ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …..20 کروڑ کا جلسہ

……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ……


باغ جناح گرا ونڈ کر اچی اور ایف نائن پارک اسلام آباد میں 24 اپر یل کو دو جلسے ہو رہے ہیں ۔اسلام آباد والے جلسے کا خر چہ کتنا آئے گا اس کے بارے میں کو ئی اعلان نہیں ہو ا ۔کر اچی کے جلسے کا بجٹ سامنے آگیا ہے ۔مہاجر قومی مو منٹ اورمہا جر صوبہ کی تحریک نئے نام سے چلانے والے مصطفی کمال نے اپیل کی ہے کہ جلسے کا خر چہ 20 کر وڑ روپے ہے ۔عوام چندہ دیکر 15 کر وڑ سے لے کر 20 کرو ڑ تک کا سرمایہ جلسہ کے لئے اکھٹا کر یں ۔اگر ایک دو ماہ پہلے بننے والی پارٹی پاک سر زمین 20 کروڑ رو پے ایک جلسے پر لگاتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف 80 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کر یگی ۔دو نوں جلسوں کا بجٹ ایک ارب روپے کے برابر ہو گا ۔اگر اس خرچ کا فائدہ معلوم کیا جائے تو ملک کے لئے ،قوم کے لئے جمہوریت کے لئے ،سیاست کے لئے ،کر اچی اور اسلام آباد کے شہر یوں کے لئے اس کا فائدہ صفر ہو گا ۔تجزیہ اور تبصرہ کسی تخمینے پر کر نے کی بجا ئے ہم 20 کروڑ روپے کا عدد لیتے ہیں جو پاک سر زمین پا رٹی کے لیڈر نے خود اعلان کر کے دیدیا ہے ۔کراچی کی ڈیڑ ھ کروڑ آبادی میں 5 لاکھ غریبوں کے پاس جان بچانے والی دوا کے پیسے نہیں ہیں ۔تھر کی دو لاکھ آبادی بھوک اور بیماری میں مبتلا ہے مگر یہ لوگ مہاجر نہیں پاکستانی ہیں جنکے ساتھ مہاجرین کی دشمنی ہے۔ 20کروڑ روپے اگر تھر کے غربت زدہ عوام میں تقسیم کئے جائیں۔ تو ہزار روپے فی کس امداد پہنچایا جاسکتا ہے ۔5لاکھ کی آبادی میں سے 2لاکھ کو دو وقت کی روٹی پہنچا ئی جاسکتی ہے۔ 10لاکھ میں سے 2لاکھ بچوں کو سکول میں داخل کرایا جا سکتا ہے۔ 20لاکھ مریضوں میں سے 2لاکھ افراد کو جان بچا نے والی ادویات مہیا کی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہ کام مہاجر قومی مومنٹ یا پاک سرزمین پارٹی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ان کاکام اپنا الو سیدھا کرنا ہے الطاف حسین کی پارٹی کو ختم ہونے سے بچا نا ہے۔ پا ک فوج اور رینجرز کے کا میاب آپریشن کو ناکام بنانا ہے اور کراچی کوایک بار پھر 20کروڑ روپے کا ٹارگٹ بھتہ کی صورت میں وصول کرکے پورا کر لیا جائے گا۔ کراچی کے متمول لوگوں کو نئی پارٹی کی طرف سے پرچیاں بھیجی جائینگی ۔ 5لاکھ 10لاکھ اور 20لاکھ روپے کی پر چیاں اگر 100کارخانہ داروں ، صنعتکاروں ، تاجروں،اور وڈیروں کو بھیجی گئیں تو 20کروڑ روپے سے کئی گنازیادہ رقم آئیگی ۔اس کام میں مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو 20سال کا تجربہ حاصل ہے۔ دونوں لیڈر ایم کیوایم کے سیکٹر انچارچ رہے ہیں اُن کو بھتہ جمع کرکے لندن بھجنے کا ملکہ حا صل ہے ۔ان کے لئے 20 کروڑ روپے کا ہدف دو دنوں میں حاصل کر نا کو ئی مسئلہ نہیں ۔با ئیں ہاتھ کی کچی انگلی کا کھیل ہے ۔ان لو گو ں نے قسم کھارکھی ہے کہ کر اچی میں امن آنے نہیں دینگے ۔بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ نہیں ہو نے دینگے ۔پاکستان اس وقت ایسے دورا ہے پر کھڑا ہے ۔جہاں وطن کو اپنا وجود بر قرار رکھنے کا مسئلہ درپیش ہے ۔شیکسپیئر کے ڈرامے کا ایک کردار کہتا ہے ۔”To be or not to be is the question ” اپنا وجود قائم رکھنا اصل سوال ہے اس مر حلے پر پار لیمنٹ کے اندر ملک کے حقیقی مسا ئل کے حوالے سے قانون سازی ہونی چا ہیے ۔ایک لا زمی قانون ایسا بننا چاہیے ۔جس کے ذریعے جلسے اور جلسوں پر مکمل پا بندی لگنی چائیے۔سیاسی جماعت کے جلسے کے لئے سٹیج کی تیاری پر 25 لاکھ روپے کا خر چہ آتا ہے ۔لا ہور میں جس سٹیج سے گرکر عمران خان زخمی ہو ئے تھے وہ سٹیج 45 لاکھ روپے میں بنا یا گیا تھا ۔اس جلسے پر 75 کر وڑ روپے خرچ ہو ئے تھے ۔میا ں شہباز شریف نے اپنے ایک جلسے پر 2 ارب روپے خرچ کئے ۔ایم کیو ایم کے ہر جلسے اور قائد کے خطاب پر 40 کر وڑ روپے خرچ آتا ہے ۔خفیہ اداروں ،قومی سلامتی کے لئے کام کر نے والی ایجنسیوں اور ملکی قانون کی پا سداری کر نے والے اداروں کا فرض بنتا ہے کہ 2016 ء میں تین باتوں کی تفتیش کر یں اور حقائق قوم کے سا منے رکھیں ۔پہلی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے لئے سر مایہ دار اتنا بڑا سر مایہ کیو ں خرچ کر تے ہیں ۔ان کا مفاد کیا ہے ؟یہ سر مایہ ان کے خون پسینے کی کمائی سے آتا ہے یا اُن کے ذریعے دشمن ملک کی ایجنسی اس کام میں سر مایہ لگا تی ہے ؟دوسری بات یہ ہے کہ جلسے میں بڑے پیمانے پر سر مایہ کاری کی مد کو ن کون سے ہیں ؟ 25 لاکھ روپے کا سٹیج لگ گیا ،25 لاکھ روپے کی جھنڈ یاں لگ گئیں ،بینر لگ گئے ، اشتہاری مہم ہو گئی ۔تحقیق طلب بات یہ ہے کہ جلسے کے لئے بسیں و یگین ،گا ڑیا ں مہیا کر نے پر کتنا خرچہ آتا ہے ؟کر وڑڈیڑ ھ کر وڑ رو پے ضرور ہو گا ۔ اگلا مد کو ن سا ہے ؟ پا کستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد ذولفقار علی بھٹو ایسا لیڈر تھا ۔جس کی تقریر میں کر شماتی سحرا اور جادو تھا ۔بسمارک ،چرچل ،اور نیلسن منڈیلا کی طر ح بھٹو کی تقریر سننے کے لئے لا کھو ں کا مجمع اپنے خر چ پر اپنی جیب سے کر ایہ دے کر جلسے میں آتا تھا ۔بھٹو کے بعد وہ باب بند ہو گیا ۔افعان مہا جر ین نے پاکستان کو متبا دلہ کلچر دیا۔ متبا دلہ کلچر یہ ہے کہ جلسے کے لئے کر ایے پر تا لیاں بجانے او رنعرے لگا نے والے مزدور لے آو۔ جلسے کے بجٹ کا بڑاحصہ کر ایے کے نعرہ باز اکھٹے کر نے پر لگا یا جا تا ہے ۔اپنی جیب سے خرچ کر کے کو ئی بھی پاکستانی جلسے اور دھر نے پر نہیں آتا۔ان جلسوں پر 20 کر وڑ ر وپے ،40 کر وڑ رو پے اور 2 ارب روپے خرچ کر نے والے سر مایہ دار چا ہے ملک کے اندر رہنے والے “وطن دشمن “ہو ں یا ملک سے باہر رہنے والے غیر ملکی گما شتے ہو ں ۔سب اپنا سر مایہ سود کے ساتھ واپس لیتے ہیں ۔جلسے اور دھرنے پر کو ئی بھی شخص اللہ کی رضا ،ثواب کے حصول اور پا کستان کی سلامتی کے لئے سر مایہ نہیں لگا تا ۔باغ جنا ح گر اونڈ کر اچی میں 20 کر وڑ روپے کا جلسہ بھی ملک دشمنوں کا “گرینڈ شو “ہو گا ۔عزازیل کہتا ہے ۔
جمہو ر کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہ افلاک

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق