اقبال حیات آف برغزی

(دو راستے )

تحریر : اقبال حیاتؔ آف برغوزی …….
چترال کے مرکزی ہسپتال میں زیر علاج ایک قریبی رشتہ دار کی عیادت کر کے شام ڈھلے ہسپتال کے اکلوتے دروازے سے باہر نکل کر چند گز کے فاصلے پر گئے تھے کہ سامنے سے ایک پختہ عمر کے شخص نے آتے ہوئے سلام کر کے ہسپتال کے راستے کے بارے میں پوچھا ۔ یہ سوال سنکر ایک شخص بڑ بڑا کر یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ ایسے لوگوں کو لیکر امریکہ کو للکارنا دور کی بات اورغوچ کی طرف بھی بُری نظر سے دیکھنے کی گنجائش نہیں۔
اس شخص کا سوال حیران کن نہیں بلکہ ہسپتال اور عدالت کے راستوں سے نا آشنائی دور حاضر میں ایک بہت بڑی نعمت سے کم نہیں ۔ کیونکہ ان دنوں اداروں کے اندر انسان کا سکون غارت ہوتا ہے ۔ اور مالی طور پر نقصان کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔ ان دونوں اداروں کے چنگل میں پھنسنا “آبیل مجھے مار کے مصداق ہو تا ہے ۔ کیونکہ اگر اسلامی معاشرے کے اساس کی حیثیت سے اپنے بھائیوں کے مابین اصلاح کر نے کی تاکید جیسے حکم خداوندی کی پزیرائی ہوجائے تو عدالتوں کے راستوں سے نا آشنائی ہوگی ۔ پھر بھی عدالت سے واسطہ پڑنے پر انصاف کی فوری فراہمی کی فضا قائم ہو تو تنازعات عداوت کے رنگ میں کر کناک زندگی سے دوچار نہ کرتیں ۔ اسی طرح ناقص ملاوٹی اور غیر معیاری خوراک سے شکم سیری اور ساتھ ساتھ تن آسانی مختلف امراض کے محرک ہوتے ہیں ۔ جن کے مداوے کے لئے ہسپتال کا رخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔
سرکار دو عالم ﷺ کی حیات طیبہ میں ایک طبیب مدینہ منوّرہ آتے ہیں ۔ اور ایک سال قیام کے بعد واپسی کا ارادہ کر کے الوداعی ملاقات کے لئے سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔ آپ ﷺ ان کی واپس وطن جانے کی وجہ دریافت کرنے پر طبیب کہتے ہیں ۔ کہ ایک سال کے دوران ایک مریض کو بھی دیکھنے کا موقع نہ ملا ۔اس لئے یہاں رہنا بیکار ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ اسکی وجہ بتا تے ہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ یہاں کے مکین انتہائی سادہ اور پیٹ کی آگ بجھانے کی حد تک محدود خوراک کر تے ہیں ۔ اس لئے امراض سے واسط پڑنے کا سوال ہی پید نہیں ہوتا ۔ اس تناظر میں ہم اگر خود احتسابی کریں گے تو خود کر دہ راعلاج نیت کی کیفیت اجا گر ہوتی ہے ۔ ایسے میں جہاں مختلف امراض کے علاج کے لئے دستیاب سہولیات کا تعلق ہے اس سلسلے میں ہم اپنے علاقے کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دوسروں کے کم تصور نہیں کر سکتے البتہ یہاں انسانوں کو لاحق ہونے والے مختلف امراض کی تشخیص کے لئے درکار دور حاضر کے جدید آلات سے محرومی کا ذکر کر نا نیند میں بڑ بڑانے کی مانند ہے ۔ صرف نبض دیکھ کر مرض کی تشخیص کر نا سائنسی ارتقا پر ماتم کر نے کے مترادف ہے ۔ ہمارے مرکزی ہسپتال کو بجلی کی سہولت بھی میسر نہیں اور جان بلب مریضوں کو کندھوں پر اٹھائے پرائیویٹ اداروں میں کاروباری ایکسروں پر گزارا جاتا ہے ۔ عجیب طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے اندر بجلی کی فراہمی کے لئے بھاری بھر جنریٹر براجمان ہے مگر وہ بھی مطلوبہ خوراک سے محروم ہونے کے سبب بے سدھ پڑاہے ۔ صاحب ثروت لوگ پیسے اور تعلقات کی بنیاد پر اپنے لئے آسائیش پیدا کر سکتے ہیں ۔ اور غریب کو بابائے آدم کے زمانے کے بستر پر پاؤں رگڑنا پڑتا ہے ۔ ہسپتال کے اندر محدود چند باتھ رومز کے اندر سر ڈالتے ہی انسان پر غشی طاری ہوتی ہے ۔
ہم سب سے زیادہ وفادار پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اپنے صوبے کی حکومت کے سرپرست کی حیثیت سے محترم عمران خان صاحب سے بجا طور پر یہ تقاضا کر سکتے ہیں کہ ہمارے علاقے کی دور افتا دگی اور پسماندگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمارے ضلعے کے مرکزی ہسپتال کو حفظان صحت کی جدید سہولیات مہیا کر کے یہاں کے عوام کو درپیش اس بنیادی اور اہم نوعیت کے حامل مسئلے کے تدارک کا احتمام فرمائیں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق