پروفیسر شفیق احمد

چترال کے تعلیمی اداروں میں نقل کا رجحان اور کُتب بینی کا فقدان

موضوع نو



انسان اشرف المخلوقات اوراس دُنیا میں اﷲتعالی کا نائب ہے ۔جنت کا باسی تھا ،شیطان کے بہکاوے میں آکر اسکی نقل اتارنے کے سبب وہاں سےخارج کردیا گیا۔تاکہ یہ مخلوق اپنی غلطیوں  کا  اعتراف کرکے اﷲتعالی کی تعلیمات پرعمل کرکےسُرخ رو ہوکر دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام  حاصل کر سکے۔مگریہاں پر انسان وہی طرز عمل اختیارکرکے بلکہ کئی قدم اگے نکل کر نافرمانی کا بازارگرم کر رکھا ہے۔خداوندپاک اپنے آخیری نبی کے ذریعےاپنی آخیری ہدایت کی کتاب قرآن پاک  نازل فرمایا، تاکہ انسان اس کتاب کو پڑھ کر اس پر عمل کر کےزندگی گزارے تاکہ اسکی نجات اسکے ذریعےسے ممکن ہو جائے ۔مگرانساں نے  اسکو پڑھنا ہی چھوڑ دیا  اور رسول پاکﷺکے نقش قدم(سنت) پر چلنے کے بجائے اپنےمن مانے راستوں کا انتخاب کیا۔  انسان اور خصوصی طور پر مسلمان میں قرآن بینی اور قرآن فہمی کے فقدان کی وجہ سے  آج مسلمان قوم دُنیا میں مختلف طرزکے تنازعات اور مشکلات میں گھری  دیکھائی دے رہی  ہے۔ اس طرزعمل کےنتیجے میں  قہر خداوندی دُنیا میں سونامی ،ز لزلہ ،وبا ء،قحط  اور دہشت گردی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔ لیکن ہم مسلمان قرآن پاک کے وارث ہونے کے باوجود ،ان حالات و واقعات سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں  ہے ۔اور وہ تمام اعلی اقدار جو مسلمانوں کا شیوہ رہے آج غیر مسلموں نے اپنا رکھے ہیں۔صداقت ،امانت ،دیانت آج ہمارے ہاں مفقود اور اغیار کا طرہ امتیاز ہیں اور ہمارا حال اقبال کے الفاظ میں:

وضع میں تم  ہو  نصاری  تمدن  میں  ہنود
یہ مسلماں ہیں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

مسلمان کے پاس الہامی ضابطہ حیات قرآن پاک کی صورت میں  اور سنت مبارکہ کی صورت قرآن کا عملی مظاہرہ موجود ہونے کے باجود بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں  ۔غیرمسلموں  کے پاس  راہنمائی کے لئےکچھ  نہ ہونے کےباوجود بھی باعمل  ہیں ۔غیر مسلم ایمان  کی عدم موجودگی کی وجہ سے بے ایمان ہیں اور ہمارے پاس ایمان ہونے باوجود بے ایمانی کا مظاہرہ کررہے  ہیں ۔ہم انکے  کسی مفید عمل (علمی تحقیق وجستجو)کی نقل ہر گز نہیں اتارتے ہیں بلکہ ہم انکی ظاہری وضع قطع اور طرز بودوباش   کی ظاہری چمک دمک کی نقل اتارتے ہیں۔حلانکہ اخلاقی اقدار کی غیر موجودگی کی وجہ سے  مغربی دُنیا خود پریشان ہو چکی ہے۔مختلف   نفسیاتی اُلجھنوں ،عدم اطمنان خود کُشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے علاوہ مختلف قسم کی بے چینیوں کا شکار ہے۔ تو ہم  انکے صحت مند پہلوں کی مثالیں دیتے وقت اس بات کو یکسر بھول جاتے ہیں   کہ انکے بارے میِں  ہمارے قرآن پاک میں  واضح احکامات موجود ہیں، جن میں سب سے اولین صفت دھوکہ نہ دینا ،جھوٹ نہ بولنا ،ناپ تول میں  فرق نہ کرنا،ملاوٹ نہ کرنا ،ذخیرہ اندوزی نہ کرنا، آپکی زبان اور ہاتھ  سے دوسروں کومحفوظ رہنے کی تلقین ،ہمسائے کے حقوق ،عورتوں کے حقوق،عورتوں کے مردوں پر حقوق،فلاح انسانیت،حربی وجنگی قوانین ،عدالت کا نظام اور کائینات کو تسخیر کرنے کی باتیں وہ کونسی باتیں نہیں ہیں  جوہمارے عالمگیر مذہب  یعنی  ہمارے قرآن پاک اور حدیث مبارکہ میں موجود نہیں ہیں۔ہم میں  قرآن فہمی اور قرآن  بینی کے فقدان کی وجہ سے ،ہم اِن  صفات کو انکا ورثہ قرار دے  دیکر انکی تعریفیں کرتے رہتے ہیں  حالانکہ ان  نیک اعمال کےپرچار اور نمونہ بنے کی ذمہ داری ہماری تھی ۔ ہم انکی طرح  محنت کر کے کوئی  چیز ایجاد کر نے کی نقل نہیں کرتے ہیں اور اُنکے کسی غیر شرعی عادات و اطوار سےفوراً متاثر ہوکر اپناتے رہتے ہیں ۔ہم اُنکی زبان کی نقل کر کے ببول سے بابو بن کر بھی شرم محسوس نہیں کررہےہیں ،لیکن اُنکی طرح محنت کر کے انسانیت کی فلاح کے لئے کوئی  شاہکار سر انجام دینے کا احسا س بھی نہیں رکھتے ہیں ۔ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق نصاب ترتیب دے کر سائنسی ترقی میں قرآن پاک سے راہنمائی لینا کُجا اسکو  ثواب کے طور پر پڑھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ ہم نے قران پاک اور اسلامی تعلیمات کو  ایک خاص طبقے کے لئے مخصوص کر کے چھوڑ رکھےہیں  ۔دوسری طرف مغرب میں قرآن پاک  پر لیبارٹی بنا کر اسے بھر پور راہنمائی لی جارہی ہے اور اُنکے نقل بھی اتارنےکے لے لئے ہم تیار نہیں ہیں ۔ اُنکی زبان کی نقل کرتے ہیں ،انکے ایجادات و دریافتوں کی نقل اتارنے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں ۔اسکا مطلب یہ ہے، انکے لئےہمیں  سوچنا پڑتا ہے جو مسلمان کے بس کی بات نہیں  ہے، اس وجہ سے  مسلمان قوم اپنی تحلیقی صلاحیتوں کو مکمل طور کھو چکی ہے ۔تحلیقیت سوچ کی بناء پر پیدا ہوتی ہے، سوچنے سے مسلمان قاصر ہے ۔ہم ہر کام اسانی اور بے غیر محنت کے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔حدیث مبارکہ ہے “الکاسبُ حبیب اﷲ”محنتی اﷲ کا دوست ہوتا ہے” اس حدیث کو ہم صرف پڑھتےہیں اور عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔  ہم  بےغیر محنت کے اﷲ کا دوست بننا چاہتے ہیں جو کسی صورت ممکن نہیں ہے۔اﷲ کا دوست بنے کےلئے شدید محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔اسکےلئےگھومنے پھرنے ،مشاہدات ،تجزیات  ،تحقیقات ،تجربات ،غوروفکر کرنے  کی ضرورت پڑتی ہے تب جا کر اﷲ کو دوستی منظورہوتا ہے  ۔تب جاکر آپ انکی کرم نوازیوں اور انساں کو اپنی صلاحیتوں سے اگاہی حاصل  ہو جاتی ہے ۔تب جاکر اپنی شدید محنت کے بل بوتے پر کسی نہج تک پہنچ کر انساں کے فلاح کے لئے کوئی کام سر انجام دے سکتے ہو ۔تب جاکر اﷲ تعالی کےوحدانیت کو تسلیم کر سکتے ہو ۔ اور اقبال کا تصور خودی بھی اس بات پرزوردیتی  ہے کہ انساں  کی خودی کا محور عقیدہ توحید ہے جب انساں اپنے پیدا کرنے والے سے اگاہ ہوگا اور اس کائنات کے خالق اور چلانے والے کو تسلیم کرے اوراپنی ذات پہ یقین رکھے تو اس کے لئے دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں  ہو گا۔اقبال  مرد مومن کے بارے میں یوں گویا ہے۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے  اسکے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

انساں اپنے عقیدے کو کائنات کی ان وسعتوں میں گم ہوکر ہی  مضبوط بنا سکتا ہے ۔گم ہونے سے ُمراد شدید غور وفکرکرنا  ،ہر شعبے میں  شدید محنت ،کُتب بینی ،کتب نویسی اورتحلیقات و ایجاداتاور دریافتوں  کی ضرورت پڑتی ہے ،اسے ہم مسلمان اورخصوصی طور پر  پاکستانی قوم کا شیوہ اس قسم کی مشقت ومحنت    نہیں رہی ہے۔ ہم انگریزوں کی لکھی  ہوئی کتابیں ،انکی بنائی ہوئی چیزوں ، انکی بودوباش اور انکی طرز زندگی کی  نقلیں اُتارنےمیں دیر نہیں لگاتے ہیں۔اسلام ایک مکمل نطام حیات ہے اسکا مطالعہ کرکے اور اسکے نقل اتار کر کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن ہم تارک قرآن ہو کر ایسے رسوا و خوار ہو چکے ہیں جو دنیا میں  سراٹھا کر جینے کے قابل ہی نہیں رہے ہیں۔اقبال مسلمانوں کی  ابتری بد حالی اور خواری کی پست ترین زندگی  کا ذکر کرتے ہوئے اسکی وجہ قرآن پاک سے دوری کو قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے!

                         وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر             اور تم خوار  ہوے تارک قرآن ہوکر

ہم جن چیزوں  کو اپنے سوچ بچار ،تحلیقی پہلو ں میِں نکہار پیدا کر کے اور مطالعہ سے  حاصل کر سکتے ہو اس میں نقل کرتے ہیں ۔جس طرح ان دِنوں گیاروِیں اور بارویں جماعت کے امتحانات شروغ ہونے والے ہیں  اور طلباء تجربہ گاہوں کی طرف  رُخ کئے بے غیر راہنماء کُتب کی مدد سے  ڈاکٹر ،انجینئر  اور سائنسداں بنے کے لئے تیار ہیں۔ سائنسکی علم پریکٹیکل کے بغیرنامکمل  ہے سائنس کسی بھی چیز کوتحقیقی بنیادوں اورعملی طور پر ثابت کئے بے غیر کسی چیز کو تسلیم کرنے انکاری ہے۔لیکن ہم بے غیرپریکٹیکل اور بے غیر محنت کے سائنس پڑھنا چاہتے ہیں اور امتحانات میں پریکٹیکل کی اہمیت بالکل ختم ہو چکی ہے  اور  پریکٹیکل    کے علاوہ سائینس کی علم حاصل کرنا  ناممکن اور نا مکمل ہے۔بعض ادارے تجربہ گاہوں کے بے غیر اور بعض ادارے اس کو اہمیت دیئے بے غیرقوم کو سائینس پڑھا رہے    ہیں ۔اسکا بہترین حل یہ ہے کہ پریکٹیکل  کا وہی پرانا نظام بورڈ کی طرف سے بحال کیا جائے  اس پر معائنہ ٹیمں مقرر کر کے اسکی کڑی نگرانی کرائی جائے اور   تمام سائینس کے مضامین کو اُردو زبان میں  پڑھائے جائیں تاکہ طلباء کو عبارت پڑھ کر مفہوّم کو سمجھنے میں اسانی ہواور طالب علم فوراً  تجربہ گاہ کی طرف رُخ کرے اس میں مگن رہے ۔اسے طُلباء میں کُتب بینی کے ساتھ ساتھ خود محنت کرنے کا حوصلہ پیداہونے کے   کے ساتھ ساتھ  پریکٹیکل کی اہمیت کوبھی سمجھ سکےگا ،ورنہ چند سال بعد ہو سکتا ہے اسکو بے کار چیز سمجھ کراعلَےعہدوں پرکم تعلیم یافتہ یا سفارشی بُنیادوں  پر براجمان طبقہ اسکو نصاب کا حصہ ہی سمجھنے سے انکار کرکے اسکو ختم ہی  نہ کر  بیٹھے۔

چترال کے مثالی درسگاہ ہائی سکول چترال اور ڈگری کالج چترال  ایک تاریخی اہمیت کے حامل ادارے ہیں انہی اداروں سے کئی سپوت ملک کے اعلے عہدوں پرفائز ہو کر  اپنی فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں ۔ہائی سکول چترال کی بنُیادمہتر سر ناصر الملک نے ۱۹۳۷ میں رکھی اور ڈگری کالج چترال کی ابتدا ء بھِی اسی سکول میں ۱۹۶۹ءکی گئی ۔حق تو یہ تھا اسی کالج کی عمارت کو ہائی سکول کے احاطےمیں  تعمیر کرائے جاتے ۔اگر عظیم  انساں سر ناصرالملک زندہ ہوتا ضرور ڈگری کالج کی  عمارت ہائی سکول  کے قریب ہی ایستادہ ہوتی ۔اگر یہ دو ادارے ایک ہی چاردیواری اندر تعمیر ہوتے تو آج اسی سکول کا معیارپشاور کے اسلامیہ کالیجٹ سکول اور ڈگری کالج کا معیار اسلامیہ کالج پشاور سے  سے کم نہ ہوتا ۔چترالی  قوم کی علم دوستی نہ ہونے کے باوجود شرح خواندگی سے دیگر اضلاع کا بھر پور مقابلہ کر رہا ہے۔چترالی قوم کی علم دوست نہ ہونے کےچند ثبوت ہمارے سامنے موجود ہیں، اُن میں ڈگری کالج چترال اور گرلز ڈگری  دروش  کی عمارتوں  کی تعمیر کے لئے  چترال اور دروش میں بہترین و محفوظ جگہ نہیں   ملی اور ڈگری کالجزکی عمارتیں  سیلاب زدہ علاقے میں  تعمیر کرائے گئے ۔بوائز ڈگری کالج  بونی ، گرلز ڈگری کالج  بونی اور آغا خان ہائیر سکنڈری سکول  کو بونی شہر کے اندر جگہ نہیں ملی اوران اداروں کو شہر سے کئی کلومیٹر دور تعمیر کئے گئے ۔

gdc

اس بناء پر طلباء دُور دُور سے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔اُسکے مقابلے  میں چترال ،بونی اور دروش میں جیل  خانہ ،پولیس سٹیشن،گودام ، اور دیگر ادروں کے لئے زمینیں  فراہم کئے گئے  اور جن مقامات  کو ان عظیم ادروں کے لئے تجویز کی گئی تھی انہی مقامات کو دیگر مذکورہ بالا اداروں کے لئے وقف کر دئیے گئے۔میرےکہنا کا مطلب یہ  ہے، موجودہ  چترال کے عوام سے زیادہ ریاست چترال کا مہتر سر ناصرالملک زیادہ علم دوست ثابت ہوا۔کیونکہ موجودہ دورکے راہنماء اور عوام  تعلیمی ادروں کے مطالبےاور  منظوری کے بجائے دیگر منصوبہ جات  کو ترجیح دینے کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ آج چترال میں چار بڑے کالجز کے علاوہ بے شمار نجی تعلیمی اداروں کی موجودگی کے باوجود ہم یونیورسٹی اوربورڈ کی سہولیات سے محروم ہیں ۔ اگر سر ناصرالملک جیساکوئی عظیم علم دوست راہنما ء ہوتاتو آج چترال کے عوام یونیورسٹی اور بورڈ کی سہولت سےمستفید ہوجاتے۔سب سےبڑی افسوس کی بات یہ ہےکہ اسکے نقش قدم پر چل کر آج کوئی بھی  راہنماء عوام کے دلوں مقام پیدا کرنے سے قاصر ہے۔تو یقیناً اس  علم دشمن ماحول میں جنم لینے والے  علم دوست نسل کی توقع نہیں رکھ  سکتے ہیں ۔اس نسل سے تعلق رکھنےوالے لوگ سارا کام جعل سازی ،سفارش اور خصوصی طور امتحانات کے دوران نقل  کرانے کی سفارش اور ان عناصر کی پشت پناہی یا کسی بھی تعلیمی ادارے اورنظام  امتحانات کے  اصلاحی امور ر میں  مداخلت  کر کےاسکو سبوتاژ کرکے بڑی کامیابی قرار دیکر فخر محسوس کرتے رہتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے اصولوں کے  مطابق  سخت ڈیوٹی سر انجام دینے والے اہلکاروں کے بل غائب کراکر اور انکی ڈیوٹیاں بند کراکر قسم قسم کی پیچدگیاں پیدا کر کے بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ یہ باتیں ہم اپنے تجربے ،مشاہدے اور بگھتےاورمحسوس کرتے ہوئے کر رہے ہیں اور سنی سنائی باتیں نہیں  ہیں ۔

درجہ بالا چند تجزیئے سے ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے  ہیں کہ جب تک  ہم چترال کے عوام سب یک زبان ہو کر نقل کے خلاف اگاہی دےکر ایک نہیں  ہونگےتو ہمیں نقل کے خلاف کبھی بھی کامیابی حاصیل نہیں ہوگی ۔اسلئےہمیں  چترال کے معاشی لحاظ سے پسماندہ اور دیگر صنعتی حوالے سے محروم قوم کو صرف تعلیم ہی سے ہمکنار کر کے انکی معاشی حالت اور معیار زندگی میِں بہتری لا سکتے ہیں ۔اسکے علاہ ہماری نجات ممکن نہیں ہے ۔معیاری اور نقل سے پاک تعلیم کے ذریعے سے ہم اپنی قوم کے  بیڑے کو پار کرا سکتے ہیں ۔اس حوالے سے ڈگری کالج چترال اور ہائی سکول چترال کے اصلاحی پہلو نمایاں ہیں ۔خدا کے فضل سے ڈگری کالج چترال کے تمام سٹاف مقامی ہیں اور قابل اساتذہ پر مبنی ادارے کے اراکین اپنی فرئض منصبی خوش اسلوبی کے ساتھ سر انجام دے رہے ہیں  اور رواں سال ڈگری کالج کا  طالب علم پشاوربورڈکے تمام گورنمنٹ کالجز میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔  اسکے علاوہ پاک آرمی میں بھرتی ، میڈیکل کالجز اورانجینئرنگ کالجز کے علاوہ دیگر شعبہ جات کا حصہ ہر سال بڑی تعداد میں بنتے جارہے ہیں  اور خصوصی طورپربڑی تعداد میں ہر سال  ہمارے اپنے شاگرد ہمارے  سٹاف ممبرز بنتے  جارہے ہِیں اور ساتھ بی ۔ایس  کے کلاسزبھی شروغ ہو چکے ہیں۔اسکے علاوہ ادارے کے اندرہم  نصابی اور عیر نصابی سرگرمیوں  مشاعرہ ،ادبی سوسائیٹی،تقاریب ،صفائی مہم ،کھیل ،سوشل ورک،رضاکارانہ کاموں میں  بھرپور حصہ لینے کے مواقع فراہم کرتے ہیں  ۔ پچھلے سال  پورے صوبےکےکا لجز  میں ڈگری کالج چترال کی ٹیم فاتح رہی۔اس طرح ہم قوم کے کے بچوں کو ایک ذمہ  داراور فغال  شہری بنا  کر معاشرے کو حوالہ کیا جاتا ہے ۔ تو اسکا مطلب یہ ہے اسی ادرے کے اندر  نقل کے روک تھام اور پڑھائی کے نظام  میں بہتری ائی ہے ۔اس طرح ضلع کے پسماندگی کے خاطر تمام شعبے نقل کے علاوہ  معیاری تعلیم فراہم کرے اور غریب عوام کے بچے سکاوٹ یا پولیس میں بھرتی ہونے اور تمہیں دعائیں دینے کے فرسودہ طریقہ کار کے سفارشوں سے دور رہ کر اپنی ڈیوٹی صحیح ایمانداری اور جذبے کے ساتھ سر انجام دے دیں تاکہ چند سال بعد ہم نقل کی اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔اس سلسلے میں والدین میں شعور واگاہی مہم چلاکر طلباء کے گھروں میں  معمولات کی کڑی نگرانی کراکراور کُتب بینی ومحنت کی عادت پیدا کرکے نقل کی اس ناسور سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔کیونکہ امتحانات کے دوران والدین بچوں سے زیادہ پریشان ہوکر سفارشیں کراکرپنے بچوں کی عادتوں کو خراب کرتے رہتے ہیں ۔آج خدا کے فضل سےچترال میں دو پبلک لایئبریرز کے علاوہ ڈگری کالج چترال،کامرس کالج اور عبدالوالی خان یونیورسٹی چترال کیمپس کے پاس بہترین اور جدید سہولیات سے آراستہ لایئبریز موجود ہیں ۔والدین اپنے اوراپنےبچوں کے معمولات میں کھیل کود کے علاوہ کُتب بینی کے لئے لایئبریری کی طرف بھی جانے کو شامل کرےتاکہ ہم اپنے ملکی حالات حاضرہ اور محقیقین  کے نظریات سے اگاہی حاصل کر کے ہم ایک با شعور معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنا سکے۔ اسکے علاوہ نجی تعلیمی ادروں کو چاہئےکہ وہ اپنے اداروں میں اعلے معیار کے تجربہ گاہیں اور لایئبریریز کی سہولیات فراہم کرے۔ان سہولیات تک رسائی کے لئے  طلباء  کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے اپنے لایئبریری کے دروازے کھلا رکھے ۔تاکہ طلباء  اور والدین میں بھی کتب بینی کے رجحان  پیدا کراکر ہم  ماحول کو قسم قسم کے برایئوں سے پاک کر سکتے ہیں ۔اس طرح ان تمام تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہےاور چترال کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوے ہمیں اپنے قوم کے بچوں کے ایک پُر سکوں و پر امن ماحول فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔عصر حاضرکی ذمہ داری کے فرض کو ادا کرنے کے لئے ہمیں جلد از جلد اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم نقل سے پاک وپر سکوں ماحول میں  نشونما ء پانے والی نسل  ملک کے ہر شعبے میں نمایاں طور پر نظر ائے    تاکہ ہم پہاڑوں کے بیچ گھری ہوئی وادی کو دیگر اضلاع کے برابر حقوق حاصل کر کے فعال و پرامن محب وطن شہری ہونے کی روایت کو مزید ترقی دے سکے۔ہم اس حسین وادی کے اندر اپنی روایات کو برقرار رکھنے نقل اور کُتب بینی کے فقدان سےپاک  ماحول مہیاء کر کے اس وادی کو مزید پر سکوں و پر امن بنا سکیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق