نیاز اے نیازی

نیازیات۔۔۔….۔۔۔۔کمال کی آمد۔۔۔

۔۔۔۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ۔۔۔۔۔



کراچی انتظامی لحاظ سے پانچ اضلاع پر مشتمل پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔اسکی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے جوکہ پنجابی،بلوچی،سندھی،پشتو بولنے والوں کے علاوہ اردو بولنے والے مہاجرین پر مشتمل ہے۔اردو بولنے والے مہاجروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی بڑی تعدادکھوکھرا پار کے راستے کراچی اور حیدر آباد میں آکر آباد ہوئی۔1980تک کراچی امن اور سکون کا شہرتھا۔روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔یہ غریبوں کا شہرتھا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ حصول روزگار کے خاطر کراچی آگئے۔اُن میں پنجابی،سندھی،پٹھان اور بلوچی شامل تھیں۔یہ لوگ انسانی فطرت کے عین مطابق ایسے جگہوں پر آباد ہونے شروع ہوئے جہاں اُن کے ہم نسل ،ہم زبان،ہم علاقہ رہتے تھے۔جسکی وجہ سے کراچی شہر مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگوں کے مختلف علاقوں پر تقسیم ہوگیا۔ان لسانی اور نسلی گروہوں کی آبادی اور تعداد وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی۔80کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں مہاجرطلبا نے پہلی مرتبہ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس ارگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)کی بنیاد رکھی۔الطاف حسین پہلی بار طلباء لیڈر کے طورپر سامنے آیا۔اور اسی طلباء تنظیم کے کوک سے بہت جلد مہاجر قومی مومنٹ نے جنم لی۔کراچی میں نسلی ،لسانی تفروقات سر اُٹھانے لگے۔گولیاں چلی،لاشیں گرنے شروع ہوئے۔ہر نسلی اور لسانی گروہ اپنے تحفظ کی زمہ داری اپنے سر لینے لگا۔ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوئے،ہتھیار اُٹھائے۔اس نسلی اور لسانی پاؤر گیم میں ایم کیوایم کو برتری رہی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مہاجر قومی مومنٹ ایک لسانی سیاسی جماعت کے طورپر سامنے آئی۔چار دہائیوں سے کراچی اور حیدر آباد کے سیاہ وسفید کا مالک بن گئی۔ایم کیوایم کے خلاف کئی فوجی اپریشن ہوئے۔اُن پر را سے فنڈنگ اور دہشت گردی کے الزمات کی ایک لمبی کہانی ہے۔الطاف حسین گالی اور گولی کی زبان پسند کرتے ہیں۔اس لئے اُن کے لئے گالی کوئی بُری چیز نہیں ہے۔آخر کار ریاست اپنی زمہ داری احساس کرتے ہوئے کراچی میں حالیہ ٹارگیٹیڈاپریشن کا آغاز کیا گیا۔نسلی اور لسانی گروہوں سے ہتھیار واپس لینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک دوسرے کے خلاف جو مورچے بنائے گئے تھے اُن کو خالی کرایا گیا۔کراچی کی روشنیاں اورامن وسکون بحال ہونے لگی۔اچانک کراچی کے سابق میئرسید مصطفی کمال کراچی آکر پریس کانفرنس میں الطاف حسین کو دہشت گرد اور را کا ایجنٹ اور کراچی میں اب تک کی تمام خرابوں کا زمہ دار ٹھہرایا۔اور ساتھ ہی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔مصطفی کمال کی آمد ’’کمال کی آمد‘‘ ہے ۔اُن کی آمد نئی بوتل میں پرانی شراب بھرنے کے مترداف ہے۔کیونکہ اُن کو پتہ ہے کہ الطاف حسین کثرت شراب نوشی اور خرابیِ صحت کے وجہ سے مہاجروں کی مزید قیادت نہیں کرسکینگے۔اُن کو یہ بھی علم ہے کہ اب کراچی میں گالی اور گولی کی سیاست نہیں ہوگی۔اب شرافت کی سیاست کا وقت آگیا ہے۔مہاجر پالیسی سازوں اور خود الطاف حسین کی مرضی اور منشا بھی یہی ہے کہ ایم کیو ایم کو کسی دوسرے نام سے قائم ودائم رکھا جائے۔مہاجر قوم الطاف حسین کو کل بھی اپنا نجات دہندہ اور لیڈر سمجھتی تھی اور آج بھی سمجھتی ہے۔مہاجر قوم الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دہشت گرد ہونے اور را کا ایجنٹ ہونا کل بھی جائز سمجھتی تھی اور آج بھی جائز سمجھتی ہے مگر فرفق اتنا ہے کہ اب الطاف حسین کثرت شراب نوشی سے علیل ہے اب وہ ویل چیئر پر ہے اُن کی گفتگو بھی بے رتب ہوچکی ہے۔جو اُن کے کچھ عرصے پہلے نشر ہونے والے بیانات سے بھی ظاہر ہوتی تھی۔اُنہوں نے کئی بار پاک فوج کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دئیے۔جس کی توقیر سارے پاکستانی کرتے ہیں۔اُن کی پارٹی سے جُدا ہونے والے اُن کے بارے میں بہت سے باتیں بتاتے ہیں۔یہ اندازہ اسکاٹلینڈ یارڈ پولیس کے اس فیصلے سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش جاری رہیگی تاہم اُنہیں تھانے حاضر ہونے سے مستثنیٰ کردیا گیا۔اس میں بھی شاہد یہی مصلیحت کارفرما تھی کہ اُن کے خلل صحت کی اثرات کی خبر عام نہ ہو۔ایم کیو ایم کا ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ الطاف حسین کی موت کی صورت میں مہاجر قوم کو یکجا اور متحد رکھنے کے لئے مصطفی کمال ہی پاکستانی اسٹپلشمنٹ اور وقت کے کردار سازوں کو قابلِ قبول ہوگا۔غیر مہاجر الطاف حسین اور اُن کی سیاست کو ناجائز ،ظلم اور بربریت سمجھتے ہیں مگر کراچی کا مہاجر اس سیاست اور اس تحریک کو جائز اور انصاف پر مبنی سمجھتا ہے۔ایڈولف ہٹلر کو دنیا ظالم اور جابر سمجھتی تھی ،جرمن قوم اُن کو اپنا نجات دہندہ اور ہیروہ سمجھتی تھی۔یہی حال الطاف حسین اور مہاجروں کا ہے۔مصطفی کمال کی نئی سیاسی جماعت کا نام پاکستان قومی مومنٹ ہوگا ۔یہی مہاجر اس نئے پارٹی کے کارکن ہونگے،فرق اتنا ہوگا کہ اب کے بار سلیم بچھو،اسلم کانا،ندیم لنگڑا اور اجمل پہاڑی کے جگہے سلیم احمد ،محمداسلم،ندیم احمد اور محمداجمل ہونگے۔الطاف حسین کی جگہ مصطفی کمال ہوگا۔جب الطاف حسین کا جنازہ کراچی ائیرپورٹ پر اُترے گا یہی مصطفی کمال اُ ن کے جنازے کو کندھا دے گا۔اور اُن کی لاش لحد میں اُتارے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق