
داد بیداد……کنبہ اور خاندان کا زوال
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہندوستان کی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے ۔ مغل سلطنت کے زوال میں محمد شاہ ثانی عرف رنگیلا کی عیاشیوں کا بڑا دخل تھا ۔ ان کے دور میں نادر شاہ نے حملہ کیا۔ دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجادی اس پر ایک مصرعہ آج تک مقبول ہے ” شامت اعمال ما صورت نادر گرفت ” محمد شاہ ثانی کو گرفتار کرکے نادرشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔
فاتح اور مفتوح کے درمیان مکالمہ ہوا۔ محمد شاہ امیر تیمور کے تاج و تخت کا وارث ، بابر ، ہمایوں ، اکبر اور شاہجہان کے جاہ وجلال کا وارث تھا۔ نادر شاہ کے باپ دادا کا نام کوئی نہیں جانتا تھا ۔ محمد شاہ ثانی نے نادرشاہ سے پوچھا کہ تمہارا باپ کون تھا۔ دادا کا نام کیا تھا۔ نادرشاہ نے کہا شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر میرا شجرہ نسب ہے ۔ اٹھارویں صدی عیسوی کا یہ مشہور واقعہ اکیسویں صدی میں ہر گھر ، ہر کنبہ اور ہر خاندان پر صادق آتا ہے ۔ اس دور میں کروڑ وں میں ایک شخص ایسا پیدا ہوتا تھا جو محمد شاہ ثانی کی طرح اپنے خاندان اور کنبے کا نام مٹا دیتا تھا ۔ آج اکیسویں صدی میں کروڑوں کے درمیان ایک بھی ایسا پیدا نہیں ہوتا جو باپ دادا کی میراث کو سنبھالتا ہو۔ اس کی دو نمایاں وجوہات ہیں۔ جو آج کے جدید معاشرے کی بڑی بڑی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور سائنس ، ٹیکنالوجی ، تعلیم ، قابلیت ، مہارت اور صلاحیتوں کے غلبے کا دور ہے۔ اس دور میں چوہدری ، خان ، نواب ، شہزادہ ، وڈیرہ ، حاجی ، ملاّ جب تک صلاحیت ، قابلیت اور اعلیٰ مہارت حاصل نہ کرے وہ باپ کی میراث نہیں پاسکتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گھر ، کنبہ اور خاندان کا اندرونی ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے۔ماں باپ اور اولاد کے پاس مل کر بیٹھنے ،باتیں کر نے ،خاندانی روایات پر گفتگو کر نے ،ایک دوسرے کے خیا لات سننے اور ایک دوسرے کے خیالات سے استفادہ کر نے کا وقت نہیں ہے ۔اس لئے ما ں باپ کا علم ،ماں باپ کا تجربہ ،ماں باپ کی نصیحت اور ماں باپ کی تمنا ئیں اولاد کو منتقل نہیں ہو تیں ۔ابن خلدون نے لکھا ہے کہ جو نسل محنت کر تی ہے وہ خاندان کے کے لئے نام کماتی ہے۔ جو نسل محنت سے جی چراتی ہے وہ باپ دادا کے کا رناموں پر پانی پھر دیتی ہے۔پھر پانسہ پلٹ جاتاہے ۔قران پاک میں ارشاد ہو ا ہے کہ “ہم اچھے اور برے دنوں کو لوگوں میں پھیرا یا کر تے ہیں “اچھے دن بھی ہمیشہ نہیں رہتے، بر ے دن بھی ہمیشہ نہیں رہتے ۔کنبہ اور خاندان کا زوال ایک دن میں یا ایک صدی میں نہیں آیا ۔
اس زوال کی تا ریخ اٹھا رویں صدی میں انقلاب فرانس سے شروع ہو ئی ۔انقلاب فرانس نے دنیا کی اقوام کو دو بڑے تحفے دیے ۔اجناس کی تجارت با رٹر سسٹم کو کر نسی میں بدل دیا ۔کر نسی کے لئے صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی ،مزدور کو مزدوری کا حق دیا ۔مزدوری سے دولت کی نئی تقسیم کا فا رمولا آگیا ۔دولت کی اس تقسیم نے معاشرے میں غیرت کا معیار قابلیت کو ٹھرایا ۔چرواہے کے بیٹے یا گو الے کی بیٹی نے اگر تعلیم حاصل کی ،ٹیکنا لوجی میں مہارت حاصل کی اور اپنی وقابلیت کا لو ہا منو ایا تو اس کا مقام ،بادشاہ ،چو ہدری ،خان ،سردار ،وڈیرہ اور حاجی یا ملاّ کی اولاد سے بلند تر ہو گیا ۔یہی وجہ ہے کہ مو روثی سلطنتوں کے مالک اپنی رعایا کو تعلیم سے جان بو جھ کر محروم رکھتی ہیں ۔
قدرت اللہ شہاب نے پنجاب کے ایک ضلع میں اپنی ملازمت کا واقعہ لکھا ہے ۔ ایک چو ہدری ڈپٹی کمشنر کے پاس آیا ۔سکول کے لئے زمین کا عطیہ دیا اور سکول کھو لنے کا مطالبہ کیا ۔سکول کی منظوری ہو گئی تو دوسرا چو ہدری آیا ۔ اس نے شکایت لگا ئی کہ یہ سکول اس کے حلقے میں بن رہا ہے ۔اس کو بند کیا جائے ۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ۔چو ہدری صاحب نے زمین کا عطیہ دیا ہے ۔ دوسرے چوہدری نے کہا اس نے بد نیتی سے میرے حلقے میں سکول کھلو ایا ہے ۔تاکہ لو گ تعلیم حاصل کر کے میری اولاد کو ووٹ نہ دیں ڈپٹی کمشنر نے کہا ۔سکول بند نہیں ہو سکتا تم ایسا کر و کہ اس کے حلقے میں زمین دیدو ۔ہم وہاں بھی سکول کھو لیں گے ۔چوہدری صاحب نے خو شی سے زمین دیدی ۔ 1956 ء میں وڈیروں کو پتہ تھا کہ تعلیم آگئی تو ہماری خاندانی بادشاہت کا سورج غروب ہو جائے گا ۔آج سعودی عرب ،کو یت ،متحدہ عرب امارات میں سکول کالج اور یو نیو رسٹیاں نہیں ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیم ،قابلیت اور مہارت آنے کے بعد خاندانی بدشاہت کا سو رج غروب ہو جاتا ہے ۔عرب شیو خ نہیں چاہتے کہ غر یبوں کی اولاد تعلیم حاصل کر کے کر سی پر بیٹھنے کے قابل ہو جائیں ۔
پاکستان کے اندر ہمارے قبائلی علاقوں کے ملک اور خان تعلیمی اداروں کے مخالف ہیں ۔پو لیس اور عدلیہ کے مخا لف ہیں ۔سا ئنس اور ٹیکنا لوجی کی مخالفت کر تے ہیں تو اس کی یہی وجہ ہے کہ بلو چستان میں سندھ ،پنجاب اور خیبر پختو نخوا میں اراکین پا رلیمنٹ اور سیا سی لیڈروں کا بہت بڑا گروہ تعلیم کی مخالفت کر تا ہے تو اس کے پیچھے بھی یہی خو ف کا ر فر ما ہے کہ تعلیم آگئی تو جہالت کے بل بو تے پر قائم ہو نے والی سلطنتیں ختم ہو جا ئینگی ۔غریبوں کے بچے پڑھ لکھ کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جائیں گے ۔سردار فاروق احمد خان لغاری سی ایس پی آفیسر تھے ۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے عہدے سے محض اس بنا ء پر استعفیٰ دیدیا کہ غریب کسان کا بیٹا بھی ڈپٹی کمشنر بن گیا تھا او ر وڈیرے کا بیٹا یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ برابر والی کر سی پر کسان کا بیٹا بیٹھا ہو اہو ۔ 1970ء کی دہائی میں مساوات کی طر ف سفر نیا نیا تھا ۔اکیسویں صدی میں مساوات نے میرٹ کی صورت میں اپنے آپ کو منو الیا ہے ۔
خاندانی نظام کا یہ زوال فطرت کے قوانین کی رو سے ایک نصیحت ہے ۔لیکن خاندانی نظام کا دوسرا زوال ایسا ہے جس پر سوچنے اور غور وفکر کر نے کی ضروت ہے ۔گھر کا دستر خوان ختم ہو گیا ۔ماں باپ اور بچوں میں سے ہر ایک اپنے کمرے میں یا کچن میں الگ کھا ناکھا تا ہے ۔بچے ہر وقت ٹی وی ،انٹر نیٹ اور مو بائل فون کے ساتھ مصروف رہتے ہیں ۔والدین اپنے دفتر ،کا رو بار اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہو کر اولاد کو بھو ل جاتے ہیں ۔باہمی محبت ،ارتبا ط اور باہمی اُلفت کے سارے راستے بند ہو گئے ہیں ۔ماں باپ کے خیالات سے اولاد کو واقفیت نہیں۔ بچوں کے مصائب ،مشکلات اور خیالات یا جذبات کا علم والدین کو نہیں ہے ۔دوریاں بڑھ رہی ہیں ۔مسافتیں پیدا ہو چکی ہیں ۔چچا ،ماموں ،بھا ئی اور بہن کے رشتوں کا احترام اور تقدس پا مال ہو تا جا رہا ہے ۔دادا اور دادی ،نانا اور نانی کو پو تے اور نو اسے نہیں پہنچا نتے ۔بچپن میں فیڈر اور جو انی میں اے ٹی ایم سب سے مضبوط رشتہ نظر آتا ہے۔ کنبوں اور خاندانوں کا یہ زوال ہمارے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے ۔پہلے والے زوال کو دل سے قبول کر کے دوسرے زوال کے آگے ہم کو بندھ باندھنا ہو گا ۔
