منیرہ خان

چترال میں پرندوں کا بے جا شکار

فلک شگاف پہاڑوں کے دامن میں پھیلی وادی چترال قدرتی حسن و رعنائی کا شاہکار ہو نے کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کے لئے باعثِ کشش ہے ۔ چترال کو دیکھ کر اس بے بنیاد نظریے کی نفی ہوتی ہے کہ کائنات کسی حادثے کے نتیجے میں وجود میںآئی ہے ۔ کیوں کہ حادثے میں اتنا حسن ،کشش اور ترتیب نہیں ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ قدرت نے اس قطعہ ارضی کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دے رکھی ہے ۔
یہاں فلک بوس اور دشوار گزار پہاڑوں کے سائے میں دنیا کی ثروت مند ثقافت اور بے مثال تہذیب سانس لے رہی ہے۔ گندمی رنگت کے حامل سیدھے سادے ،امن پسند ، مگر قدرے تن آسان لوگو ں کے مسکن چترال میں ہر وہ چیز موجود ہے جو انسان کو مسحور کر سکتی ہے ۔ سانپ کی صورت بل کھاتا ہوا دریاہے چھینٹے اڑاتے دودھ جیسے جھرنے ہیں ۔ شاداب چراگاہوں میں گنگناتے ہوئے چرواہے اور چرواہنیں ہیں ۔شب و روز خوشبو پھیلاتی چنبیلی اور گلاب کی جھاڑیا ں ہیں ۔ گھنے چھتنار زمین پر سائبان کیے ہوئے ہیں ۔ چترال میں ہر موسم کا اپنا رنگ ہے ۔ گرمیوں میں ٹھنڈا میٹھا پانی ، طرح طرح کے پھل، گھنے اور ٹھنڈے سائے دور دراز کی دنیا سے سیاحوں کو بلاتے ہیں ۔ خزان میں ہوا کے دوش پر اڑنے والے پیلے پتوں کا سماں بھی بے مثال ہوتا ہے ۔ جھاڑوں میں دھوب ہو تو پہاڑوں پر جگر جگر کرتی برف کا منظر بھی انوکھا ہوتا ہے ۔غرض چترال فطرت کا وہ نگار خانہ ہے جہاں ہر نوع کی تصویر یں سجی رہتی ہیں ۔
فطرت کے اس حسین نگار خانے کا حسن دوبالا کرنے والے معصوم پرندے اور جنگلی جانور ہیں ۔ جن کا وجود نہ صرف دنیا کی خوبصورتی ہے بلکہ ایک صحت مند اور متوازن قدرتی ماحول کا عکّاس بھی۔ گھنے اور اونچے پیڑوں کے آس پاس محو پرواز یہ معصوم پرندے ، برفزاروں میں چوکڑیاں بھرنے والے ہر ن ا ورمار خور ۔ بھیگی بھیگی اور ٹھنڈی صبحوں میں اڑتے نظر آنے والے آبی پرندے در اصل خالقِ کائنات کے حسنِ صنعت کے کمال ہیں ۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمیں اس حسن سے کوئی سرو کار نہیں ہم ازل سے فطرت کے باغی ہیں ۔ چترال کے اکثر علاقوں میں چھوٹے بڑے سب جدید اسلحے سے لیس ہوکر جنگلی جانوروں خاص کر آبی پرندوں کی نسل کُشی پر پورے انہماک سے جتے ہوئے ہیں ۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ۔ صدیوں سے اس خطہ زمین کے لوگ حسنِ فطرت کے اس پہلو سے نبردآزما ہیں ۔ اپنے ایک ادنیٰ شوق کی تکمیل کے لئے ان معصوم پرندوں کی نسل کُشی کہاں کا انصاف ہے ۔ انہیں بھی جینے کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔ انہیں بھی چند روزہ زندگی سے لطف اندوز ہونے دینا چاہیئے۔ لیکن ہم اتنے تنگ نظر اور سفاک ہیں کہ ہَو ا میں جھولتے ان ننھے پرندوں کی مستی ہم سے دیکھی نہیں جا سکتی ہے۔ دنیا کی ہر چیز لذتِ کام و دہن کی تکمیل کے لئے نہیں ہوتی کچھ چیزیں دیکھنے سے بھی تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ ساری باتیں وہی لوگ سمجھتے ہیں جنھیں اللہ نے حسنِ نظر اور دردِ دل سے نوازا ہو۔
جنونی شکاری پرندوں کے قتلِ عام میں حد سے بڑھ جاتے ہیں ۔ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ مصنوعی تالاب بناتے ہیں اور اور پھر دن رات ایک کر کے آبی پرندوں کے انتظار میں بیٹھتے ہیں ۔ دو چار پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جتنے بھی ہاتھ آئے مارنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ چترال میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے قتلِ عام کا سلسلہ اگر اسی تندہی کے ساتھ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہما را یہ خوبصورت قدرتی ماحول ماحولیاتی دیوالیا پن ، بے ترتیبی اور عدم توازن کا شکار ہو کر قدرتی آفات کا آماجگاہ بن جائے گا۔
اربابِ اقتدار و اختیار ، خصوصاََ وائلڈ لائف کے محکمے کو بھی اس حوالے سے ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شوٹنگ لائسنس کے حاملین کے کئے بھی شکار کی کوئی حد مقرر کر لینی چائیے اور عوامی سطح پر بے جا شکار کی حوصلہ شکنی کے مہم چلانی چاہئے۔ تاکہ انسان کی زندگی کو حسین بنانے والے ان رنگا رنگ مخلوقات کو بھی جینے کی آس مل سکے۔
اگر چہ چترالی عوام امن پسند مشہور ہیں تاہم پرندوں کے معاملے میں بے حد دہشت گرد واقع ہوئے ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے نو نہالوں کو کے ہاتھ سے بندوق اور غلیل چھین کر قلم اور کتاب ان کو پکڑائیں ۔ تاکہ آنے والی نسل کو ہم ایک خوبصورت ، محفوظ ، فطری اعتبار سے ثروت مند ما حول دے سکے ۔ آؤ۔۔۔! پرندوں کو بچا لیں اور ملک سے جہالت اور دہشت گردی کو ما ر گرائیں ۔۔۔۔یہی محفوظ مستقبل کی طرف پہلا قدم ہے۔۔۔۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق