تازہ ترین

ضلع کونسل کے اجلاس کی کاروائی میں جے یو آئی کے اراکین کے خیالات کو حذف کرانے کی مذمت کرتے ہیں/ارکین ضلع کونسل جے یو آئی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) جمعیت علماء اسلام کے اراکین ضلع کونسل قاضی فتح اللہ اور خاتون رکن ضلع کونسل نگہت پروین کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ پریس ریلیز میں ضلع کونسل کے گذشتہ کاروائی کے اجلاس کے منٹس میں جمعیت کے دو اراکین کی تقاریر کو کاروائی کے منٹس سے حذف کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ضلع نائب ناظم کی بوکھلاہٹ اور جانبدارانہ رویہ قرار دی ہے۔ ایک اخباری بیان میں جمعیت علماء اسلام کے ممبران ضلع کونسل نے کہا کہ شاید ضلع نائب ناظم نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور دیگر قانونی دستاویزات کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور ضلع کونسل کو اپنے مرضی کے مطابق چلا نے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ قابل مواخذہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معزز ممبران کی طرف سے ضلع کونسل کے اندر کہی باتیں اور تقاریر کونسل کی ملکیت ہوتی ہیں اور کونسل کے اندر کی گئی تقریر کو منٹس سے حذف کرنا بد نیتی پر مبنی اور غیر قانونی ہے ۔انہوں نے کہا ضلع نائب ناظم کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس قسم کی باتیں کاروائی سے حذف کئے جا سکتے ہیں اور اسکے لئے بائی لاز میں کیا طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے اجلاس میں تمام معزز اراکین کو معلوم ہے کہ جمعیت کے دو ممبران کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ، حاجی رحمت غازی اور رحمت الٰہی پر مشتمل کونسل کے معزز اراکین کے ایک وفد نے جے یو آئی کے ممبران کیساتھ ملاقات کی اور انہیں بائی کاٹ ختم کرنے کا کہا جس پر قاضی فتح اللہ کی قیادت میں بائیکاٹ ختم کر کے دوبارہ کاروائی میں حصہ لیا گیا۔ اجلاس کے کاروائی کے منٹس میں بائیکاٹ کا تو ذکر موجود ہے مگر بائیکاٹ ختم کرنے کا ذکر موجود نہیں جوکہ قابل مذمت فعل ہے۔کونسل میں تقریر کرتے ہوئے قاضی فتح اللہ نے اپنے حلقہ انتخاب یعنی’’ بروز وارڈ ‘‘کے مسائل کی نشاندہی اور عوامی مشکلات پر ایک تفصیلی تقریر کی تھی ، نیز ضلع نائب ناظم کی طرف سے اے ڈی پی اسکیموں کے حوالے سے معاندانہ روئیے پر بات کی ۔قاضی فتح اللہ نے اپنی تقریر میں اقلیتوں کے مسائل اور حقوق، خواتین اور نوجوانوں کے مسائل پر خصوصی بات کی۔ ان تمام باتوں کو متعصبانہ طور پر اجلاس کی کاروائی کے منٹس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح خاتون رکن ضلع کونسل نگہت پروین نے بحیثیت ممبر ضلع کونسل ضلع نائب ناظم کی طرف سے جے یو آئی کے چار اراکین کے ADP اسکیموں کے حوالے سے روا رکھے گئے رویے کی مذمت کرتے ہوئے معزز ایوان کو آگاہ کی تھی کہ کس طرح ضلع نائب ناظم متعصبانہ رویے کے تحت غیر قانونی طور پر ہمارے اے ڈی پی اسکیمیں روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے حالانکہ یہ ضلع نائب ناظم کو بخوبی معلوم ہے کہ وہ ایسا کرنے کے اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی مجاز ہیں۔ مگر ضلع نائب ناظم نے متعصبانہ رویے کا ایک بار پھر مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری تقاریر ، مطالبات وغیرہ کو منٹس میں شامل نہیں کرایا ہے جوکہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ضلع کونسل چترال کے معزز ایوان اور اس کونسل کے معزز ممبران کی تضحیک ہے جس سے ممبران اور ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ جے یو آئی کے اراکین ضلع کونسل نے کہا کہ ایک کرسی حاصل کرنا آسان ہے مگر اس کیساتھ انصاف کرنا ہی اصل بڑا پن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کاروائی کسی کی جاگیر نہیں ہوتی بلکہ وہ مقدس ایوان کی ملکیت ہوتی ہے ، قانون کے مطابق ضلع نائب ناظم جو کہ ایوان کا نگران اور تعصب سے بالاتر ہوتا ہے لیکن اسی نے قانون اور کونسل ضوابط کی دھجیاں اڑا دی ہے جس کے خلاف ہم صوبائی ’’ لوکل گورنمنٹ کمیشن‘‘ میں درخواست دائر کرنے کیساتھ ساتھ تمام قانونی راستہ اپنائینگے۔ انہوں نے ضلع نائب ناظم کے روئیے کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کے بعد ضلع نائب ناظم ایک مرتبہ پھر اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور وہ اس عہدے پر برقرار رہنے قابل نہیں رہے اور انہیں اپنی متعصبانہ اور معاندانہ و غیر قانونی حرکات کا ادراک کرتے ہو اخلاقی پر اپنے عہدے فوری مستعفی ہونی چاہئے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق