ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …..قحط سالی اور گو رننس

……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ…..
ملاکنڈ ڈویژن کے پہاڑی اضلاع ،دیر ،سوات،بو نیر ،شانگلہ اور چترال کے ساتھ ساتھ ہزارہ ڈویژن کے اضلاع بٹگرام ،کو ہستا ن وغیرہ میں بھی شدید قحط سالی اور پر یشانی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ان اضلاع کے جو علاقے سطح سمندر سے تقریبا 7 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ہیں ۔وہاں سال میں ایک فصل ہو تی ہے ۔گزشتہ سال کے سیلاب میں 300سے زیادہ نہروں کو نقصان پہنچا تھا ۔جو ن 2015 سے اپر یل 2015تک 10مہینوں میں کم ازکم 200 نہروں کو بحال کر نا چاہیے تھا ۔100نہریں آئندہ دو مہینوں میں بحال ہو سکتی تھیں ۔مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔سیلاب کے دنوں میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے علاقوں کے دورے کئے ۔لو گو ں کو تسلی دی مگر اس کا مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔صرف ایک ضلع چترال میں 2ہزار جر یب زمین پر گندم ،جو،باجرہ ،جوار ،چارہ اور رشقہ کے ساتھ 3ہزار جریب زمین پر درخت اور باغات پانی نہ ملنے کی وجہ سے برباد ہونے والے ہیں۔ 2 لاکھ نفوس کی آبادی متاثر ہوگی۔ 4لاکھ کے قریب مویشی متاثر ہونگے۔ حکومت اس کا کوئی مداوا نہیں کرسکے گی۔ 10مہینوں تک ان نہروں کا پرسان نہیں ہوا تو اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ قدرتی آفت اور سیلاب سے متا ثرہ انفراسڑکچر کی بحالی کا کام راولپنڈی کے ایک ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے کو دیا گیا ہے ۔جہاں کسی کی رسائی نہیں ہے ۔این ڈی ایم اے کے پاس نقصانات کے جا ئزے کا کو ئی سسٹم یا طریقہ کا ر نہیں ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ نہروں کی بحالی کا پرانا طریقہ ختم کر دیا گیا ہے ۔اس کی جگہ نیا طریقہ اور نیا سسٹم نہیں لایا گیا ۔پرانا سسٹم یہ تھا کہ کمیو نٹی کی اپنی نہروں کے لئے ضلع کو نسل ،تحصیل کو نسل اور ڈپٹی کمشنر کے پاس فنڈ ہو تے تھے ۔این جی اوز کی لائی ہو ئی نہروں کے لئے این جی اوز کو فنڈ ملتے تھے ۔محکمہ زراعت کے پاس رپو رٹنگ کا سسٹم تھا ۔واٹر مینجمنٹ کے محکمے کے پاس فنڈ ہو اکر تے تھے ۔ ایریگیشن کا محکمہ اپنی نہروں کے لئے فنڈ مہیا کرتا تھا ۔ڈپٹی کمشنر کے پاس کو آرڈینشن اور ما نیٹرنگ کے اختیارات تھے ۔ضلع کو نسل کا ناظم با اختیار ہو تا تھا ۔وہ پورا سسٹم ٹوٹ چکا ہے ۔ختم ہو چکا ہے ۔این جی اوز کو این ڈی ایم اے سے اجازت لیکر کام کرنا ہے ۔اجازت لینے میں دوسال سے زیادہ کا عرصہ لگتا ہے ۔این او سی 6 مہینوں میں ،8 مہینوں میں ،10مہینوں میں ڈیڑھ سال میں جاری نہیں ہو تا ۔ڈپٹی کمشنر ،ضلع ناظم ،اور ڈسٹرکٹ کو نسل کے اختیارات ختم کر دئیے گئے ہیں ۔ڈیزاسٹر میں دو پیسہ خرچ نہیں کر سکتے ۔ویلج کو نسل اور تحصیل کو نسل کو جو فنڈ دئیے جا رہے ہیں ان کو خرچ کر نے کا طریقہ کا ر اتنا لمبا اور تھکا دینے والا ہے کہ 5 لاکھ روپے کا منصوبہ لانے میں ڈیڑھ سال لگ جا تا ہے ۔اور ایک سال کے اندر بجٹ واپس ہو جاتا ہے ۔چیئرمین اور کو نسلر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔چترال کے لوگ گزشتہ 10 مہینوں سے نہروں کی بحالی کے لئے درخواستیں دے رہے ہیں ۔ مشینری مانگ رہے ہیں ۔سیمنٹ ،سریا اور پائپ مانگ رہے ہیں ۔اپنی مدد آپ کے تحت اپنی نہروں کو بحال کر کے فصلوں ،پو دوں ،درختوں اور باغات کو پانی دینا چاہتے ہیں ۔بمباغ ایساگاؤں ہے جہاں بہترین سیب ،انگور ،ناشپاتی، خوبانی ،آڑو ،خر بو زہ اور سردا پیدا ہو تا ہے ۔گندم اور چاول کی اچھی فصل ہو تی ہے ۔یہ گاؤں تین تحصیلوں کے دہانے پر بر لب سڑک واقع ہے ۔10مہینے ہو گئے ۔لو گوں نے جلوس بھی نکالا،جلسے بھی کئے۔ دفتروں کے ہزار ہا چکر لگا ئے ۔مگر کو ئی فائدہ نہیں ہوا ۔راولپنڈی میں ایک شخص بیٹھا ہے ۔اختیارات اس کے پاس ہیں ۔فنڈ اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ این ڈی ایم اے کاچیئر مین ہے اور ان تمام مسائل سے لا تعلق ہے۔ وہ کہتا ہے کتنے لوگ مر گئے؟ ابھی قحط سے کوئی نہیں مرا۔ پھر چپ رہو جب کو ئی نہیں مرا تو میں کیا کروں گا۔گویا اس کو دو لاکھ کی آبادی کے مرنے کا انتظار ہے۔ چار لاکھ مویشیوں کے مرنے کا انتظار ہے۔ مرزا غالب نے کہا تھا۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبرہو نے تک
جب چترال جیسے پُر امن ضلع میں دو ہزار جریب پر فصلیں اور تین ہزار جریب زمین پرباغات ختم ہو جائیں گے۔ دو لاکھ کی آبادی مر جائے گی باقی نقل مکانی کرے گی تو این ڈی ایم اے کافنڈ کس کے کام آئے گا ۔آنے والے دو مہینوں میں چترال ، کو ہستان، بونیر، شانگلہ، دیر وغیرہ میں نہروں کی بحالی کیلئے دو تجاویز ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ این ڈی ایم اے کو تحلیل کر کے سارے فنڈ اور اختیارات ضلع کونسل اور ضلع ناظم، ڈپٹی کمشنر، متعلقہ محکموں کو دے دیے جائیں۔ دومہینوں میں نہریں بحال ہو جائیں گے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ این جی اوز کو این او سی دینے کا اختیار بھی ضلعی حکومت، ضلع نا ظم اور ڈپٹی کمشنر کو دے دیا جائے۔ اس طرح ڈونرز کا فنڈ آئے گا اور جہاں جہاں ضرورت ہوگی، وہاں استعمال ہوگا۔ چترال سے گلگت جانے والی شاہراہ پر بالیم کا گاؤں ایک مثال ہے۔ جہاں تین سو اسی گھرانوں کی چار ہزار آبادی کی پانچ نہریں متاثر ہوئی ہیں۔ ہیوی مشینری کے بغیر نہروں کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ سال میں ایک فصل ہوتی ہے، یہ فصل جون 2016 ء میں جل جائیگی۔ پودے سوکھ جائینگے۔ درخت خشک ہو جائینگے ۔ نہ خوراک دستیاب ہوگا۔ نہ مویشیوں کا چارہ ہوگا۔ نہ اور کچھ ہوگا؟ ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے پاس فنڈ نہیں ہے۔ این جی اوز کے پاس این او سی نہیں ہے۔ این ڈی ایم اے ایک پائی خرچ کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہ گورننس کی خرابی ہے کہ تھانہ اور تحصیل کے دفتر سے اوپر تک رپورٹ بھیجنے کا پورا سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی کوئی رپورٹ صوبائی دفتر میں پڑھی نہیں جاتی۔ محکمہ زراعت میں فیلڈ سے رپورٹنگ کا سسٹم ختم کیا گیاہے۔ واٹر مینجمنٹ کے محکمے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب ایک گاؤں میں آبپاشی کے نہروں کی بحالی کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف یا کور کمانڈر اور جی اوسی سے تو رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے پہاڑی اضلاع میں گزشتہ سال کے سیلاب سے متاثر ہونے والی نہروں کی بحالی قحط سالی سے لوگوں کو بچانے کا واحد طریقہ ہے اور یہ صوبائی حکومت کے لئے ایک چیلنج ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق