ناہیدہ سیف

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

ادارے کا مراسلہ نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں



nahida
ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

بے نظیرا نکم سپورٹ پروگرام ایک تحفہ تھا پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے نادار بیوہ خواتین کے لئے جو کہ اس وقت کے صدر جناب آصف علی زراداری کے مشورے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ذریعے عمل میں لا یا گیا۔ یہ پروگرا م جہاں ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور روٹی کپڑا اور مکان کی ایک کڑی تھی۔ وہاں دوسری طرف غریب نادار اور بیوہ خواتین کو با اختیار بنا کر اس کے ذریعے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا گیا اوراس کا نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام رکھا گیا اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک جامع اور نیک نیتی پروگرام تھا ،مقصد یہ تھا کہ یہ مدد اس خاتون کے دروازے تک پہنچے جو کہ مستحق ہے اس بیوہ تک پہنچے جو اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے۔ جو بچے پال رہی ہے اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔ اگر ہے بھی تو اس سے اخراجات پورے نہیں ہوسکتے جن کی ماہانہ آمدنی تقریباً چھ ہزار سے کم یا زمین آسی اسکوائر سے زیادہ نہ ہو وہ خاندان اس کا مستحق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت میں اسے نہ صرف شفاف بنانے کی کوشش کی گئی بلکہ اس کو وسعت دے کر وسیلہ روزگار وسیلہ صحت اور تعلیم اسکیم تک بڑھایا گیا اور جو کہ غربت کے خاتمہ کی طرف ایک عملی اقدام تھے۔
سابقہ حکومت کے خاتمہ کے ساتھ موجودہ حکومت کی بھرپور کوشش تھی کہ اس پروگرام کو کسی بھی طرح ختم کردیا جائے۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے سخت احتجاج کے باعث اس کو ختم نہ کرسکے۔ لیکن اس کی شفافیت اور مقصد کوسوالیہ نشان بنا دیا گیا ،بے قاعدگیاں اس طرح کو اس پر بھی قبضہ مافیہ کا کنٹرول چھا گیا اور اس کا اصل مقصد فوت ہوگیا ۔اب یہ نادر اور غریب لوگوں کو نہیں مل رہا جو دل کے نادار اور غریب ہے۔ دل کے نادار سے مراد یہ کہ کچھ لوگوں کے پاس بہت کچھ ہونے کے باوجود ان کا دل کھوکھلا ہوتاہے۔ دل کے بڑے غریب ہوتے اور بعض لوگ جن کے پاس شاید بہت کچھ نہیں ہوتا لیکن وہ دل ودماغ سے رچے ہوتے ہیں۔
یہ لوگ اصل میں امیر بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ شکر سے بڑھ کر امیری اور حرص سے بڑھ کر غریبی نہیں جب نعمتیں پہلے سے موجود ہو ں تو کسی غریب نادار اور بیوہ کا حق چھینا اور اس کے چند ہزار روپے پہ نظر جمانا عجیب بات ہے۔بہ چند ہزار روپے کسی کے لئے بہت کارآمد بہت اہم ہوسکتے ہیں۔ کسی کا چولہا جل سکتا ہے کسی کی صحت اور کسی کی تعلیم کا بندوبست اس سے ہوسکتا ہے وہ اس انتظار میں رہتے ہیں پورے ملک میں اب یہ پروگرام متنازعہ بنا ہوا ہے شکاتیں موصول ہورہی ہیں کہ جس گھروں میں دو دو چار چار افراد خانہ ملازمت کررہے ہیں وہاں مل رہا ہے سامنے والا مستحق گھر اس سے محروم ہے یا پھر غیر منصفانہ طریقے سے ایک ہی گھر میں چار چار لوگوں کو دیا جارہا ہے۔ یہ باقاعدگیاں ذمہ داروں کی طرف سے غفلت اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے جن پر نہ صرف نظر ثانی کی بلکہ ایک منظم حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے ناکہ اس پروگرام کا فائدہ اس کے صیح حقدار تک پہنچایا جاسکے۔میں اپنے ان نوجوانوں بہنوں سے اور اپنے بھائیوں سے بھی کہونگی کہ جب آپ سروے کیلئے جائے تو اپنے بیوہ ماؤں نادار بہنوں کو مت بھولیںیہ اپ کا فرض ہے اور ان کا حق ہے کوشش کرے بھرپور کوشش کرے کسی دباؤ کے بغیر اس ذمہ داری کو شفاف طریفے سے نبھانے کی۔ یہ معاشرہ یہ لوگ ہمارے اپنے ہیں ہم نے ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔غلط اور صیح کا ساتھ دے کے اور غلط کو نظر انداز کر کے اس کی حوصلہ شکنی کر ے۔
آخر میں جواب دینا چاہوں گی کچھ میسجزکے ہمارے ایک سٹوڈنٹ برار (بھائی) لکھتے ہیں کہ کائے (بہن)میں اپ کے کالمز شوق سے پڑھتا ہوں ۔آپ کم کیوں لکھتی ہیں اور دھمکی دی ہے کہ اگر جواب نہیں دیا تو اپ کا کالم پڑھنا چھوڑ دونگا۔۔اپنے بھائی کو میں کہو گی کم کیوں لکھتی ہوں اس میں دو باتیں ہی ہوسکتی ہے کہ یا تو کبھی کھبی جسارت کرلیتی ہوں یاپھر موڈی ہوں جب موڈ ہوتا ہے تبھی لکھتی ہوں اپ کو جواب مل گیا کالم ضرور پڑھیے اور خوش رہیے۔
ایک دوسرے صاحب پوچھتے ہیں ناہید سیف صاحبہ میراسچ سے کیا مراد ہے۔جی میرا سچ سے بہت سیدھا سادہ مراد ہے جو لکھوں گی سچ لکھوں گی سچ کے سوا کچھ نہیں لکھونگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

اترك تعليقاً

إغلاق