ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……استاد کی تو ہین

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ…….,


کچہری میں پر ائمری اساتذہ پو لیس اور لیوی کے پہر ے میں صبح سے بیٹھے ہیں ۔ظہر کی آذان کا وقت ہو گیا ہے ۔اب ان کو پو لیس عدالت میں پیش کر یگی اور 9 دنوں کے بعد اگلی پیشی کی تا ریخ دے کر رخصت کر یگی ۔سرکاری پر ائمری سکو لوں کے اساتذہ کا جر م یہ ہے کہ با چا خان یو نیو رسٹی پر حملے کے دن چترال ،دیر ،سوات ،شانگلہ اور کو ہستان کے دور دارز دیہات میں دو کمروں پر مشتمل سکو ل کی چار دیواری نہیں تھی ۔ چو کیدار کے پاس بندوق نہیں تھا ۔چار سیکو رٹی گارڈ نہیں تھے ۔واچ ٹاور نہیں تھا ۔واک تھر و گیٹ نہیں تھا ۔میٹل ڈیٹکٹر کا انتظام نہیں تھا۔ایس او ایس کا ل کے لئے فون نہیں تھا ۔9 فٹ چاردیواری نہیں تھی اور سب سے بڑا جر م یہ تھا کہ بجلی سے محروم گاؤں میں پرائمری سکول کے اندر الارم سسٹم نہیں لگایا گیا ۔پو لیس نے جنوری کے مہینے میں 83پرا ئمری سکولوں پر اس وقت چھا پہ مارا جب سکو لوں میں چھٹیا ں تھیں ۔یہ خیبرپختو نخوا میں پہا ڑی اور بر فانی علاقوں کے سکو ل ہیں ۔با چا خان یو نیو رسٹی چارسدہ کے میدانی علاقے میں ہے ۔ ایس ایچ او کہتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا حکم ہے ۔کو ئی بھی ٹیچر قانون کی گر فت سے نہیں بچ سکے گا ۔ہر سکول ٹیچر کو عبرت کا نشان بنایا جائیگا ۔صرف ایک ضلع چترال میں 83 پرا ئمری سکو لوں کے اسا تذہ کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں ۔سنگین جرائم کا مقدمہ عدالتو ں میں ہے ۔ دیگر اضلاع میں مقدمات کی تعداد زیادہ ہے ۔سر کاری سکو لوں کا محکمہ اس سلسلے میں خا موش ہے ۔وزیر اعلیٰ کے حکم کے آگے ڈائر یکٹر یا سیکریٹری کیا بو لے گا ۔ اس بات کی تفتیش کو ئی نہیں کر سکتا کہ چترال ٹاون سے 180 کلو میٹر دور چھوٹے سے پہا ڑی گا ؤں کے پرا ئمری سکو ل ٹیچر کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کا حکم وزیر اعلیٰ نے دیا بھی ہے یا نہیں ۔یہ گو رننس کا مسئلہ بھی ہے کا من سینس کا مسئلہ بھی ہے ۔ خیبر پختو نخو ا کی پو لیس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ بہترین فورس ہے ۔اس فورس نے با چاخان یو نیورسٹی کے مجرموں کو چھوڑ کر 400 کلو میٹر دور پہا ڑی علاقوں میں پرا ئمری سکو لو ں کے اسا تذہ کے خلاف ایف آئی آر کٹو ایا اور اسا تذہ کو عدالتوں میں رسوا کر کے ہر 7 دن یا 9 دن بعد پیشی کے لئے بلانے کا زبر دست چکر چلایا ۔اوپر رپو رٹ بھیجی ۔خطر ناک مجرموں کے خلا ف83 ایف آئی آر درج ہو ئے ہیں ۔پو لیس کی کارکر دگی آسمان کو چھو رہی ہے ۔3 مہینوں میں ان اسا تذہ کی 10 پیشیاں ہو چکی ہیں ۔سرکاری محکمہ پرا ئمری سکول کے استاد کو نہ واک تھرو گیٹ دیتا ہے ، نہ 9 فٹ چار دیواری ،واچ ٹاور ،میٹل ڈیٹکٹر ،الارم سسٹم اور ایس او ایس کال کی سہولت دیتا ہے ۔نہ چار سیکورٹی گارڈ دیتا ہے اور نہ وکیل کی فیس دیتا ہے ۔محکمہ خاموش تماشائی ہے ۔عوامی نما ئندے ہر پیشی پر استاد کوذلیل و خوار ہو تے ہو ئے دیکھتے ہیں ۔وہ بھی خاموش رہتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کے حکم پر ایف آئی آر درج ہو ئی ہے ۔قانون اندھا ہے ۔معاشرہ بے حس ہے اور استاد لاورث ہے ۔استاد کے حق میں بات کر نے والا کو ئی نہیں ۔کچہری میں پو لیس کے پہرے میں کھڑے پرا ئمری اساتذہ سے ہاتھ ملاتے ہو ئے مجھے اشفاق احمد کی ایک تحریر یاد آئی جس میں انہوں نے اٹلی کے قانون کا حوالہ دیا ہے ۔اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ روم میں اردو پڑھانے کے لئے استاد کی ضرورت ہو ئی ۔پاکستان سے مجھے بھیجا گیا ۔میں روم کے شہر میں نیا تھا ۔قانون سے واقفیت نہیں تھی ۔گاڑی کی غلط پارکنگ پر ٹریفک پو لیس نے چالان کیا قانون سے نا واقفیت کی وجہ سے پھر غلطی ہو گئی ۔چالان بھر نے میں دیر کر دی ۔عدالت سے سمن آگیا ۔سمن کی تعمیل ہو ئی ۔ عدالت میں پیش ہو ا ۔ مجسٹریٹ نے پو چھا کیا کا م کر تے ہو ؟میں نے کہا استاد ہوں۔ مجسٹریٹ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا خواتین و حضرات ایک استاد عدالت میں آیا ہے۔اس پر سب اٹھ کھڑے ہو ئے ۔سب نے سر جھکا کر استاد کی تعظیم کی۔ مجسٹریٹ نے قواعد و ضوابط کی رو سے عدالت کی کا روائی مکمل کر کے استاد کو درازے پر جا کر سلام و تعظیم اور پو رے پر و ٹو کول کے ساتھ رخصت کیا ۔اس نے استاد کا نام سنتے ہی تعظیم بجا لایا ۔یہ نہیں پو چھا کہ کہاں پڑھاتے ، کیا پڑھاتے ہو ۔یہ استاد کا مقام ہے ۔ہماری انتظامیہ چیف ایگز یکٹیو کے حکم سے قاتل ، ڈاکو ، اغوا کار اور دہشت گرد کو چھوڑ کر استاد کے خلاف ایف آئی آر کٹو اتی ہے۔ پھر اپنے ناکارہ سسٹم کی چکی میں استاد کو پیستی رہتی ہے ۔ وطن عزیز میں پرا ئمری سکول کے لئے واک تھرو گیٹ نہ ہو نا استاد کا جرم ہے ۔اس ملک میں جج کا استحقاق ہے ۔جر نیل کا استحقاق ہے ۔ناظم اور کو نسلر کا استحقاق ہے ۔سمگلر کا استحقاق ہے ۔ایم پی اے اور ایم این اے کا استحقاق ہے ۔ان میں سے کسی کی تو ہین نہیں ہو سکتی ۔صرف استاد ایسا طبقہ ہے جس کا کو ئی استحقاق نہیں ۔اس کی تو ہین کو ئی جر م نہیں ہے ۔وطن عزیز میں دہشت گردی کا سب سے بڑا مخالف استاد ہے۔ مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ استاد کو تختہ مشق بنا یا جائے ۔اگر کسی پہا ڑی اور برفانی ضلع کے پرا ئمری سکول میں 15 جنوری کے دن 9فٹ چار دیواری نہیں تھی ۔واچ ٹاور نہیں تھا ۔واک تھرو گیٹ نہیں تھا ۔تو اس جر م کے لئے محکمہ تعلیم کے چیف پلا ننگ آفیسر کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی جائے ، وزیر تعلیم ،سیکریٹری تعلیم ،وزیر خزانہ اورسیکریٹری خزانہ کے خلاف ایف آئی آر کٹو ائی جا ئے ۔سی اینڈڈبلیو کے ایگز یکٹیو انجینئر اور چیف انجینئر کے خلاف ایف آر کٹو ائی جائے ۔سکول ٹیچر کا اس میں کیا قصور ہے ؟ اور چترال کے دور دراز پہا ڑی گاؤں میں واقع سکو ل میں واک تھرو گیٹ نہ ہو نے کا باچا خان یو نیو رسٹی کے واقعے سے کیا تعلق ہے ؟ اردو میں ایک ضرب المثل ہے “مکھی پر مکھی مارنا ” جب حکومت کمزور ہو تی ہے تو ماتحت حکام مکھی پر مکھی مارتے ہیں ۔چیف ایگز یکٹیو نے حکم دیا ۔دہشت گردوں کو پکڑ و ۔ماتحت آفیسر نے لکھا ، دہشت گردوں کو پکڑو ، یہ حکم سات آفیسروں سے ہو کر ایس ایچ او تک پہنچا تو ایس ایچ او نے پرا ئمری سکولوں کے 83 اسا تذہ کے خلاف ایک ہی ضلع میں ایف آئی آر کٹوا یا ۔یہی ہمارا انتظامی المیہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق