مضامین

صدا بصحرا……23 مارچ اور مطالعہ پاکستان

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….
سیمینار کا انتظام بہت اعلیٰ تھا ۔لیکن آخر میں سوال وجواب کی نشست نے سارا معاملہ برباد کردیا ۔عنوان تھا ،23 مارچ اور مطالعہ پاکستان ، مقررین نے تحریک پاکستان کے پس منظر پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ۔آخر میں تاریخ کے پروفیسر کے ساتھ سوال وجواب کی نشست ہو ئی ۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے سوال کیا ۔کسی اور ملک میں اُس ملک کے مطالعہ کا مضمون نہیں ہے ۔نیٹ پر ہمیں مطالعہ امریکہ ، مطالعہ جاپان ، مطالعہ ترکی ،مطالعہ ایران ،مطالعہ بھارت کا مضمون نظر نہیں آتا ہے ؟ ہمار ے ہاں مطالعہ پاکستان کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ تاریخ کے پروفیسر نے کہا کسی اور ملک میں 23 مارچ اور 14اگست کی بھی اہمیت نہیں ہو تی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ملک کی اپنی تاریخ ہو تی ہے ۔طالب علم نے کہا یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے ۔تاریخ کے پر وفیسر نے کہا ،یہ ہماری تاریخ کا تقاضا ہے ۔طالب علم نے کہا 1981ء تک یہ ہماری تاریخ کا تقاضا کیوں نہیں تھا ؟ تاریخ کے پر وفیسر نے کہا قوم کو نظریہ پاکستان سے آگاہ کر نے کی ضرورت پہلے نہیں تھی ۔یا کسی نے اس کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا تھا۔ طالب علم نے پوچھا یہ گول مول جواب ہے ۔یہ بتائیے نظریہ پاکستان کب وجود میں آیا؟ پروفیسر نے کہا 23مارچ 1940ء کو قرار داد لاہور کی صورت میں نظر یہ پاکستان اخبارات کی زینت بن گیا ۔ طالب علم نے کہا اگر 23مارچ 1940 ء کو معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بن رہا ہے ۔پاکستان کا مطلب کیا لااللہ الااللہ مسلمانوں کا نعرہ ہے تو پھر دہلی ،ممبئی،لکھنو، دیوبند ،انبالہ ،ڈھاکہ ، پشاور، کراچی اور اولپنڈی کے جید علماء نے پاکستان کی مخالفت میں اکھنڈ بھارت کے حامی کانگریس کا ساتھ کیوں دیا؟ پاکستان بننے کے دوسال بعد قرارداد مقاصد لانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟ تاریخ کے پروفیسر نے ہار نہیں مانی۔انہوں نے دھیمے لہجے میں طالب علم کے سوال کا جواب دیتے ہو ئے کہا ۔اس دور میں دو تحریکیں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔پہلی تحریک انگریزوں سے آزادی کی تحریک تھی ۔دوسری تحریک ہندوؤں سے بھی آزادی حاصل کر کے پاکستان کے نام سے الگ ریاست اور ملک قائم کرنے کی تحریک تھی ۔انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے پر علما ء کرام متفق تھے۔سرخ پوش لیڈر خان عبدالغفار خان بھی متفق تھے ،۔لیکن ہندوؤں کی بالا دستی سے آزاد ہو کر پاکستان کے نام سے الگ ملک بننے پر اختلاف تھا ۔اس وجہ سے مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، مولانا انور شاہ کشمیری ؒ ،مولانا عطاء اللہ بخاری ؒ ،مولانا عبیداللہ سندھی ؒ ، مولاناابوالکلام آزاد نے قائد اعظم محمد علی جناح کی جگہ مہاتماگاندھی،جواہرلال نہرو،خان عبدالغفار خان اواکھنڈا بھارت کے دیگر حا میوں کا ساتھ دیا ۔قیام پاکستان کے بعد مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے اعلان کیا کہ پاکستان کی مثال مسجد کی سی ہے۔ اب علمائے کرام پر اس کی حفاظت واجب ہو گئی ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھائی۔ طالب علم کی تسلی نہیں ہوئی۔ اسنے سوال پھر دھرا دیا اور کہا کہ اس بحث میں مطالعہ پاکستان کہاں سے آیا؟ تاریخ کے پروفیسر نے کہا تم لوگ پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی حالیہ کاروائی نکال کر پڑھو۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے یہ نکتہ خود اٹھایا ہے کہ ہمارے نصاب کی کتابوں میں جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت کے 8فوائد اور آمریت کے 12فوائد کا ذکر آتا ہے۔ کیونکہ یہ نصاب آمریت کے دور میں آیا۔ آمریت کے دور میں اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ قوم کو ایسی کتابیں پڑھائی جائیں جو آمریت کے پھلنے پھولنے کے لئے مناسب ہوں۔ اس سلئے قرار داد مقاصد کو آئین کے اندر ڈال دیا گیا اور مطالعہ پاکستان کی ایسی شکل تشکیل کی گئی کہ 1949ء کی قرار داد ایک ہزار سال پرانی نظر آئے۔ کم از کم 100سال پرانی نظر آئے۔ کم از کم اس کا رشتہ 23مارچ 1940ء کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ اس سے نیا جھگڑا جنم لے گا۔ دو گروہ سامنے آئیں گے۔ ایک گروہ کہے گا۔ پاکستان اس ملک کے سیکولر لیڈروں نے ہندوؤں کی سیاسی، معاشی بالادستی سے آزادی کے لئے بنایا تھا۔ اس ملک میں عیسائی، پارسی، ہندو، مسلمان اور مسلمانوں کے مختلف فرقے سب آزادی کے ساتھ رہ سکیں گے۔ کاروبار کر سکیں گے۔ ملازمت کر سکیں گے۔ عبادت خانے بنا سکیں گے۔ اور ان پر کوئی قدغن یا پابندی نہیں ہوگی۔ اسکے مقابلے میں دوسرا گروہ سامنے لا یا جائے گا اس کے ہاتھ میں بندوق ہوگی۔ وہ گروہ کہے گا یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا۔ ہم نے اس کی سر توڑ مخالفت کی مگر یہ بن گیا۔ اس ملک میں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو رہنے کا حق نہیں ہے۔ کاروبار کا حق نہیں ہے۔ ملازمت کا حق نہیں ہے۔ عبادت خانے قائم کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہمارے پاس بندوق ہے۔ گولہ بارود ہے۔ بموں اور راکٹوں کازخیرہ ہے۔ خودکش جیکٹوں کا زخیرہ ہے۔ ہم اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے۔یہاں ہمارے حملوں سے کو ئی بھی محفوظ نہیں ہو گا ۔ہم یہاں کسی اور کو کاروبار، سیاست ، ملازمت اور عبادت کرنے نہیں دینگے ۔یہ نظریہ ٓامریت کے حق میں بہتر تھا ۔اس لئے آمریت کے دور میں اس نظریے کو طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا ۔پروان چڑھایا گیا ۔اب اس کا نام نظریہ پاکستان ہے۔تاریخ کے پروفیسر کی گفتگو طویل تھی مگر چشم کشاتھی۔طالب علم کی تسلی ہو ئی ۔اس کے بعد صدر مجلس نے بحث کو سمیٹتے ہو ئے قوم کو 23 مارچ کے دن یوم پاکستان کی مبارک باد دی ۔صدر مجلس نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت سیکولر ملک بن گیا ۔وہاں جا گیرداری نظام ختم ہوا، غریب کسان کا بیٹا ملک کا صدر یا وزیراعظم بن سکتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کے تمام فرقے ایک امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ۔وہاں محرم اور ربیع لاول کے جلسوں پر کو ئی جھگڑا نہیں ہو تا ۔پاکستان کو اگر 14اگست 1947 ء کے اعلان اور دستور ساز اسمبلی میں قائداعظم کی تقریر کی روشنی میں سیکولر ملک بنایا گیا ۔تو یہاں امن قائم ہو گا ۔فرقہ وارانہ فسادات ختم ہو نگے۔ خانہ جنگی کا کو ئی بہانہ نہیں رہے گا ۔ نظریہ پاکستان وہ ہے ۔جو 23 مارچ 1940 کے دن لاہور میں ایک قرار داد کی صورت میں منظر عام پر لایا گیا تھا ۔نظریہ پاکستان وہ نہیں جو قیام پاکستان کے دوسال بعد لکھا گیا ۔نظریہ پاکستان وہ ہے جس کی مخالفت میں علماء نے کا نگرس کا ساتھ دیا تھا ۔نظریہ پاکستان وہ ہے ۔جو اس قوم کو متحد کرے ۔وہ نہیں جو اس قوم کو آپس میں لڑادے ۔23مارچ اور مطالعہ پاکستان ہمیں کسی ایک سمینار میں نہیں ہر فورم پر ،ہر جگہ دعوت فکر دیتا ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى