اقبال حیات آف برغزی

بن کھلے مرجھانے والے پھول تحریر : اقبال حیات آف برغذی

ایک ہوٹل میں بیٹھا تھاکہ ایک نوجوان ہاتھوں میں فائل لئے اندر آکر ایک سیٹ پر بیٹھ گئے اور انتہائی اونچی آواز سے سرد آہ بھر کر فائل زورسے میزپر پٹخ دیئے۔اور سر کے بکھرے بالوں میں انگلیاں پیوست کرکے کھینچے لگے۔قریب بیٹھا ایک معمر شخص نے اس نوجوان کی افسردگی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ بابا کیا بتاؤں جس ملک میں لینے کے دینے پڑنے کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑے تو انسان کی زندہ رہنے کی آس بھی ختم ہوتی ہے۔ یہاں تو معاملہ “آٹا گھر میں نہ ہونے پر شوشپ کا تقاضا کرنے کی چترالی کہاوت کے مترادف ہے۔حصول علم کی راہ میں حائل مالی مشکلات کے کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد جب اس کے ثمرات سے مستفید ہونے کا مرحلہ آتا ہے۔ تواین ٹی ایس کے نام پر آئے دن امتحانات سے واسطہ پڑتا ہے۔اور حصول رزق کے سلسلے میں حکومتی کسوٹی پرپر کھنے کیلئے خود کو پیش کرتے وقت ہر درخواست کے ساتھ اپنی غربت کی جیب کی پونچی بھی حکومت وقت کی نذر کی جاتی پڑتی ہے۔ اور یوں امید کے سہارے آئے دن جابجا امتحانی مراحل سے گزرتے گزرتے قرضداری کے مرض کا شکار ہونا پڑتا ہے۔اور خاص کر چترا ل کیلئے مخصوص سیٹوں پر تعیناتی کے لئے پاکستان کے دوردراز علاقوں میں امتحانی مراکز کا قیام یہاں کے غریب بے روزگار افراد کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے اور ساتھ ساتھ دوہرے نظام تعلیم میں جہاں معیاری اور غیر معیاری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد کیلئے امتحان کا ایک ہی پیمانہ مقرر کرنا بھی حیران کن ہے۔ اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ہر آسامی کیلے ٹیسٹ میں پوچھے گئے سوالوں کا متعلقہ آسامی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ۔یوں یہ سلسلہ ہماری مجموعی کردار کے اوزان پر گزرتے گزرتے جب میرٹ لسٹ کا مرحلہ آتا ہے تو آسامی کے لئے مطلوب علمی صلاحیت کو فراموش کرکے زیادہ سے زیادہ تعلیمی اسناد کیلئے زائد نمبر دے کر تقرری عمل میں لائی جاتی ہے۔ اور ٹیسٹ میں حاصل کردہ نمبر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہاں بحیثیت چترالی ہم اپنی اس فطرت کا ذکر نہ کرینگے تو زیادتی ہوگی کہ ہم اپنی دیگ کو خالی دیکھ کر دوسروں کی دیگ میں بھی کچھ پکنے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ملازمت کے لئے مجوزہ معیار پر پورہ نہ اترنے کی صورت میں عدالتوں میں دھائی دیتے ہیں۔ اور یوں “نہ تتے کیپینی و نہ متے ڈوری “کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ایک محکمے میں میرٹ لسٹ میں اپنا نام آنے پر رزق کا دروازہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔مگر کسی نا انصاف کی طرف سے درخواست پر عدالت کی طرف سے کاروائی روکنے کے حکم کے بعد کافی عرصہ یہ معاملہ لیت ولعل کا شکار رہا اور امید کی یہ کرن بھی غائب ہوگئی۔ یوں ملازمت کیلے مقرر عمر کی حد گزرجانے جیسے لاعلاج مرض کا خوف ہر وقت سر پر سوار رہتا ہے۔
اس داستان غم کو سنانے کے بعد اس مایوس نوجوان نے کہا کہ مجھ جیسے لاتعداد نوجوان اس دیس میں پھول کی ماند کھلنے کی امید میں مرجھاجاتے ہیں۔یہاں تو غریب کے حصے میں تڑپ کر آہ بھرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اشرافیہ کی آماجگاہ ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ نوجوان ایک اور زوردار آہ بھر کر سر پکڑ کر روتے ہوئے کہنے لگا کہ اس لاحاصل دھندے میں چالیس ہزار روپے کا مقروض ہوا ہوں۔نہ جانے انہیں کیسے اداکروں۔ایسا لگتا تھا کہ اس نوجوان کے دل سے نکلتے ہوئے آہ کی تپش سے صاحبان اقتدار جل کر بھم ہوجائیں گے۔مگراللہ رب العزت کے فیصلے حکمت سے خالی نہیں ہوئے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق