ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیدا ……نئی نسل اور میڈیا

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..


پاکستان کا کو ئی محب وطن ،درد مند شہری ،کو ئی تبصرہ نگار ،کو ئی تجزیہ کار کان اور آنکھیں کھلی رکھ کر کسی بڑی یو نیو رسٹی میں دو دن گزارے اور لیکچر دیدے ۔سو الات کا جواب ، نوجو انوں کی گفتگو سن لے ۔نو جوانوں کے چہروں کو پڑھے تو معلوم ہو تا ہے کہ سیاسی لیڈروں کے بیانات، قومی رہنماوں کی تقر یر اور ان کے طرز عمل کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی نو جوانوں کو اپنے ملک سے ،ملک کے مستقبل سے ،اپنی قوم سے ، قوم کے مستقبل سے مایوس کر دیا ہے ۔نئی نسل کے چہروں پر ما یوسی لکھی ہو ئی ہے ۔نئی نسل کے لہجے میں مایوسی آگئی ہے ۔اُن کو علامہ اقبال کا یہ مصرعہ نہیں معلوم کہ ” مایوس نہ ہو مایوسی زوال علم و عرفان ہے “اُنہیں علامہ اقبال کا یہ مصرعہ بھی معلوم نہیں کہ و” ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں “اعداد وشمار یہ ہیں کہ وطن عزیز کی 20 کروڑ آبادی میں 19کروڑ 50 لاکھ محب وطن ،ایماندار اور دیانت دار لو گ ہیں ۔ 6 کروڑ وہ لوگ ہیں ۔جو آدھی رات کے بعد اٹھ کر پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ہیں ۔6کروڑ کی آبادی اُن محنت کشوں کی ہے ۔جن کے خون پسینے سے وطن کے کھیتو ں میں ہر یا لی اور کا رخا نوں میں آبادی ہے۔7 کروڑ کی تعداد میں وہ نو جوان ہیں ۔جو حصول علم کی جستجو میں مگن ہیں ۔50لاکھ اعلیٰ درجے کے پر و فیشنلز ہیں جو وطن عزیز کی نیک نا می کو چار چاند لگاتے ہیں ۔20 کروڑ کی آبادی کے ملک میں دہشت گرد،رشوت خور،بھتہ خور ،کام چور ،اغوا کار ،ڈاکہ مار اور کر پشن کی لعنت میں گرفتار لو گوں کی تعداد 50 لاکھ سے بھی کم ہے تاہم 50 لاکھ حساب کیا جاتا ہے ۔ہمارے قومی رہنما برائی کا ذکربڑے فخر سے کرتے ہیں ۔نیکی اور اچھائی کا نام بھول کر بھی نہیں لیتے ۔ہمارے الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا میں وطن دشمنوں کا ذکر مرچ مصالحہ لگا کر بار بار کیا جاتا ہے ۔وطن کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے والوں کا کوئی نام بھی نہیں لیتا ۔نئی نسل اس وجہ سے ما یوسی کا شکار ہو جاتی ہے ۔نئی نسل کے سامنے ہر وقت چھو ٹو گینگ ،لیاری گینگ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا تذکرہ ہو تا ہے ۔ان سیاست دانوں کے بیانات آتے ہیں جو ملک ،قوم اور وطن کو گالی دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ان اینکر پر سنز کا طو طی بو لتا ہے ۔جو ملک اور قوم کو تا ریکی میں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ان دانشوروں کو الیکٹرنک میڈیا پر لایا جا تا ہے ۔جو یر قان زدہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پورا ملک اُن کو زرد نظر آتا ہے ۔اُن کی تعداد بہت کم ہے ۔مگر ان کو قوم کے اعصاب پر سوار کیا گیا ہے ۔کوئی فوجی اکیڈمی یا سول سروس اکیڈمی اگر اس کا تجزیہ کر ے ۔تو معلوم ہو گا کہ یہ نفسیاتی جنگ ہے ۔جسے انگریزی میں Psychological Warfare کہتے ہیں ۔نفسیاتی جنگ میں پاکستانی قوم کو مغلوب کر نے کے لئے ہماری نئی نسل کے ذہنوں کو منفی بیانات اور منفی تا ثرات سے زہر آلود کیا جاتا ہے۔کالم کے اندر نام لیکر مثال دینے کی گنجا ئش نہیں ہو تی۔وطن عزیز کے 100 بڑے اخبارات اور 75 معتبر ٹیلی وژن چینلوں میں بمشکل 20 لوگ ایسے ہیں ،جو وطن سے، قوم سے ،ملک سے ،نئی نسل سے اور وطن کے لوگوں سے ، وطن کے اداروں سے مایوس ہیں ۔20 بندوں نے 20 کروڑ کی آبادی کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ،صفر اعشاریہ 50 فیصد بھی نہیں ۔صفر اعشاریہ 25 فیصد دہشت گرودں اور کر پٹ لو گوں کو قوم کا نام دیا ہوا ہے۔اتنی قلیل تعداد میں غلط کا ر لو گوں کے کرتوتوں کا طعنہ پو ری قوم کو دیا جا رہا ہے ۔مایوسی پھیلانے کی اس کاوش کے دو رخ ہیں ۔اس کی دو جہتیں ہیں ۔ایک رخ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر بلا سوچے سمجھے بیان دیتے ہیں ۔کسی منصوبہ بندی اور فکری سوچ بچار ،مشاورت ،ہوم ورک کے بغیر تقریریں کرتے ہیں ۔ہمارے میڈیا منیجروں کے پاس کو ئی پروگرام نہیں ہے ۔کو ئی منصوبہ نہیں ہے کو ئی پالیسی نہیں ہے ۔کو ئی گا ئیڈ لائن نہیں ہے ۔جو جی میں آتا ہے ۔جس کے جی میں آتا ہے ۔کہہ دیتا ہے ۔لکھ دیتا ہے ۔یہاں تک کہ ایک ڈرامے کا نام “بے شرم “رکھا گیا ہے ۔3ماہ تک اس کی50قسطیں چلیں گی ۔پھر اس کو باربار دکھایا جائے گا ۔اگر میڈیا مینجروں کی پالیسی ہو تی تو پائیلٹ کی منظوری کے مرحلے میں اس پر غور ہوتا کہ ایک گالی کسی ڈرامے کا نام ہو سکتی ہے یا نہیں ؟پھر بالائی حکام کی میٹنگ میں اس پر غور ہو تا۔ لکھنے والے سے کہا جاتا کہانی کا رخ موڑدو ،یا کہانی کو رہنے دو ۔”بے شرم “کی جگہ دوسرا نام تجویز کرو ۔مگر میڈیا مینجرو ں کے پاس کو ئی منصوبہ نہیں تھا ۔پالیسی نہیں تھی ۔گائیڈ لائن نہیں تھی اس لئے بے شرم کے نام سے “ڈرامہ “تیار ہو ا۔اس طرح ریڈیو اور ٹی وی کے دیگر پروگراموں کا حال ہے ۔فوجی اداروں میں نفسیاتی جنگ کو بطور مضمون یا ڈسپلن پڑھایا جاتاہے ۔میڈیا اور سیاست دانوں کا ایسا کو ئی ادارہ نہیں ۔نیشنل ڈیفنس یو نیو رسٹی کے اہم کورسوں تک میڈ یا والوں کی رسائی نہیں ۔اس وجہ سے نفسیاتی جنگ کا میدان دشمن کے لئے خالی چھوڑ دیا گیا ہے ۔اس کا دسرا رخ یہاں سے شروع ہو تا ہے ۔اللہ نہ کرے ،خدا نہ کر ے ،خاکم بد ہن امکان یہ بھی ہے کہ سیاست دان اور میڈیا والے سوچ سمجھ کر با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ،خفیہ ایجنڈے کے تحت پا کستان کی نئی نسل کو گمراہ کر نے اور ملک کے نو جو انوں میں مایوسی پھلانے کے لئے اس قسم کی تقریریں کر تے ہیں ۔اور اس طرح کے پر وگرام تر تیب دیتے ہیں ۔جن میں نفرت ،قنوطیت ،یاسیت اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہو تا ۔جو کام ہمارا دشمن اپنے جہازوں ،تو پوں ، راکٹوں اور میزائیلو ں سے نہیں کر سکتا ۔وہ کام ہمارے سیاسی رہنما اور میڈیا والے اپنے قلم ،اپنی زبان ، اپنے بیان ،اپنی تقریر اور اپنی تحریر کے ذریعے دشمن کے لئے انجام دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثر یت محب وطن ہے ۔ایماندار ہے ۔درد مند ہے اور فکر مند ہے ۔مگر اس غالب اکثریت کی بات میڈیا پر نہیں آتی ۔میڈیا پر جن لو گوں کا ذکر آتا ہے ۔وہ ملک کی 20 کروڑ آبادی کا صفر اعشاریہ 25 فیصد ہیں ۔20 کروڑ آبادی میں دہشت گردوں ،ڈاکوں ،چوروں اور بھتہ خو روں یا کرپشن میں مبتلا لو گوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ نہیں ۔اس کا طعنہ پو ری قوم کو دینا ظلم ہے ۔مایوسی پھیلانا اور نئی نسل کو مایوس کر نا کفر ہے ۔علامہ اقبال نے کیا بات کہی!
شاعر کی نو ا ہو یا مغنّی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادسحر کیا !

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق