ارشاد اللہ شاد

( رُموز شاد ؔ ) ’’انسان کی فضیلت ‘‘

…….( ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال)…….


قدرت کا یہ احسان عظیم ہے کہ انگنت صلاحیتوں اور احساسات کو یکجا کرتے ہوئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ بجائے انسان کے حیوان یا کوئی چرند پرند کی شکل دے دیتا۔ قدرت نے انسان کو ایک نہایت ہی خوبصورت سانچے میں ڈھالاہے اور اس کے جسم کے ہر عضو کو توانا ، کار آمد اور کامل بنایا ہے ، ایسی بھی صورتیں ہیں کہ کسی مصلحت کی بنا پر قدرت نے انسان کو کسی عضو یا احساس سے جزوی یا کلی طور پر محروم کر دیا اور اس کو پیدائشی بد صورت یا بیمار یا پھر معذور بنا دیا یا بجائے کسی ممتاز و معزز قوم، قبیلے یا خاندان میں پیدا کئے جانے کے اس کے بر عکس عمل کیا۔
در حقیقت معذور وہ ہے جو اپنے آپ کو لا چار و مجبور سمجھے یا کسی معقول یا حتیٰ کہ معمولی کام کی انجام دہی میں بھی اپنی معذوری کا عذر پیش کرتے ہوئے خود کو دوسروں کے رحم و کرم کے حوالے کردے۔ قدرت کا ایک اٹل اصول و فطری مصلحت ہے کہ ہم میں سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی چھوٹی یا بڑی خامی میں مبتلا اور نقص سے دوچار ہے۔ ہم صرف ایک نا مکمل شخص کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کوئی بھی یہ دعویٰ کبھی نہیں کر سکتا کہ وہ ہر زاویہ سے ایک مکمل شخصیت ہے۔ زندگی کے اس طویل سفر میں کہیں نہ کہیں اس کا نقص و لاچاری ابھر کر آتی ہے۔ اس لئے مایوس ہونے اور افسوس کرنے کی بجائے ہم کو اپنی خامیوں سے آگاہ ہونا اور ان کو قبول کرنا چاہیے۔
اس دنیا میں کوئی شخص یا چیز باوجود اپنے نقص اور خامی کے نا کارہ اور بے مصرف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان نقائص کو بہتر طور پر استعمال کرنے اور دنیا کو فیضیاب ہونے کے مواقع فراہم کر تا ہے تا کہ انسان میں یہ خوشگوار احساس پیدا ہو کہ اس کی زندگی ان خامیوں کے باوجود اس کے لئے بلکہ دنیا اور اس کے خاندان کے لئے خوبصورت تحفہ ہے۔ یہ حقیقت صرف اور صرف محسوس کرنے ، جاننے اور عمل کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔
دنیا میں بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ بالکل معذور انسانوں نے جو پیدائشی طور پر یا پیدائش کے بعد کسی مہلک بیماری یا کسی حادثہ کے باعث کسی عضو کی خرابی یا خامی اور صلاحیت سے جزوی یا مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں، اپنی معذوری کے باوجود زندگی کا دلیرانہ مقابلہ کیا، حالات سے نبرد آزماہوئے اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے وقت کی نہایت ہی کامیاب اور مثالی شخصیت بن کر ابھر ی اور دنیا ان کی تعظیم و تکریم کرنے پر مجبور ہوئی۔ رشک آتا ہے اور حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں کے بڑے کارناموں پر جن کی توقع بھی ان سے نہیں کی جا سکتی ، مگر وہ کام ان لوگوں نے کر دکھایا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق