
صدا بصحرا …..اقبال کا شاہین
……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ
علامہ اقبال نے کہا :
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
علامہ اقبال کے اس خواب کو دیکھتی آنکھوں اور ہاتھ پیروں والے پاکستانی نوجوانوں نے بھی سچ کر دکھایا تا ہم قابل ذکر وہ لوگ ہیں ۔جنہوں نے دیکھتی آنکھوں اور ہاتھ پیروں سے محروم ہو تے ہو ئے بھی علامہ اقبال کے خواب کی سچی تعبیر ڈھونڈ لی۔ وطن عزیز پاکستان میں سیا ستدانوں اور اراکین پارلیمنٹ کا ایک مو ثر گروہ ایسا ہے جو بڑے شہروں کے نواح میں معذوروں کے اڈے چلاتا ہے ۔ان اڈوں میں بچوں کو اغوا کر کے لیجا یا جاتا ہے ۔ان کے ہاتھ پیر کا ٹے جاتے ہیں ۔ان کی آنکھوں میں گرم کیلیں ڈال کر ان کو اندھا کیا جاتا ہے اور پھر عمر بھر ان کو بھیک مانگنے کے بیگار پر لگایا جاتا ہے ۔ان کی بھیک کی آمدنی اڈے کے مالک کو ملتی ہے ۔جو اس آمدنی کو سیاست میں استعمال کر کے پا رلیمنٹ کاممبر بنتا ہے اور غریبوں کی فلاح و بہود کے لئے کا م کر نے کا دعوی کر تا ہے ۔مگر اسی وطن میں اقبال کے ایسے شاہین بھی ہیں جو فطری طور پر معذور پیدا ہو نے یا کسی حادثے کے نتیجے میں معذور ہو نے کے باوجود ہمت نہیں ہا رتے اور زندگی میں نارمل انسانوں سے بھی دو قدم آگے بڑ ھ کر بڑے بڑے کا رنامے انجام دیتے ہیں ۔سکردو کا عباس آنند بھی ایسے نوجوانوں میں شامل ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں معذور شہریوں کے بڑے بڑے کارناموں کی بے شمار مثالیں ہیں یہاں جن شخصیت کا تذکرہ مقصودہے وہ آسڑیلیا کا باشندہ ہے امریکہ میں رہتا ہے ۔اور دنیا کے 5 بر اعظموں کے بڑے بڑے شہروں میں جاکر نو جوانوں کو لیکچر دیتا ہے ۔ان کو بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں،بڑے بڑے اداروں میں لیکچر کے لئے بلایا جاتا ہے ۔اُسے تر غیب دینے والا متا ثر کن مقرر قرار دیا گیا ہے ۔مو ٹیو یشنل سپیکر کی حیثیت سے وہ دنیا میں پہچان رکھتا ہے ۔وہ مسلمان نہیں ،پاکستانی ،نہیں ،آسٹر یلیا کا با شندہ ہے ۔اس کا نام نک وائے چِچ Nick Vujicic) 1982 ( ء میں ایک متوسط گھرانے میں معذور پیدا ہو گیا۔ماں کے پیٹ میں اس کو ٹیٹراامیلیا سینڈروم کی بیماری لگ گئی ۔اس بیماری میں جسم کے بعض اعضاء پرورش نہیں پاتے۔ اس کے ہاتھ کندھے پر 2 اِنچ کے نشان سے آگے نہیں ہے ۔اس کے پاؤں کو لہو میں 10 انچ تک بڑھ گئے ۔پھر نشو ونما رک گئی ۔اس کا جسم ہا تھ پیر کے بغیرد ھڑہے ۔چار سال کا ہوا تو اس کو احساس ہو ا کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود نہیں کر سکتا۔ اس احساس نے سانپ کی طرح اس کو ڈسنا شروع کیا ۔ 1992 میں اس کی عمر 10 سال ہو گئی ۔سکول میں اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر وہ شدیدذہنی کر ب سے دو چار ہو ا ۔تین بار اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ہر بار اس کی جان بچ گئی۔ وہ تعلیم حاصل کرتا رہا۔ مگر اس کی زندگی میں کو ئی انقلاب نہیں آیا ۔19 سال کی عمر میں اس نے اے لیول پاس کیا تو اس کی زندگی میں انقلاب آیا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نا رمل انسانوں کی طرح کا میاب انسان بن کر دکھا ئے گا ۔اس نے گر یجو یشن کے لئے مینجمنٹ سا ئنسز کا انتخاب کیا اور یونیو رسٹی سے اس مضمون میں ماسٹر ز کیا ۔23 سال کی عمر میں اس نے ایک نظریہ تشکیل دیا ۔نظریہ اس بات پر مبنی ہے کہ انسان کے سامنے کام کی حدیں ہو تی ہیں ۔مگر انسان کے لئے مو اقع اور امکانات کی حدیں نہیں ہو تیں ۔کام محدود ہو تا ہے ۔مو اقع اور امکانات لامحدود ہو تے ہیں :
اسی روز وشب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکان اور بھی ہیں
2005 میں اس نے ایک غیر سرکاری تنظیم بنائی ۔تنظیم کا نام اس نے لائف و ہداوٹ لمبز (Life without Limbs ) رکھا ۔اس کا اردو ترجمہ ہے ۔ “بازو اور ٹانگو ں کے بغیر زندگی ” ہاتھ پیر کے بغیر زندگی کے نام سے اس اہم این جی او کا دائرہ نک وائے چیچ نے 5 برا عظموں تک پھیلا دیا ۔انہوں نے زندگی کے بارے میں اپنے تصورات پر ایک کتاب بھی لکھی ۔کتاب کا نام لائف وہداوٹ کمٹس (Life without limits )ہے ۔اپنی کتاب میں نک وائے چچ نے پو ری دنیا کے مایوس انسانوں کو مایوسی کے دلدل سے نکلنے کے طریقے بتائے ہیں ۔یہ طریقے نک وائے چیچ کے ذاتی تجربات پر مبنی ہیں ۔وہ صرف سوچنے اور بولنے والا نہیں بلکہ اپنے افکار پر عمل کر نے والا شخص ہے ۔پر یکٹشنر ہے ۔با قا عدہ پر یکٹس کرتا ہے ۔محدود اور لا محدود کے دو نظر یات پر اپنے افکار کی بنیاد رکھنے والے نک وائے چیچ جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے دنیا بھر میں نو جوا نوں سے خطاب بھی کر تے ہیں ۔گفتگو بھی کرتے ہیں ۔سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں ۔
