کے گاؤں سے متصل اور ضلعی ناظم کے گاؤں کے بالکل سامنے ٹاؤں ائیریامیں گاؤں شیاقوٹک جانے کا اتفاق ہوا۔قدرت کے بنائے ہو ئے دریائے چترال کے کنارے جس حسین قطعہ زمین پر ہم پہلے چہل پہل کرکے محظوظ ہوا کر تے تھے انسانی ہاتھوں قدرت کے اُس پُر لطف نظارے کو بگڑتے دیکھا تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔صورت حال کچھ یوں تھا کہ پہلے جہاں چنبیلی ، رات کی رانی اور چھوئی مئی جیسے پھولوں سے ماحول معطر رہا کر تا تھا وہاں اب زہریلے قسم کے بد بو کا راج تھا۔ جہاں کبھی بچے کھیل کود میں مصروف نظر آتے تھے وہاں آج استعمال شدہ سیرینج اور DHQ ہسپتال کے کوڑا کر کٹ سے کھیل رہے تھے۔ اور وہ جگہ جہاں میٹھا چشمہ تھا وہاں آج گندگی کے ڈھیر ہیں۔ہم نے جب علاقے کے باشندہ گان سے معلومات لی تو پتہ چلا کہ صوبائی حکومت کا حکم نامہ ضلع چترال پہنچ چکا ہے۔ جسمیں صفائی کے احکامات درج ہیں۔ مزید کھوج کرید کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ حکم نامے کے ملتے ہی ہماری ضلعی حکومت متحرک و چو کنا ہو گئی اور پورے چترال، خاص کر ٹاؤن چترال کی صفائی میں لگ گئی۔ رات دن ایک کرکے پورے چترال کا کوڑا کر کٹ اکھٹا کیا گیا اور جب ا نہیں ٹھکانے لگانے کا وقت آیا تو بد قسمتی سے انتظامیہ کی نا پاک نظریں ایک گنجان آباد گاؤں شیاقو ٹک کی ( پاک سر زمین) پر پڑی۔ ضلعی حکومت نے یہاں تھوڑی سے قطعہ زمین خرید رکھی تھی جسے اب کوڑا کر کٹ پھینکنے کے لئے مناسب سمجھا گیا۔اس طرح صوبائی حکومت کا حکم نامہ ہمارے بھائیوں کے لئے وبالِ جان بن گئی۔ اس گاؤں کے معتبرات اپنے دکھ بھری داستان سنانے جب عرضی لیکراے سی افس پہنچے تو اُلٹا انہیں لینے کے دینے پڑ گئے، جیل بھیجنے کے دھمکیاں دی گئی، ڈرا دھمکایا گیا اور تو اور دہشت گردی کے دفعات تک لگانے کی انتباہ سنائی گئی۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق معتبرات ضبط کے کڑوے گھونٹ پی پی کراے سی افس سے نکلے۔
نکلنا خلد سے آدم ؑ کا ہم سن کے آئے تھے لیکن بڑی بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
اور یوں وہ اے سی جسے آئین پاکستان کی رو سے عوام کا خادم اور اسلامی تعلیمات کے نقطہ نظر سے نائب کی حیثیت حاصل تھی وہ ایک مطلق العنان ، ظالم و جابر اور حاکمِ کُل کا روپ دھارے بیٹھا تھا ۔ وہ اپنے پیشے کیساتھ انصاف نہ کر سکا۔ اب نو جوانانِ شیاقوٹک میدان میں کود پڑے ہیں۔اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ انصاف نے بھی انگڑائی لی ہے۔ کل 19 مارچ 2016 کوماحولیات کا صوبائی وزیر فضل الٰہی خان نے اُس سائیڈ کا دورہ کیا اور انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔نو جوانوں سے خطاب میں 2 باتیں لایق تو جہ کہی!
1 ۔ میں ضلعی انتظامیہ کو اس کام سے باز رہنے کے احکامات جاری کرونگا۔2 ۔ پھر بھی اگر کوڑا کرکٹ لا ئیں تو اُسکوڑاکرکٹ لانے والی سرکاری گاڑی کو ہی جلا دو ۔
تمام تر زمہ داری میرے اُوپر عائد ہو گی۔لہذا ہم نو جوانان شیاقو ٹک انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ خدا را اس ظلمِ اعظیم کا خاتمہ کریں۔اور ہمیں ہمارا وہی شیاقوٹک دے دیں جہاں پیار تھی اور محبت ، سکون تھا اورچین ، جس شیاقو ٹک میں ہر یالی ہی ہر یالی تھی۔ اور جو خوشبوؤں سے معطر رہا کر تا تھا ۔ چترال میں بے شمار بے آب و گیاہ اور غیر آباد جگہیں ہیں انہیں اس مقصد کے لئے استعمال کریں ۔ہماری پاک سر زمین مزید گند گی سہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى