مضامین

صدا بصحرا ……بچوں کی وردی کا حکمنامہ

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی…….
آپ خیبر پختونخوا کے دیہات میں جا ئیں تو سر کا ری سکو لوں کے بعض بچے پینٹ شرٹ کے ساتھ ہو ائی چپل پہن کر یا ننگے پاؤں سکول جاتے ہیں ۔ یہ دیکھ کر حیرت ہو تی ہے کہ پاؤں میں جو تے نہیں ہیں پینٹ شرٹ کس طرح پہنتے ہیں ۔اندر جھا نکنے سے اندازہ ہو تا ہے کہ حکو مت نے تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل کر تے ہو ئے اس طرح کا نادر شاہی فرمان جا ری کیا ہے ۔اس حکم کی رو سے تجر باتی طور پر سکولوں کے اندر پیر نٹ ٹیچر ایسو سی کونسل کی مشاورت سے شلوار قمیص کی جگہ پینٹ شرٹ کی وردی بچوں کو پہنائی جارہی ہے ۔شلوار قمیص 600 رو پے میں آتی تھی ۔پینٹ شرٹ 1300 روپے کی ہے ۔حکو مت کہتی ہے یکساں نظام تعلیم کے لئے سر کاری سکولوں کے بچو ں کو پبلک سکو لوں کے بچوں کی طرح پینٹ شرت پہنایا جائے ۔2016 میں یہ حکم اختیا ری ہے ۔2017 ء میں پینٹ شرٹ کا تاجر 80 لا کھ بچو ں کے لئے سٹاک لا ئے گا تو یہ حکم لازمی قرار پا ئے گااور ہر غریب گھرانے پر تبدیلی کا نیا بو جھ ڈالا جا ئے گا۔ یکسان نظام تعلیم کا ہدف پینٹ شرٹ کے تا جر کو کھرب پتی بنا کر حا صل کیا جا ئے گا ۔محمود نظامی کا سفرنامہ اس طرح کے حکمنامے دیکھ کر بار بار یاد آ جاتا ہے۔ اس سفر نامے کا نام نظر نامہ ہے ۔اس کے اندر ایک ایک جملے میں بڑی بڑی بات کہی گئی ہے ۔سمندر کو محمود نظامی نے عملًا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ۔یو رپ میں گھو متے ہو ئے اٹلی جا تے ہیں ۔رو م کی سیر کر تے ہیں ۔بیسویں صدی کے فاشسٹ لیڈر اور بد نام ڈکٹیٹر مسو لینی کے دفتر کو دیکھ کر لکھتے ہیں “اس رو سے تو ہمارے چمن کی ہر شاخ پر رات کا شہباز اور وطن کے ہر دفتر میں کو ئی نہ کو ئی مسو لینی بیٹھا ہو ا ہے ” مصنف کو مسولینی کے دفتر کا اندرونی ما حول بہت متا ثر کن نظر آیا ۔دفتر بہت بڑے ہال میں تھا ۔ان کا ملا قا تی ایک کو نے میں مسو لینی کی میز تک پہنچنے سے پہلے ڈکٹیٹر کے رعب اور جلال سے بد حو اس ہو جاتا تھا ۔مسو لینی کی با تیں اس پر بجلی کی طرح گر تی تھیں ۔ڈکٹیٹر نے جان بو جھ کر ایسا ما حول بنایا ہو ا تھا ۔محمود نظامی نے مسو لینی کے لئے الّو کی جگہ رات کے شہباز کا استعارہ ڈھو نڈ نکا لا ہے ۔جو ڈکٹیٹر کے مقام اور مر تبے سے مطابقت رکھتا ہے۔خیبر پختو نخوا میں تبدیلی کا نعرہ لگا یا گیا ۔3سالوں میں صرف 3کیلنڈر تبدیل ہو ئے ۔اس طرح یکساں نظام تعلیم کا نعرہ لگا یا گیا ۔ نظام تعلیم پر اس نعرے کا کو ئی اثر نظر نہیں آیا۔ حکومت سکو لوں کی تعمیر اور تعلیم کی ترقی پر ایک پائی خرچ کر نے کے حق میں نہیں ہے ۔2012 ء میں صوبے کے اندر 800 سکولوں کا تعمیراتی کا م جا ری تھا ۔مئی 2013ء میں 200 سکول تیار ہو چکے تھے ۔ان کو سٹاف نہیں ملا ۔600 سکو لوں میں معمولی کا م باقی تھا ۔کسی سکول میں واٹر سپلائی کنکشن ،کسی سکول میں بجلی کنکشن ،کسی سکول میں رنگ ورغن کا کام تھا ۔3سالوں سے تعمیراتی کا موں پر پابندی سے کسی سکول میں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی ۔اب تبدیلی کے لئے غریب بچوں کے نادار والدین کو حکم دیا گیا ہے کہ ننگے پاوں سکول جانے والے بچے کو شلوار قمیص کی جگہ پینٹ شرٹ پہنا دو ۔اس طرح کا حکم دینے والا اگر یو رپ میں بیٹھا ہے تو ہم اس کو معاف کر ینگے ۔اس نے پاکستان نہیں دیکھا ہو گا ۔اگر وہ زندگی میں ایک بار بھی پاکستان آیا ہو ۔ایک گھنٹے کے لئے بھی خیبر پختو نخو ا کے کسی گاؤں کا سکول دیکھا ہو ۔سکول جانے والے غریب و نادار بچوں کو دیکھا ہو ۔پشاور کی نواحی بستی سوڑ یزی بالا یا متھرا یا پشتخرہ یا دارمنگی کے سر کا ری سکول میں جھانک کر ،ننگے فرش پر بیٹھ کر پڑھنے والے بچوں کو دیکھا ہو تو وہ ایسا حکم کبھی نہیں دیگا ۔صرف یورپ میں بیٹھا ہو احکمران ایسا حکم دے سکتا ہے۔ اگر بد لنا ہے تو کلاس روم کو درست کرو ۔ریسو رسنز دیدو ۔پہلی جماعت میں بچو ں کو معیاری تعلیم دینے کے لئے کمرہ جماعت کے اندر کم ازکم دو ہزار روپے کے ٹیچنگ ایڈز اور کٹس ہو نے چاہیں ۔چو تھی جماعت میں جغرافیہ پڑ ھا نے کے لئے کم ازکم 5 ہزار رو پے کا سا مان کمرہ جماعت میں ہو نا چاہیے ۔سکول کے کسی بھی کمرے میں فرش پر ٹاٹ نہیں ہے ۔دیوار پر پاکستان کا نقشہ نہیں ہے ۔پا نچو یں جماعت پاس کر نے تک بچوں نے گلو ب کی نہیں دیکھی ۔پینٹ شرٹ پہن کر وہ کس کر سی پربیٹھیں گے ؟کس ڈیسک پر کتا بیں رکھیں گے ؟کن تدریسی معا ونات کے ذریعے ان کو پڑ ھا یا جائے گا ؟آپ کا انڈی پینڈ نٹ ما نیٹر نگ یو نٹ دروازے پر آکر مسیج کر تا ہے کہ استاذ حاضر ہے ۔اس کو اندر جاکر کمرہ جماعت میں جھا نکنے کا حکم نہیں ہے ۔ایک کمرے کے ننگے فرش پر 200 طلبہ بیٹھے ہیں ۔3اسا تذہ ان کو تین مختلف مضا مین ایک ہی کمرے میں پڑ ھا رہے ہیں ۔کمرے کے اندر گردوغبار ،دھول اور شور اس قدر ہے کہ اتنی آلو دگی مو یشیوں کے میلے میں بھی نہیں ہو تی ۔ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر کے اختیا رات ایم پی اے کو دیدے گئے ہیں ۔ایم پی اے اور ضلعی نا ظم کے درمیان اختیارات کی الگ جنگ ہو رہی ہے ۔صوبائی سطح پر ڈا ئر یکٹر کے اختیارات پر تعلیم کے وزیر نے قبضہ کیا ہو ا ہے ۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ صوبائی وزیر یا ایم پی اے نے زندگی میں کبھی سرکاری سکول نہیں دیکھا ۔سرکاری سکول کے استا ذ اور بچوں سے نہیں ملا ۔وہ سرکاری طور پر سارے اختیا رات پر قا بض ہے اور سکول کے بارے میں اوٹ پٹا نگ فیصلے کر تا ہے ۔سرکاری سکولوں میں بچوں کی وردی کا حکمنا مہ بھی ان اوٹ پٹا نگ فیصلوں میں سے ایک ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،صوبائی وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک اور سپیکر اسد قیصر سے التجا ہے کہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنی ناک پر رومال رکھ کر کسی گاؤں کے سرکاری سکول کا دورہ کر یں ۔سکول کے کمروں میں جھانک کر دیکھیں۔ اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات کر کے دیکھیں کہ یکساں نظام تعلیم کس طرح لا یا جا سکتا ہے اور تبدیلی کس طرح آسکتی ہے ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔