تازہ ترین

کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین اور ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ کا متاثرہ مقام کا دورہ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) پیر کے روز سوسوم میں برف کے تودے کے نیچے دب کر لاپتہ ہونے والے طالب علموں کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا ۔ تاہم کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین اور ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے ہیلی کاپٹر پر متاثرہ مقام کا دورہ کیا ۔ اور متاثرین سے مل کر امدادی کاموں کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاشوں کی بازیابی کیلئے ہر قسم کی کوشش کی جائے گی ۔ اور اس سلسلے میں چترال سکاؤٹس کے جوان امدادی کاروائیاں جاری رکھیں گے ۔ کمانڈنٹ نے کور کمانڈر پشاور لفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور جی اوسی ملاکنڈ ڈویژن جنرل نادر خان کی طرف سے ہمدردی کا پیغام پہنچایا ،اور پاک آرمی ، چترال سکاؤٹس کی طرف سے لاشوں کی بازیابی تک ہرقسم کی مدد فراہم کرنے کااظہار کیا ، ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے کہا ، کہ سوسوم کے لوگوں پر ایک انتہائی مشکل وقت آیا ہے ۔ اور اس غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ،انہوں نے کہا کہ لاشوں کی بازیابی کو ممکن بنانے کیلئے این ڈی ایم اے کی سپشلائزڈ کل تک چترال پہنچ رہی ہے ، جس کے بعد انشاللہ کامیابی ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے تین تین لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ جانی نقصان کا متبادل نہیں ۔ اس موقع پر مقامی کمیونٹی کی طرف سے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل کریم آباد محمد یعقوب خان نے کماڈنٹ چترال سکاؤٹس اور ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ کا انتہائی شکریہ ادا کیا ۔ کہ حادثے کے فوراً بعد نہ صرف رابطے میں ہیں ۔ بلکہ ہر ممکن مدد کی فراہمی کی جارہی ہے جبکہ سابق ناظم سلطان شاہ نے اس حادثے کے زمہ دار محکمہ ایجوکیشن چترال کو قرار دے کر حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کہ اس واقعے کی انکوائری کی جائے ۔ کیونکہ ہرتہائی سکول کی بلڈنگ 2013 میں تیار ہوچکی ہے لیکن پوسٹ نہ دینے کی وجہ سے یہ طلباء مجبورا اس خطرناک راستے سے دوسرے سکول جانے پر مجبور ہوئے ۔ اور جان کی بازی ہار گئے ۔ درین اثنا چترال سکاؤٹس کے پچاس ، پولیس کے پچیس ، لویز کے جوان اور فف کے رضا کار سمیت سینکڑوں مقامی افراد امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں ۔ لیکن جگہ خطرناک ہونے اور لاشوں کے بارے میں صحیح طور پر نشاندہی نہ ہونے کے سبب مزید لاشیں بر آمد نہ ہو سکی ہیں ۔ وہ پیر کے روز سوسوم میں ہونے والے حادثے کے مقام کی وزٹ سے واپسی کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے، انہوں نے کہا ۔کہ علاقہ انتہائی دشوار گزار ہے ، وادی میں ڈھائی سے تین فٹ برف پڑی ہے ، اور جائے حادثہ تک پہنچنے کیلئے تین گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ اس لئے وہاں مشینری پہنچانا انتہائی مشکل ہے ۔ کیونکہ سڑکین بھی اس قابل نہیں ہیں کہ بھاری مشینری پہنچائی جا سکے ۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں آٹھ سٹوڈنٹس اور ایک عام مقامی شخص جان بحق ہوئے ہیں ۔ جبکہ ایک سٹوڈنٹ معجزانہ طور پر بچ گیا ہے ۔ لیکن حادثہ کے روز وہ اس پوزیشن میں نہیں تھا ۔ کہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں والوں نے پہلے ہی وارننگ دی تھی کہ یہ راستہ آمدورفت کیلئے خطر ناک ہے ۔ لیکن وقوعہ کے روز سکول کے ان بچوں نے جلد بازی میں یہ راستہ اختیار کیا ، اور حادثے کا شکار ہوئے ۔لیکن برف کے تودے کی آواز اتنی گرجدار اور خوفناک تھی ۔ کہ بچ جانے والا بچہ اپنا حواس کھو بیٹھا ۔ اور رات گئے تک کوئی بات نہیں کر سکا ۔ انہوں نے کہا، کہ لاشوں کی تلاش کیلئے سراغ رسان کتے استعمال کئے گئے ہیں ۔ اور اُن کی نشاندہی شدہ چھ مقامات پر کھدائی کاکام کرنے کی حکمت عملی کی جارہی ہے ۔ لیکن اس جگہ پر کھدائی میں بھی بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔ اور اُ ن کے ساتھ مالی مدد بھی کی جارہی ہے ۔ کمانڈنٹ نے کہا کہ مقامی لوگوں کے مطابق برف کو صاف کرنے کیلئے کھدائی سے بہتر پانی کا استعمال ہے ۔ جو کہ پلاسٹک کے موٹے پائپ کے ذریعے پانی دوسرے جگہے سے وہاں پہنچائی جائے گی ۔ تاہم یہ کام بھی کوئی زیادہ قابل عمل نہیں لگتا ۔ انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ کے اوپر کچی برف ہے ۔جس کا کسی بھی وقت دوبارہ گرنے کا امکان ہے ۔ اس لئے وہاں انتہائی احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ مزید کوئی جانی نقصان نہ ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال سکاؤٹس کے جوان مستعد ہیں ۔ اور کسی بھی حالات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق