ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )…..’’تبلیغ اسلام کا صحیح طریقہ‘‘

……. (ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)


میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ دکان میں بیٹھا تھا۔ یہ سارے دوست با شعور اور علمی حیثیت کے حامل ہے۔ گفتگو کے دوران موضوع اس طرف آنکلا کہ دنیا میں اسلا م کس طرح پھیلا یا جاسکتا ہے یا اسلام کا نفاذ کس طرح ممکن ہے۔ تقریباََ ہر دوست نے مختلف زاویہ نگاہ پیش کیا تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ یہ موضوع ایک مضمون کے ذریعے قارئین کرام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ یہ موضوع صرف میرا یا کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ یہ تقریباََ ہر مسلمان کی خواہش اور دلی تمنّا ہے کہ پوری دنیا میں اسلام کا بو ل بالا ہو ، اسلام کی پُر اثر تعلیمات دنیا کے ہر فرد کے سامنے آجائیں اور وہ اسے قبول بھی کرے۔
ایک دوست نے کہا کہ اسلام کو پھیلانے کا یہی طریقہ ہے کہ ہم غیر مسلموں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیں کیونکہ زبانی کلامی طور پر ہم اسلام کا پیغام نہیں پھیلا سکتے ۔ اسلام کی تبلیغ کرنے سے پہلے ہمارے پاس دنیا کی باگ ڈور ہونی چاہئیے ۔ ہم سیاسی اور عسکری طور پر اتنے طاقتو ر ہوجائیں کہ دوسری قومیں ہم سے مرعوب ہو کر ہتھیار ڈال دیں ۔ وہ ہم سے مرعوب ہوجائیں گی تو ہماری اقتدار اُن پر قائم ہو جائے گا۔ ہمارے پاس سب سے زیادہ طاقتور ایٹمی صلاحیت اور میزائیل ٹیکنالوجی ہونی چاہیے۔ ڈھیر سارا اسلحہ و بارود اور کروڑوں سپاہیوں پر مشتمل فوج ہونی چاہیے۔
میں یہ سوچنے لگا ……کیا اس سوچ سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ اسلام کو تلوار اور طاقت کے زور پر ہی پھیلا یا جاسکتا ہے ورنہ اسلام میں یہ صلاحیت نہیں کہ طاقت کے بغیر ترقی کر سکے؟
دوسرے دوست کا موقف یہ تھا کہ مسلمان سائنسی تعلیم میں مہارت حاصل کرلیں تو وہ ترقی کی معراج پر پہنچ جائیں گے ۔ اس کے بعد دنیا اُن سے متاثر ہوگی اور غیر مسلم جوق در جوق مسلمان ہونے لگیں گے۔ اس وقت پوری اسلامی دنیا میں مجموعی طور پر جتنی یو نیورسٹیاں ہیں، اُس سے زیادہ یو نیورسٹیز صرف ایک ملک جاپان میں قائم ہیں۔ مسلمانوں کا لٹریسی ریٹ تشویشناک حد تک کم ہے چنانچہ جاہل اوران پڑھ لوگوں کی بات میں اثر اور پیغام میں تاثیر کیسے آسکتی ہے اس لئے سب سے پہلے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ کیا جائے۔اس بات کی اہمیت بلا شبہ اپنی جگہ ہے مگر یہ بات سن کر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر فرض کریں سارے مسلمان پی ایچ ڈی یا ماسٹرز ڈگری کے حامل ہوجائیں تو کیا اس بات کی بھی کوئی ضمانت ہے کہ وہ لوگ پاکیزہ نفس کے حامل بھی ہوں گے…؟
چند سال پیشتر تک پاکستان میں ایک طبقہ کہتاتھا کہ پاکستان میں سسٹم اس لئے خراب ہے کہ اقتدار میں بہت سے ان پڑھ جاگیردار بھی آجاتے ہیں لہذا اگر اس نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے تو تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد کو آگے لانا ہوگا… یہ میرا موضوع تو نہیں ہے مگر مجھے کہنے دیجئے کہ ہمارے ملک کی موجودہ پالیمنٹ میں گریجویٹ ممبران آنے کے بعد کیا پاکستان میں کوئی انقلابی مثبت تبدیلیاں آگئی ہیں؟ کیا غربت ختم ہوئی؟ کیا بے روزگاری ختم ہوئی؟
ہمارے ایک دوست ماسٹر اآف اکنا مکس ہیں۔انہوں نے بہت سے اعدادوشمار ہمارے گوش گزار کئے اور کہا کہ موجودہ دور اکنامکس کا دور ہے ۔ تجارت کا دور ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہے جو اقتصادی طور پر طاقتور ہے۔اگر پوری دنیا کی اکانومی پر مسلمان چھا جائیں ، مسلم کمپنیز ملٹی نیشنلز کی ٹاپ لسٹ میں شامل ہو، مسلم ممالک میں پیسے کی ریل پیل ہو۔اُن کا جی ڈی پی ریٹ ہائی ہو تو مسلمان جب دوسرے ممالک سے مانگنے کے بجائے دینے والے بن جائیں گے تو ظاہری بات ہے دوسرے لوگوں کے سوچنے کا انداز بھی بدلے گا۔
لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ دولت اور وسائل تخریبی کاموں میں استعمال نہیں ہوں گے؟…
ہمارے ایک دوست جو خاموشی سے بیٹھے تھے جب تک اُن کی باری آئی تو انہوں نے نہایت مایوس کن انداز میں تبادلہ خیال کیا کہ اب مسلمانوں کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ یہ قوم اپنی حالت ہی بدلنا نہیں چاہتی تو اللہ اس کی حالت کیوں بدلے گا۔ اس لئے آپ کو اور ہم سب کو کسی نجات دہندہ کا انتظار کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اپنا نجات دہندہ بھیج دے گا۔کسی نجات دہندہ کا انتظار کرتے رہو پھر شاید اس قوم کی حالت بدل سکے….
قارئین کرام مختلف نقطہ ہائے نظر آپ نے ملاحظہ کئے، ان میں ایک نقطہ نظر شامل نہیں ہے۔ میں اسی نقطہ نظر پر بات ختم کروں گا۔ اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی رائے سے آگاہ کریں کہ آپ کو کونسا نقطہ نظر زیادہ کارآمد محسوس ہوتاہے۔
رسولﷺ کی زندگی ہمارے سامنے ہے، رسولﷺ نے نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی مثبت و پاکیزہ کردار کا مظاہرہ فرمایا ۔ کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ امانت میں خیانت نہیں کی ۔ یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری کی۔ کاروبار میں دیانت کا ثبوت فراہم کیا۔ عارضی طور پر دنیا سے الگ تھلگ ہوکر غار حرا میں اللہ کی نشانیوں میں تفکر کیا ….اللہ کو ڈھونڈا ….مراقبہ کیا….نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اپنی تعلیمات پر پہلے خود عمل کیا اور اپنے ساتھیوں سے عمل کرایا…رسولﷺ اگر مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف نہ لاتے تو کیا اسلام کا پیغام رُک جاتا؟ اگر حضورﷺ کے پاس سیاسی اور فوجی طاقت نہ آتی تو اسلام نہ پھیلتا؟ کیا اسلام فوجی طاقت کا محتاج تھا؟ کیا خلفائے راشدین ، بلالؓ، سلمان فارسیؓ اور ایسے ہی ہزاروں صحابہؓ پر کوئی تلوار سونت کر کھڑا ہوا تھا کہ اسلام قبول کرو یا انہوں نے رسولﷺ کے کردار و سچائی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ….؟
کیا رسول ﷺ کے پاس دنیا کے خزانے منہ کھولے موجود تھے یا تمام صحابہ کرامؓ قیصر و کسریٰ کی طرح کے کروڑ پتی اور ارب پتی تھے۔ کونسی ایسی چیز ہے جس کی بناء پر رسولﷺ نے اسلام کا پیغام پھیلایا ؟ وہ کونسی حکمت عملی ہے جو حضورﷺ نے اختیار فرمائی؟ اور کیا ہم بھی اس حکمت عملی پر چل سکتے ہیں؟ قارئین کرام میری رہنمائی فرمائیں ۔ اور میرے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات مجھے آرٹیکل کے ذریعے مرحمت فرمائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق