ارشاد اللہ شاد

( رُموز شادؔ ) ……’’پھول‘‘

………( ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال)……



پھول ۔۔ قدرت کا ایک حسین عطیہ ہے، جس کے تصور ہی سے دل خوش ہو جاتا ہے۔ اُسے دیکھے تو خوشنما ، چُھوئیں تو نرم و ملائم ، سونگھے تو خوشبودار، کوئی باغ ہو یا گھر، کھیت ہو یا جنگل ، ندیا کنارہ ہو یا جھیل،یہ ہر کہیں بہار دکھا رہا ہوتاہے۔۔ بہار کی تو یہ جان ہے مگر کبھی کبھی یہ بے بہار بلکہ سدا بہار بھی ہوتا ہے۔۔ اور تو اور یہ جوہڑ جیسی میلی جگہ کو بھی حسن بخش دیتا ہے، کنول کا پھول ہی تو یہ نا قابل فہم انجام دیتا ہے۔ پھول بویا بھی جاتاہے اور خُود رو بھی ہوتا ہے۔ کون سا موسم ہے اور کونسا علاقہ جب اور جہاں پھول دعوت نظارہ نہیں دیتا۔۔ یہ ادیبوں کا بھی محبوب موضوع ہے اور شاعروں کا بھی۔۔ کوئی اس کی نا زکی کو ہونٹوں سے تشبیہہ دیتا ہے تو کوئی اس کی سُرخی کو رُخساروں سے۔۔ پھول سارے رنگوں کے ہوتے ہیں، اُودے اُودے، پیلے پیلے، نیلے نیلے، لال لال ، جامنی جامنی بلکہ کوئی پھول تو ایک سے زائد رنگوں کا بھی ہوتا ہے ’’ ہر گُلے را رنگ و بُوئے دیگر است‘‘۔ لگتا ہے ’’ المصور‘‘ نے خود نقاشی کی ہے۔ چھوٹی چیز کو اپنی دست قدرت سے کتنا عظیم ، حسین اور پُر کشش بنا دیا ہے ۔ پھول کے علاوہ شاید ہی قدرت کی کوئی ایسی نعمت ہو جو ہر رنگ میں قابل توجہ ہو۔۔ بند کلی سے لیکر کھلی پتیوں تک ہر صورت خوبصورت۔۔ شاخ پر لہرائے تو اس کی شان۔۔ توڑ کر اکٹھے کرے تو بنے گلدان، کبھی گلے کی مالا، کبھی بانہوں کا گجرا، کبھی سہرے کی لڑیاں ، کبھی مزار کی چادر، کوئی دن بھر رعنائی بکھیرتا ہے اور کوئی رات کو خوشبو، کبھی رات کی رانی، کبھی دن کا راجا، مکھی بیٹھ کر اُڑ جائے تو شہد بنانے کے قابل ہو جائے ، اُسے نچوڑ لیا جائے تو عطر بن جائے، گلقند بنائے تو دل کی دوا ہو جائے ، ہر رُوپ حسین ، ہر انداز دلکش ، تروتازہ ہو تو کسی حسینہ کے بالوں میں لگے۔۔ سوکھا ہو تو کتابوں میں ملے، شاخ ہی پر بکھر جائے تو بھی جاتے جاتے اپنی نسل بڑھانے کیلئے بیچ چھوڑ جائے، ایک ایک پھول کی درجنوں قسمیں۔۔ نام ایک مگر شکلیں کئی، رنگ کئی، فائدے کئی، کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخر پھول کیا ہے ، کیا نہیں ہے۔۔؟
کچھ سمجھ آتی ہے تو یہ کہ پھول مالک حقیقی کے حسن کا محض معمولی سا اظہار ہے، معمولی اس قدر شہکار ہے تو فنکار کیا ہوگا۔۔؟ تخلیق کا یہ کمال ہے تو خالق کا کیا ہوگا۔۔؟ وہ خوبصورت ترین ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتاہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق