فراز خان فراز

میراشفیق استاد مٹی کا مہمان

یہ تو دنیا کا دستور ہےاگر کوئی آپ کو کچھ دیتا ہے تو لازمی بات ہے کہ ا س کا عوض بھی طلب کرتا ہے اور عوض نہ دیا جائےتو احسان ضرور جتاتا ہے لیکن میں کتنا خوش نصیب انسان ہوں کہ مجھے بچپن ہی میں ایک ایسا مہربان استاد ملا نہ وہ کبھی مجھ سےعلم کا عوض طلب کیا اور نہ کبھی احسان جتایا ہاں جب بھی ملتے اسی طرح ملتے گویا میں نے اس کو علم کی دولت سے سرفراز کیا ہے۔ میرااستاد مجھےصرف کتاب سماوی کا درس ہی نہیں دیا بلکہ مجھے ایک باآدب انسان بننے کا گربھی سکھایا میں آپ کی شفقت کے سائے میں رہ کرنرم خوئی اور شرین کلامی سیکھا بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے پیارکرنا سیکھااور ساتھ ساتھ آج مجھے جس پیشہ پیغمبری سے واسطہ پڑا ہے صرف اور صرف اس عظیم ہستی کی کاوشوں اور نیک دعا ئوں کے طفیل ہے ۔کیا کوئی انکار کر سکتا ہے کہ ایسا  مہربان استاد اپنے مخلص شاکرد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کرچلا جائے اور اس قیامت خیز جدائی پر میں صرف تنہائی میں خاموشی کے آنسو بہاتا رہوں۔ نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا میں تنہائی میں آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ آپ کی پیاری یادیں لفظوں میں پرونے کی بھی کوشش کروں گا تاکہ میرے دل کو تھوڑا سکوں مل جائے۔ میری آخری ملاقات اپنے استاد محترم کے ساتھ نوروز کے موقع پر ہوا تھااس نے اپنے پرخلوص انداز میں مجھ سے دو مرتبہ گلہ ملایا مجھے کیا معلوم تھاکہ دو بار گلہ ملاناموت کی قربت کو ظاہر کرتی ہے بحرحال وہ شخص کون ہے جسکی جدائی میرے لئے ناقابل برداشت اور لمحہ فکریہ ہے آپ نے 1932ء کو چرون کے ایک علمی سادات گھرانے میں پیدا ہوا اورقرآن مجید کا درس اپنے بزرگوں سے حاصل کیا ظاہری بات ہپے کہ اس زمانے میں دنیاوی علم کا اتنا رواج نہ تھا باوجود اس کےوہ اپنی بنیادی علمی آبیاری کو پورا کرنے میں کسی کا سہارانہ لیااور آپ کو 21سال کی عمر میں چترال سکائوٹ میںملازمت کا موقع ملا آپ نے دوران ملازمت فرض شناسی اور ایمانداری کا بہتریں ثبوت پیش کیا، ملک و قوم کی وفاداری اور اپنے پیشے سے محبت نے آپ کی عزت و وقار کو اور بھی دو بالا کر دیا اور آپ نے درجہ بہ درجہ ترقی کرتے ہوئے جونئیر کمیشن آفیسرکے عہدے کو بھی اپنے نام کر دی پوسٹ کمانڈر کی حیثیت سے زیارت اور مستوج میں کافی عر صہ خدمات انجام دیتے رہےاور ملازمت کے دوران کھبی بھی شکایت کا موقع نہ دیا اس طرح 26سال کی شاندار اور باعزت ملازمت کے آیام گزارنے کے بعد1974ء کوسبکدوش ہو گئےاور واپس اپنے آبائی وطن اکراعزازی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات بنایا اور یہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار استادنے بے شمار لوگوں کو قرآن مجید کا درس دیتے رہےاور ساتھ ساتھ مسلسل پنتیس سال سے زائد عرصے تک اسما عیلی کونسل میں مختلف دینی عہدوں میں فائز ہو کر اعزازی خدمات انجام دیتے رہے۔اسی طرح اپنے قول و فعل میں یکسا نیت کے سبب آپ لوگوں کی زباں میںپیر دادا کے نام سے معروف ہوئے۔وہ بزگ استاد اور شفیق دوست مرحوم سید اللہ جان المعروف پیر داداہے جو کہ چند دن قبل اپنی ہم عمر اور ہم پیشہ دوست کی تعزیت سے واپسی پرجنالی کوچ گاوں کے نزدیک حادثے سے دوچار ہوئےاور دل کا دورہ پڑا اور یہ حادثہ اس بے ضرر انسان کو 84 سال کی عمر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا کر دیا۔اللہ اس کی روح کو دائمی سکون نصیب کرےاور مجھے اپنے شفیق استاد اور بزرگ دوست کی جدائی کو برداشت کر نے کی ہمت عطا فرمائے۔آمین۔

Advertisements

 

شاد  رہے    آباد   رہے  قسمت   ہماری   پھوٹ   گئی

جس پھول کو ہم نے رکھا تھا اس پھول کی ٹہنی ٹوٹ گئی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى