مضامین

صدا بصحرا….اشیائے خوراک میں دو نمبری

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ……

اپریل کا مہینہ آتے ہی شہروں میں آئس کر یم کا موسم آتا ہے ۔پہاڑی علاقوں میں آئس کر یم کے ہا کر مئی جون کے مہینوں سے آنا شروع ہوجا تے ہیں۔چارسدہ تنگی،بنوں ،لکی مروت ،پبی اور نو شہرہ کے مضا فات میں دو نمبر آئس کریم کھانے والے بچوں میں بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں ۔والدین حیران ہیں کہ کیا کر یں۔ کس کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں۔ سول انتظامیہ ، پو لیس اور محکمہ خوراک نے جعلی اشیا ء کے بیو پا ریوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔اوپر سے سیاسی دباؤ ہے کہ ملاوٹ کر نے والوں کو نہ پکڑو۔جعلی اشیاء بیچنے والوں کے ساتھ پنگا لینے کی کو شش نہ کرو ۔ورنہ ھم سے بُرا کو ئی نہ ہوگا ۔ایک سروے کے نتیجے میں معلوم ہو ا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں 50فیصد ملاوٹ شدہ اور جعلی اشیائے خوراک کی خرید و فروخت ہو تی ہے ۔پہاڑی علاقوں میں یہ شرح 78 فیصد ہے ۔بعض جگہوں پر 80 فیصد سے اوپر ہے ۔چائے، حلوہ ،گھی ،چینی ،مٹھائی ،مصالحہ اور کھانے کے تیل میں ملاوٹ سب کے علم میں ہے ۔چپس (chips) ، ،بسکٹ ، چیونگم ،ٹافی ،چاکلیٹ وغیرہ میں ملاوٹ اور جعلسازی کا بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ٹھنڈے مشروبات ، کوک ، پپسی ،ڈیو ، سیون اپ وغیرہ میں ملاوٹ سے بہت کم لوگ باخبر ہیں ۔شربت انار ،شربت صندل اور دیگر مشروبات میں ملاوٹ کا علم بہت کم لو گوں کو ہے ۔خربوزے کو سرخ پانی کا انجکشن لگا کر فروخت کر نے سے لوگ واقف ہیں ۔تربوز اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کو انجکشن کے ذریعے وقت سے پہلے بازار لاکر بیچنے کے لئے کوشش کر نے والے فنکاروں سے عوام واقف نہیں ہیں ۔کباب ،مرغی اور گوشت کے کاروبار میں دو نمبری کا علم سب کو ہے ۔گندم کی روٹی میں دو نمبری کا علم بہت کم لو گوں کو ہے۔ سب سے زیادہ دو نمبری ادویات کے کاروبار میں ہو رہی ہے ۔آپ مینگورہ ، تیمرگرہ ،چترال یا دیر کے رہنے والے ہوں ۔ہا ضمہ یا سردرد کے لئے ڈاکٹر نے دوالکھی ہو ۔دوا کی بوتل کو لیکر اسلام آباد ، لاہور یا کراچی میں تلاش کر یں ،یا کیپسول کا ڈبہ ،گو لی کا پلتہ ہاتھ میں لیکر لاہور میں کیمسٹ کے بارہ دکانوں پر گھو منے کے بعد آپ کو بتایا جائے گا کہ یہ دوا صرف بٹ خیلہ اور درگئی میں بنتی ہے ۔کسی بھی قانونی کا رخانے میں یہ دوا س پیکٹ کے ساتھ اس نام کے نہیں بنتی ۔آپ کا دوست اگر ٹھنڈے مشروبات کا کینٹین کسی بڑے ہسپتال میں چلا رہا ہو ۔آپ اس کینٹین پر جا ئینگے تو وہ عام گا ہکوں کو سپلائی ہو نے والی بوتل آپ کو نہیں پلائے گا۔ الگ ریفر یجر یٹرکاتالہ کھو لے گا اور آپ کو بوتل پیش کر ے گا ۔وجہ یہ ہے کہ اس جگہ اصلی مال رکھا ہے ۔باقی سارے ڈیپ فریز رجعلی مال سے بھرے ہو ئے ہیں ۔جعلی مال پر 50 فیصد کمیشن ملتا ہے ۔اصلی مال پر 10فیصد کمیشن دیتے ہیں ۔اس لئے انتظامیہ کے آفیسروں کے لئے اصلی مال الگ رکھا ہے جو دن بھر کے کا روبار کا 5 فیصد ہے ۔باقی 95فیصد کاروبار جعلی مشروبات کا چل رہا ہے۔مریض ، مریضوں کے لواحقین اور ڈاکٹر برادری کے لئے وہ مال رکھا ہو ا ہے جس پر 50 فیصد کمیشن ملتا ہے ۔یہی حال ادویات کا ہے ۔جعلی ادویات پر بونس ملاکر 60 فیصد تک کمیشن ملتا ہے ۔اصلی ادویات پر بمشکل 15 فیصد منافع دیا جاتا ہے ۔بچوں کی خوراک کے لئے بازار میں اور ریڑھیوں پر بکنے والی 90 فیصد اشیاء جعلی اور ملاوٹ شدہ ہو تی ہیں۔ ایک سروے میں ایسی 110 مصنوعات کی فہرست تیار کی گئی ہے جو بچوں کی مر غوب غذا کے طور پر دکانوں میں رکھی ہیں اور100 فیصد جعلی ،ملاوٹ شدہ اورکیمیکل زدہ ہیں ۔جعلی فیکٹریوں کے مالکان معاشرے کے معزز حا جیوں میں شمار ہو تے ہیں ۔8 بار حج کر نے کے بعد سالانہ عمرہ ادا کر تے ہیں ۔رمضان شریف کا مہینہ حرم شریف کے اندر اعتکاف میں گزارتے ہیں ۔سیاسی جماعتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں ۔اسمبلیوں کے اندر ان کی بھر پو ر نما ئندگی ہے ۔بیورو کر یسی میں ان کی بڑی رسائی ہے ۔عدالتوں کے ٹاؤٹ ان کی مٹھی میں ہیں ۔کسی کی مجال نہیں کہ ان کی فیکٹریوں پر چھاپہ مارکر ملاوٹ شدہ مال اور جعلسازی سے تیار شدہ مصنوعات قبضہ میں لے سکیں ۔انتظامیہ 10سالوں میں ایک بار حرکت آتی ہے تو گاوں کے غریب شاپ کیپر کو گرفتار کر کے بھتہ لیکر چھوڑ دیتی ہے ۔جعلی گھی ،ملاوٹ شدہ چائے ، ملاوٹ شدہ تیل ،ملاوٹ شدہ مشروبات اور جعلی آئس کر یم ،جعلی چپس، ملاوٹ شدہ چاکلیٹ ، ملاوٹ شدہ چیونگ گم بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ نہیں مارا جاتا ۔انتظامیہ کو معلوم ہے کہ فیکٹری پر چھاپہ مارنے کے بعد ان کی نوکری اور بھتہ خوری خطرے میں پڑجا ئیگی ۔پشاور کے شہریوں میں سے جن بزرگوںں نے سرفراز خان مجسٹریٹ کا زمانہ دیکھا ہے ۔ان کو یاد ہو گا کہ 1969 ء سے 1975ء تک پشاور میں اشیائے خوراک کے بیوپاریوں کو انہوں نے کس طرح سیدھا کیا تھا ۔وہ کہا کر تا تھا ۔قانون کا نا ہو سکتا ہے ،اندھا نہیں ہو سکتا ۔ان کا یہ بھی قول تھا کہ لوگوں کے چہرے ہوتے ہیں۔ نام ،القاب ،اور عہدے نہیں ہو تے ۔قانون کی لاٹھی کے نیچے جو بھی آئیگا وہ کچلا جائے گا ۔بچ نہیں سکے گا ۔اس نے پشاور کے نامی گرامی حاجیوں کو سیدھا کیا تھا ۔وہ چھا بڑی اور ریڑی والے کا جعلی اور ملاوٹ شدہ مال ضبط کر کے سیدھا فیکٹری کا رخ کر تا تھا اور مال بنانے والے کو قانون کے شکنجے میں لاتا تھا ۔2010 ء میں سیاسی مداخلت نے مجسٹریٹ ،ایس ایچ او ،ڈرگ انسپکٹر ، فوڈ انسپکٹر اور دوسرے سول حکام کے ہاتھ پیرباندھ کر پوری سول انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے ۔لا محالہ نظریں فوج کی طرف اُٹھتی ہیں ۔پاک فوج اس وقت بیرونی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ گلی کو چوں میں چھپے ہو ئے دشمن کا مقابلہ کر رہی ہے ۔بیرونی اور اندورنی دشمن کے مقابلے سے تھوڑا سا وقت نکال کر اگر قوم کے بچوں کی صحت کو تباہ کرنے والے دشمنوں کا مقابلہ بھی کر ے تو فوج اس برائی کا خاتمہ کر سکتی ہے ۔بازاروں میں دو نمبری ،ملاوٹ شدہ اشیائے خوراک کی بھر مار سے صرف بچوں کی صحت کو نہیں، بڑوں کی صحت کو بھی خطرہ ہے ۔معدہ ،جوڑوں ،آنتوں اور پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی ملاوٹ شدہ اور جعلی اشیائے خوراک کی وجہ سے پھیلتی ہیں ۔پاک فوج اگر اس محاز پر بھی ایک ‘ضرب عضب “اور ایک آپر یشن راہ راست کا اہتمام کر ے تو قوم کی مزید دعائیں پاک فوج کے ساتھ ہو نگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى