ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )…….’’کامیابی کا راز‘‘

……… ( ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)……..


انسان کی نفسیات میں کچھ ایسا ہے کہ جب وہ ہمت ہار جاتا ہے تب وہ سب ہار جاتاہے۔ کہتے ہیں کہ ہار تب نہیں قرار پاتی جب آپ گر جاتے ہیں۔ یہ تب مانی جاتی ہے جب اٹھنے سے انکار کیا جاتاہے ۔ ناکامی کیا ہے….؟ایک مثبت سوچ رکھنے والے کیلئے یہ اس کی کامیابی کی ابتداء ہے ۔ ناکامی سے مایوس ہوکر ہم اسے خود پر حاوی کر لیتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ مایوسی کفر ہے۔ کیا میں اور آپ خدا کی رحمت سے مایوس ہو سکتے ہیں؟ یقیناََ نہیں۔
پھر کیوں ہم ہمت ہار جاتے ہیں؟
’’ امید پر دنیا قائم ہے‘‘ یہ جملہ اس لئے کہا گیا کیوں کہ واقعی اُمید پر دنیا قائم ہے۔اگر ایک اچھے کل کی امید نہ ہوتی تو انسان کب کا ایک طرف پڑا ہوتا ۔ انسان کو جو چیز متحرک رکھے ہوئے ہے اس کا نام ’’اُمید ‘‘ ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ تب ختم ہوتی نظر آتی ہے جب انہیں نا کامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نا کامی کے اسباب کیا ہیں؟
*…ہم ناکامی سے ہی نہیں کامیابی سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔
*… ڈر یا خوف ( کامیاب ہونے کا ) ؛ ہنسئے مت۔ ہم واقعی ڈرتے ہیں کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا ؟۔
*…محنت سے جی چرانا ؛ ہم سوچتے ہی نہیں کہ ہمیں کامیاب ہونا ہے۔ ہم کامیابی کی امید ہی نہیں رکھتے ۔ مثال کے طور پر ایک طالبعلم کیلئے پاس ہونا ہی بڑی بات ہوتی ہے۔وہ نمبر ون پہ آنے کا سوچتا ہی نہیں۔ جب ہمارے ذہن میں کسی منزل کا تصور ہی نہیں ہوتا پھر اس کی جستجو میں محنت کیسی؟
*… کوشش نہ کرنا؛ کچھ لوگ اگر کچھ حاصل کرنے کا سوچیں بھی تو ناکامی کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں۔ ایسا سوچنے کا کیا فائدہ؟ جس میں پہلی بار کو ہی آخری بار مان لیا جائے۔ اور اس کیلئے دوبارہ کوشش ہی نہ کی جائے۔
*… اپنی ہار کو قبول نہ کرنا؛ ہم کامیاب اس لئے بھی نہیں ہوتے کیونکہ ہم کامیابی کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں اور پھر جب ہم ناکام ہوجاتے ہیں تو اس ناکامی کو قبول نہیں کر پاتے ۔ جب حالات سے سمجھوتہ کر لیا جائے تو قبول کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
*… مستقل مزاجی؛ جو مستقل مزاج ہوتے ہیں ان کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ ہمت نہیں ہارتے ۔ اور درحقیقت کامیابی بھی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے۔ ’’ پہلی بار اور آخری بار‘‘ کی بجائے ’’ بار بار‘‘ کا اصول اپنانا زیادہ کار آمد ہے۔
*…خود سے دشمنی؛ ہم اپنے سب سے بڑ ے دشمن خود ہوتے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ خود سے دشمنی کی جائے ؟ جیسے ہماری کامیابی میں ہماراہاتھ ہوتاہے اسی طرح سے ناکامی میں بھی سب سے بڑا ہاتھ ہمارا ہی ہوتا ہے۔ قسمت کو کوسنے کا کچھ فائدہ نہیں ۔ اپنے بُرے بھلے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
*… دوسروں کی تنقید پر ہمارا روّیہ ؛ یہ شاید آپکو عام سی بات لگے لیکن ہماری کامیابی یا ناکامی میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہوتاہے۔ ہم کامیاب کیوں نہیں ہوتے…؟ کیونکہ دوسروں کے بُرا کہنے سے ہم خود کو برا سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم ان کی باتوں کو خود پر حاوی کرکے خود پر سے اپنا اعتماد کھونے لگتے ہیں۔ اور نتیجہ ، کہ ہم کچھ نہیں کر پاتے۔
بھول جائیں جو لوگ کہتے ہیں۔آپ وہ نہیں جو وہ کہتے ہیں۔ آپ وہ ہیں جو آپ کرتے ہیں۔
ہمیشہ یاد رکھیں ! ہماری ایک چھوٹی سی ناکامی میں ایک بہت بڑی کامیابی چھپی ہوئی ہوتی ہے اور ایک بہت بڑی کامیابی میں ایک چھوٹی سی ناکامی۔ اور اگر دیکھا جائے تو ہم اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہی ہیں۔
اور سیکھنا چاہئیے بھی۔ مت گھبرا کہ ………ڈوب جاتے ہے ستارے تو سحر ہوتی ہے…..!!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق