ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد……پارلیمنٹ کا کردار

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..


موجودہ سیاسی بحران میں پارلیمنٹ کا کردار مبہم ہو کر رہ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس پر 9کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ ملک کو کسی بحران سے نہیں نکال سکتا، اگر کسی بڑے بحران میں پارلیمنٹ کردار ادا نہیں کر سکتا تو پھر پارلیمنٹ کے وجود پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے موجودہ بحران میں پارلیمنٹ سے باہر ایک لفظ نہیں بولا۔ وہ اپنا ہر بیان ہاؤس آف کامنز کے سامنے آکر دیتا ہے۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اس کی رپورٹ پارلیمنٹ کی گیلریوں سے آتی ہے۔ پریس گیلریاں اس کی رپورٹنگ کرتی ہی۔ پارلیمنٹ کی کاروائی براہ راست دکھائی جاتی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے جمعہ 22 اپریل کو دو ہفتوں کے اندر دوسری بار ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر آکر قوم سے خطاب کیا اور اپنے خطاب میں کوئی نئی بات نہیں کی۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دو ہفتے پہلے قومی اسمبلی کے ایوان میں کہا تھا کہ چیف جسٹس یا پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے پانامہ لیکس کی تحقیقات کرائی جائے۔ جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، اے این پی، ایم کیو ایم اور دیگر اہم سیاسی پارٹیوں نے بھی چیف جسٹس کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے شعیب سڈل کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر اعظم اگر دو ہفتے پہلے اپوزیشن کا مطالبہ مان لیتے یا اپنی پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کرتے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کرتے تو بحران میں کافی حد تک کمی آجاتی ۔ 22اپریل کو نہ قوم سے براہراست خطاب کی ضرورت تھی نہ چیف جسٹس کو خط لکھنے کے اعلان کی ضرورت تھی۔ سیاست بھی تاش اور شطرنج کی طرح کھیل ہے جس میں وقت اور چال کی اہمیت ہوتی ہے۔ وقت پر غلط چال چلنے سے کھیل کا پانسہ پلٹ جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد درست چال بھی یاد آجائے تو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ مشہور مقولہ ہے وقت گزرنے کے بعد جو مکا یاد آجائے اسے اپنے منہ پر دے مارو۔ تاش میں بادشاہ اور یکّہ دو بڑے پتّے ہو تے ہیں۔ شطرنج میں بادشا ہ بڑا مہرہ ہوتا ہے۔ غلط چال چلنے اور وقت کو ضائع کرنے سے دونوں کی وقعت اور اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ رنگ میں دوکا پتّہ بادشاہ اور یکہ کو مات دے دیتا ہے ۔ہاتھی اور توپ خانہ کے ہوتے ہوئے بھی ایک پیادہ شطرنج کے بادشاہ کو گرا دیتا ہے۔ وزیر اعظم کی چال غلط تھی اور چال کا وقت بھی غلط تھا۔ دو روز پہلے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اعلان کیا کہ سب کا احتساب ہونا چاہیئے۔ ایک دن پہلے 21اپریل کو آرمی چیف نے فوج کے دو میجر جنرلز اور بریگریڈیئرز سمیت 11افسروں کو کرپشن کے الزام میں تمام مراعات واپس لے کر بر طرف کیا ۔ یہ بہت بڑا پیغام تھا کہ خبردار سدھر جاؤ ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے ترکی کے ایک ہفتے کے دورے پر جانے کے لئے رخت سفر باندھا اور عین اسی دن وزیر اعظم نے قوم سے ایسا خطاب کیا جس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایرانی انقلاب سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ دسمبر 1978ء میں شہنشاہ ایران آریا مہر محمد رضا شاہ پہلوی کو رپورٹ بھیجی گئی کہ ایران میں انقلاب آنے والا ہے۔ عالی جاہ کی حکومت اور پہلوی خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہو نے والا ہے۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد شاہی دربار کے سیانے، ہوشیار، چاپلوس اور خوشامدی گروہ نے کہا کہ اس رپورٹ سے شہنشاہ کے مزاج مبارک پر اچھا اثر نہیں ہوگا۔ عالی جاہ ناراض ہو جائیں گے اس لئے رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے۔ ایک نڈر اور بے باک خاتون نے کہا کہ یہ رپورٹ شہنشاہ کو میں جا کر دے دوں گی۔ حالات سے شہنشاہ کو باخبر کرونگی۔ اگر وقتی طور پر ناراض بھی ہو جائے تو چند گھنٹوں کے بعد وہ سوچ لے گا۔ غور کرے گا تو دوبارہ راضی ہو جائے گا۔ لیکن خاتون کو پتہ نہیں تھا کہ شہنشا ہ کا دماغ اس کے خوشامدی ٹولے نے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت جواب دے چکی ہے۔ اس روز ایک اہم ضیافت تھی۔ ضیافت کے بعد خاتون نے رپورٹ سے شہنشاہ کو آگاہ کیا ۔ شہنشاہ نے رپورٹ کے مندرجات سن کر خاتون کو گرفتار کروانے کا حکم دیا۔ خاتون اپنے منصب سے محروم ہو کر جیل چلی گئی۔ خوشامدیوں نے شہنشاہ کو داد د ی کہ گستاخی کرنے والی خاتون اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ شہنشاہ نے زبردست فیصلہ کیا۔ دو ماہ بعد انقلاب آیا تو پتہ لگ گیا کہ گستاخ عورت نے سچ بات کہی تھی۔ خوشامدی ٹولہ جھوٹ بول رہا تھا۔ مگر زوال کی طرف جانے والے بادشاہ کے دل و دماغ پر خوشامدیوں کا کنٹرول تھا۔ وہ شہنشاہ کو باور کرا رہے تھے کہ تم بہت مقبول ہو عوام تمہاری ایک دیدار کو ترستے ہیں۔ تمہارا چہرہ دیکھ کر عوام اپنے دل کے سارے ارمان بھول جاتے ہیں۔ رضا شاہ پہلوی کی طرح ہر حکمران کے آگے پیچھے چاپلوسوں اور خوشامدیوں کا ٹولہ ہوتا ہے۔ یہ ٹولہ اس کو عوام سے دور کر دیتا ہے۔ حقائق اسکی نظروں میں آنے نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ اس کا ستارہ غروب ہو جاتا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ دو بار یہ واقعہ ہو چکا ہے۔ ایک سوراخ سے دوبار ڈسے جانے کے بعد وزیر اعظم کو ہوش میں آنا چاہیئے تھا۔ قوم سے بے وقت اور بے محل خطاب کی جگہ قومی اسمبلی میں آکر بیان دینا چاہیئے تھا۔ پارلیمنٹ کو اپنے لئے طاقت بنانا چاہیئے تھا۔ مگر خوشامدی ٹولہ ایسا کرنے نہیں دیتا۔ کچن کیبنٹ کا وطیرہ ہے “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے”شیخ سعدی ؒ نے ایک حکایت بیان کر کے اس پر یہ شعر چُست کیا ہے:
اے عندلیب ناداں دم در گلو فروبند
نازک مزاج شاہاں تابِ سخن ندارد
اے نادان بلبل ! اپنی فریاد سے باز آجا ۔ بادشاہوں کے مزاج نازک ہوا کرتے ہیں۔ بادشاہوں کے مزاج کو بات سننے کی تاب نہیں ہوتی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عوام بھی نازک مزاج ہو گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان یا فخر ایشیاء ذوالفقار علی بھٹو ریڈیو اور ٹی وی پر آتے تھے تو عوام گوش بر آواز ہوتے تھے۔ اب حکمرا ن تقریر کرے تو عوام دوسرے چینل پر ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق