ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )’’اپنی اصلاح آپ کریں‘‘

…….. ( ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال)…….


اللہ کی مخلوق کم و بیش چھتیس ہزار ہے ، جس میں انسان بھی ایک ہے ۔ اللہ نے انسان کو جو خوبیاں عطا کی ہیں ایسی خوبیاں کسی بھی خلق میں نا پید ہے۔ انسان کو اللہ نے سب سے بڑا تحفہ نطق کا دیا ہے۔ انسان کو اللہ نے اعضاء و جوارح عطا کئے جس کا استعمال انسان اچھے یا بُرے کاموں میں کرتا ہے ۔ اور سب سے بہترین عطیہ اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ اس نے انسان کو عقل و فہم اور دانائی سے نوازا ہے ۔ اس کیلئے زمین و آسمان مسخر کیے اور اپنی نشانیوں کو انسان کے سامنے بیا ن کیا تا کہ انسان کا عقیدہ اور ایمان پختہ ہو جائے اور انسان اس کی اطاعت کریں ۔
انسان غلطیوں اور گناہوں کا پتلا ہے۔ غلطی کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے، اس کے باوجود اللہ نے اپنے بندوں کی مغفرت کا وعدہ کیاہے لیکن کچھ ایسے بھی انسان اس دنیا میں بستے ہیں جو صرف دوسروں کی غلطیوں پر انگشت نمائی کرتے ہیں اور دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ لیکن شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اندر بھی کچھ خامیاں ہیں۔ ان کے اند ر بھی برائی کے کچھ عنصر موجود ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان خود اپنی خامیوں اور غلطیوں کو نہیں گنواتا بلکہ اپنی غلطی اور کوتاہی کو چھپانے کیلئے دوسروں کے عیوب کو عیاں کرتاہے۔
چنانچہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جتنا آسان غیروں کی عیب جوئی کرنا ہے اتنا ہی مشکل خود شناسی ہے۔ ہم دوسروں کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا سکتے ہے مگر، اپنی اصلاح کی معاملے میں کوتاہ نظر آتے ہیں۔ایک بات قابل غور بھی ہے اور قابل مشاہدہ بھی کہ اگر ایک انگلی ہم کسی کی غلطی کی جانب اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں ہماری جانب اٹھ جاتی ہیں، اس وقت بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ شاید ہی خامی ہمارے اندر بھی موجود ہو ، اور یہ بات صد فیصد سچ ہے کہ جب تک ہم اپنے قول پر عمل نہیں کریں گے ہم دوسروں کو اس کے زیر اثر نہیں لا سکتے۔ یہی کمی ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور ہم اسے ’’ نا ممکن‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ اگر ہماری سوچ میں گہرائی اور گیرائی ہو تو یہی نا ممکن ہماری کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ لفظ نا ممکن سے ’’ نا‘‘ نکال دیں تو ’’ممکن‘‘ ہو جاتا ہے اور ہم اسے با آسانی انجام دے سکتے ہیں۔ ’’ نا‘‘ لفظ ہی تو تمام جدوجہد اور کاوشوں کی جڑ ہے ۔ اسی ’’ نا‘‘کیلئے تو ہم بار بار کوشش کرتے ہیں اور یہی ’’ نا‘‘ ہماری راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ تمام تگ و داسی ’’ نا‘‘ کے لئے ہوتی ہے۔
نیپولین بونا پارٹ کی کامیابیوں کا راز اسی ’’ نا‘‘ یا نہیں میں مضمر تھا۔ بقول نیپولین ، اس کی زندگی کی لغت میں لفظ ’’ نہیں ‘‘ یا ’’ نا‘‘ نہیں ہے۔ کچھ یہ داستان انگریزی کے لفظ Imposibleکی ہے۔ انگریزی میں سلیس انداز میں اس لفظ کو ادا کرکے کسی کام کے نا ہونے کی مہر ثابت کر دیتے ہیں ، لیکن یہی لفظ خود متکلم کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ اس میں جو راز مخفی ہے وہ خفیف سی کاوش کے بعد عیاں ہوتا ہے۔ یہی Imposibleجو اپنی زبان سے کہتا ہے IM (am) posibleیعنی یہ نا ممکن چیخ کر کہتا ہے ’’ میں ممکن ہوں ‘‘ پھر بھی ہماری فہم و فراست اس کو قبول نہیں کرتی۔
بعض اوقات انسان یہ کیوں سوچ لیتا ہے کہ اگر اس میں کوئی خامی ہے تو وہ دور نہیں ہو سکتی ، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ اگر انسان کوشش کرے تو کیا کچھ نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ انسان اپنی اندر اچھی عادتیں پیدا کرکے ایک مثال قائم کرے۔ بلکہ ہوتا تو یوں ہے کہ ’’ اندھے کے ہاتھوں میں چراغ‘‘ جس سے اندھے کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ دوسرے اس سے مستفید ہوتے ہیں۔
ہم دوسروں پر ہنستے ہیں اور دوسرے ہماری ذات سے اپنی اصلاح کرتے ہیں ۔ ہم دوسروں کی غلطیوں پر ہنستے ہیں ، ہم دوسروں کی قابلیت دیکھ کر حسد کرتے ہیں ، جبکہ ہونا تو یوں چاہیے کہ بجائے حسد کے ہم ان پر رشک کریں اور اپنے اندر اتنی زیاد ہ قابلیت و اہلیت پیدا کریں کہ وہی ہماری طاقت بن جائے۔ دوسروں کو ٹوکنے سے زیادہ بہتر ہے کہ اپنی اصلاح کی جائے۔یہ کام اُسی وقت شروغ کریں کہ ہماری نظر اس سوال پر جائے کہ کیسے شروغ کریں اور کہاں سے شروغ کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس سے پہلے کچھ نہ ہوا ہو ، اسے شروعات کہتے ہیں بالکل اسی طرح اگر ہم خود اپنی اصلاح کے بارے میں آج ہی سے ابتداء کریں اور دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا شروغ کریں تو شاید بہت حد تک ہم ایک کامیاب زندگی گزارنے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق