
( رُموز شادؔ ) …..(یوم پاکستان)
……..( ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال)……
’’اپنے وطن کے لئے‘‘
یہ وطن۔۔۔یہ ہمارا وطن
خوشبوؤں کا چمن ۔۔رنگوں کا پیرہن
اس کی گلیوں میں بارود اور آگ پھیلانے والے
سبھی دشمنوں جان لو۔۔۔۔!
ہم نہیں جائیں گے
اس کی گلیوں کو بے آسرا چھوڑ کر
اپنی بستی کو جھلسا ہوا چھوڑ کر
ہجرتوں نے ہے پہلے ہی کملا دیا
اپنے گھر بار بستی زمین چھوڑ کر
تپتے خیموں میں ہم نے بسر کی شبیں
ٹھنڈے پانی کی اک بوند کو ہم ترستے رہے
اپنے ہم وطن بھائیوں سے ہے ہم نے وفا مول لی
اپنی آنکھوں میں آنسو سجائے ہوئے ہے دعا مول لی
اپنے ٹھنڈے پہاڑوں کی آغوش کے بے ردا چھوڑکر
ہم نہیں جائیں گے۔۔۔
دشمنوں جان لو۔۔۔۔!
بم دھماکوں سے ہوں گونجتی شاہراہیں بھلے
اپنے بچوں کی روحوں کو روتی رہیں بہنیں مائیں بھلے
آٹا روٹی نہ ہو بجلی پانی نہ ہو
میرے فوجی جوانوں کے ہاتھوں میں ان کی جوانی نہ ہو
یہ ہے جیسا وطن ۔۔۔ یہ ہے اپنا وطن
شہیدوں کے لہوسے جلائے چراغوں کو یوں بے نوا چھوڑکر
ہم نہیں جائیں گے۔۔۔ دشمنوں جان لو۔۔۔!
ہم نہیں جائیں گے۔۔۔!!
