ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……ویٹوپاور اور بان کی مون کا انتباہ

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……



اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے خبر دار کیا ہے کہ داعش طرز کی انتہا پسند عسکری تنظیمیں عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔یہ تنظیمیں خوف کی فضا پیدا کر کے تہذیب و تمدن کا راستہ روکنا چاہتی ہیں ۔یہ بات اگر کو ئی اور کہے تو سچائی کہلا ئے گی ۔اگر اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل یہ بات کہے تو اس کو مضحکہ خیز قرار دیا جا سکتا ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس اخبارات کے تراشوں کا ریکارڈ مو جود ہے ۔نیو ز سروس کا ریکارڈ موجود ہے ۔دنیا بھر سے خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اکھٹا کیا ہوا معلوماتی مواد بھی دستیاب ہے ۔عالمی لیڈروں کی تقریروں کا ریکارڈ بھی موجود ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو معلوم ہے کہ افغانستان کی جنگ کے لئے دہشت گر دتنظیموں کو فنڈنگ اور ٹر یننگ کا کام سیکورٹی کو نسل کے ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ارکان نے کیا ۔ عراق ، لیبیا اور شام کی جنگ کے لیے مزید دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ اور تربیت کے کام میں سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1978 ، 1992،2001، 2009 اور 2011کی فائلیں نکالیں۔ ریکارڈ ملا حظہ کریں توعالمی سطح پر دہشت گرد تنظیموں کا شجرہ نسب کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔دہشت گردتنظیمیں کسی غار کے اندر وجود میں نہیں آئیں ۔ کسی خفیہ مکان میں ان کی بنیاد نہیں رکھی گئی ۔کسی تہہ خانے میں چوری چھپے دہشت گردی کی تربیت کا انتظام نہیں کیا گیا ۔سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان نے ویٹو کی طاقت کا بھر پور استعمال کر کے دہشت گرد تنظیموں کو جدید خطوط پر منظم کیا ۔الشباب ،بو کو حرام ،القا عدہ اور داعش نے سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان کی گود میں آنکھ کھو لی ۔دن کی روشنی میں کھلے عام دہشت گردی کو دنیا میں پھیلایا گیا ۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان نے دہشت گردوں کو بطور آلہ کار استعمال کیا ۔دہشت گرد تنظیموں کو اپنی فوج کا ہر اول دستہ بنادیا ۔افغانستان میں پہلے دہشت گردوں کو بھیجا گیا ۔دہشت گردی پھیلا کر خوف کی فضا پیدا کر نے کے بعد سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان نے اپنی فوج بھیج دی ۔عراق ،الجزائر ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور شام میں یہی طریقہ واردات اختیار کیا گیا ۔بان کی مون عالمی ادارے کے سیکر یٹری جنرل ہیں ۔اس سے پہلے آپ اسسٹنٹ سیکری ٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے ہیں ۔آپ کی دسترس میں سلامتی کو نسل کا پورا ریکارڈ ہے ۔سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان کا ریکارڈ ہے ۔افغان جنگ کا ریکارڈ ہے ۔القاعدہ کا ریکارڈ ہے ۔آپ کی دسترس میں یہ ریکارڈ بھی ہے کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن اور داعش کے بانی ابو بکر البغدادی کا پس منظر کیا ہے ؟یہ لوگ کہاں سے اُٹھتے تھے ۔کس کس کے ساتھ وابستہ رہے ۔کن کن طاقتوں کے لئے کا م کیا ؟کتنے سالوں تک سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان نے اُن کی سرگرمیوں کو دا د دی۔ اُن کی خدمات کو سراہا ؟یہ سا را ریکارڈ بان کی مون کے پاس موجود ہے ۔ان کے پاس یہ ریکارڈ بھی دستیاب ہے کہ سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان نے القا عدہ کی قیادت کو عالمی ہیرو قرار دیا ۔کئی بار ڈنر پر بلایا ۔کئی بار القا عدہ کی قیادت کے ساتھ گروپ فوٹو شائع کروائے ۔بان کی مون تھوڑی سی محنت کر کے اس کی تفتیش کرواسکتے ہیں کہ دنیا کے چار براعظموں میں دہشت گردی کر نے والی گیارہ بڑی تنظیمیں کب تک سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان کی گود میں بیٹھ کر تر بیت ،اسلحہ اور دولت کے زرائع حاصل کر تی ہیں ؟کیا اب بھی سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان دہشت گرد تنظیموں کی سرپر ستی کر تی ہیں ؟یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ سلامتی کو نسل کا کام عالمی امن کا قیام ہے تو سلامتی کو نسل میں ویٹو پاور رکھنے والے ممالک کب تک دہشت گرد تنظیموں کی سرپر ستی کر تی رہیں گی ۔بو کو حرام ،الشباب ،القا عدہ اور داعش کا نام آتے ہی یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان تنظیموں کی ٹریننگ کا کام ویٹو پاور رکھنے والے ممالک نے کیا ۔ان کو اسلحہ سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان نے دیا ۔فرانس ،برطانیہ اورامریکہ اس کام میں نمایاں رہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس پر بحث نہیں کی ۔سلامتی کو نسل میں اس پر بحث نہیں ہو ئی ۔اب جبکہ عالمی تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے عالمی دہشت گردی کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے ۔تو ان کا فرض ہے کہ اکتو بر 2016 ء میں جنرل اسمبلی کا جو اجلاس ہو رہا ہے اس اجلاس کے ایجنڈے میں سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان کا کردار زیر بحث لایا جائے ۔جنرل اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں افغا نستان ،عراق ،لیبیا ،الجزائر ،صومالیہ ،سوڈان اور شام کی جنگوں میں سلامتی کو نسل کے3 مستقل ارکان کے کردار اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپر ستی کر نے والے ممالک سے ویٹو پاور واپس لینے پر بحث کروائی جائے ۔اس پر ووٹنگ کرائی جائے کہ 1978 ء سے2015 ء تک دہشت گرد تنظیموں کو ٹر یننگ ،فنڈ اور اسلحہ دینے والے ممالک سے ویٹو پاور واپس لیا جائے یا نہیں ؟بان کی مون کا دوسرا ٹرم اختتا م کے قریب ہے ۔یہ بات غنیمت ہے کہ اقوام متحدہ کے اعلی ترین عہدے کو چھوڑ نے سے پہلے انہوں نے عالمی دہشت گردی کے خلاف دنیا کی مہذب اقوام کو خبر دار کیا ۔مگر ان کی یہ خبر داری اس وقت تک بے معنی رہے گی ۔اس وقت تک انتباہ کا فائدہ نہیں ہو گا جب تک وہ اپنے اختیارات کو استعمال کر کے دہشت گرد تنظیموں کی سرپر ستی کر نے والے ان ممالک کا نام نہ لیں جو سلامتی کو نسل میں ویٹو پاور رکھتے ہیں ۔بان کی مون کا فرض بنتا ہے کہ وہ سلامتی کو نسل کے مستقل ارکان کے لئے ضابط اخلاق جاری کر یں۔ کم از کم اتنا کام کر یں کہ افغا نستان ،عراق ،لیبیا ،الجرائر ،صومالیہ ،سوڈان اور شام کی جنگوں میں دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر نے والے ممالک کو سلامتی کو نسل کی مستقل رکنیت کے لئے نااہل قرار دے دیں ۔امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کو ویٹو پاور سے محروم کر نے کے لئے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کرائیںَ ۔تاکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی سر پر ستی کر نے والے مما لک اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے پناہ نہ لیں سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق