تازہ ترین

دروش ہجرت کر نے والے ساڑھے چار سو خاندانوں کے زلزلہ متاثرین اور ڈی سی چترال کے مابین مذاکرات نہ ہوسکے۔

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) ہجرت کرنے والے دروش کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چارسو خاندانوں کے زلزلہ متاثرین چھٹے روز بھی میرکھنی چیک پوسٹ کے قریب سڑک پر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں ۔ اور اُن کے مسئلے کی شنوائی بدستور تعطل کا شکار ہے ۔ جبکہ اوپر خراب موسم کے باعث بارش کا بھی آغاز ہو گیا ہے ۔ پیر کے روز میرکھنی میں دھرنے کے مقام سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاجی رہنما عبدالباری نے کہا ۔ کہ گذشتہ روز ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال عبدالغفار نے مذاکرات کرتے ہوئے یقین دھانی کرائی تھی کہ پیر کے روز ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے مسئلے کا حل نکالیں گے ۔ لیکن احتجاج کرنے والوں نے دو بجے تک انتظار کیا ۔ اُن کی طرف سے کوئی نمائندہ آیا ۔ اور نہ وہ خود آئے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ اس بات پر بضد ہے ۔ 1234کہ ہجرت اور احتجاج ختم کیا جائے ، اُس کے بعد بات چیت آگے بڑھے گی ۔ جبکہ ہمارا موقف یہ ہے ۔ کہ احتجاج اور ہجرت کیلئے راستہ کھولنے کا مطالبہ جاری رہے گا ۔ اور مذاکرات بھی اُس کے ساتھ ساتھ کئے جائیں گے ۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے مزید پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج اور ہجرت کرنے والے مین روڈ پر اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ اُن کا مورال بلند ہے ، اور وہ اپنا مقصد حاصل کرنے تک اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بارش شروع ہو چکی ہے ۔ اور بارش سے بچنے کیلئے انہوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس سے خیموں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاہم عبدالباری کے مطابق کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے ۔ اور مظاہرین کھلے آسمان تلے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنرچترال اُسامہ احمد وڑائچ نے کہا ۔ کہ احتجاج کرنے والوں کو میرے آفس میں مذاکرات کیلئے آنا تھا ۔ لیکن پیر کے روز وہ وعدے کے مطابق وہ مذکرات کیلئے نہیں آئے ۔ جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالغفار نے جو ضلع ناظم کے ہمراہ گذشتہ روز احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مذکرات میں شامل تھے نے کہا ۔کہ چونکہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا تھا ۔ کہ احتجاج ختم کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس آئیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ اس لئے مذکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تاہم اس حوالے سے اب بھی کوششیں جاری ہیں ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق