مضامین

داد بیداد……غربت اور بے روزگاری

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….
گیلپ یا کسی دوسرے ادارے سے سروے کرنے کی قطعاًضرورت نہیں۔اخباری نمائندے کسی بھی گاؤ ں یا شہر میں کچرا جمع کرنے والے بچوں اور کچرے کے ڈھیر سے گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی اٹھا کر کھانے والے غریبوں کا نظارہ کریں۔ سکول جانے کی عمر کے بچوں کو مزدوری کرتے ہوئے دیکھیں۔ ادھورے چھوڑے گئے ترقیاتی کاموں کو دیکھیں۔شہروں کے مخصوص مقامات پر مزدوری کی تلاش میں گینتی اور بیلچہ لے کر سارا دن انتظار کرنے کے بعد خالی ہاتھ واپس جانے والے مزدوروں کو دیکھیں تو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ 2008ء سے 2016ء تک 8سالوں کے اندرملک میں غربت اور بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ صحافی کسی ہول سیل مارکیٹ میں جھانک کر دیکھ لیں، کسی پرچون فروش سے معلومات حاصل کریں۔ دور دراز علاقوں سے تجارتی مال خریدنے کے لیے مارکیٹوں کا رخ کرنے والے بیوپاریوں سے پوچھیں۔بینکوں کے ذمہ دار حکام سے بات کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ گزشتہ 8سالوں کے اندر ملک میں معاشی بدحالی بڑھ گئی ہے ۔2001 ء اور 2008 ء کے درمیانی عرصے میں وطن عزیز پاکستان کے اندر زندگی کے مختلف شعبوں میں جو حیرت انگیز ترقی ہوئی تھی۔ اُس ترقی کی رفتار رُک گئی ہے ۔ شاید تحقیق، تجزیہ، مطالعہ اور مشاہدہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے برملا یہ بات کہی ہے کہ جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ بہتر تھی۔ تاریخ اسلام کا ناقابل فراموش واقعہ گزرا ہے۔ یہ امیر المومنین امیر معاویہؓ کے دور کا واقعہ ہے۔ آپ شکار سے واپس آتے ہوئے ساتھیوں سے بچھڑ گئے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ تھکان بہت تھی۔ انار کے باغ سے آپ کا گزر ہوا۔ انار پکے ہوئے تھے اور آپ کو پیاس بہت لگی تھی۔ انار کے باغ میں سستانے کے لیے رک گئے۔ مالی سے انار لانے کو کہا۔ بھاؤ تاؤ کے بعد مالی نے ایک انار کو نچوڑا دو پیالے رس کے بھر گئے۔ جناب امیر معاویہؓنے نوش جان فرمایا۔ پھر مالی سے پو چھا باغ کس کا ہے؟ مالی نے مالک کا نام بتایا، پھر پوچھا کتنی پیداوار ہوتی ہے۔ مالی نے سچ سچ بتایا۔جناب امیر نے دل میں سوچا، کہ اس طرح کے باغات پر ٹیکس لگایا جائے تو اچھی خاصی آمدنی ہوگی۔ ساتھیوں کے آنے میں دیر ہو ئی تو جناب امیر نے ایک اور انار تڑوایا۔ جب رس نکالا گیا تو پیالہ نہیں بھرا۔ دوسرا انار تڑوایا، پھر بھی پیالہ نہیں بھرا۔ تیسر انار تڑوایا تو پیالہ بھر گیا۔ جناب امیر نے پوچھا کیا بات ہے۔ کیا یہ انار دوسرے درخت کے تھے؟ مالی انجان اور نا واقف تھا۔ جناب امیر کو پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے جواب دیا ۔ انار ایک ہی درخت کے ہیں۔ شاید ہمارے امیرالمومنیں کی نیت میں فرق آیا ہے۔ دل میں فطور آگیا ہے۔ اس لیے برکت اٹھا لی گئی۔ اس جواب سے امیرا لمومنیں پر تعجب اور حیرت کی کیفیت طاری ہوئی۔ ان نے رس پیتے ہوئے دل میں فیصلہ کیا کہ ٹیکس نہیں لگا ؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے تجربے کے لیے ایک اور انار توڑوایا تو ایک بار پھر دو پیالے بھر گئے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مالی کو انعام واکرام سے نوازا ۔ اس طرح کے بہت سے واقعا ت آئے ہیں۔ ایسے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران کی نیت کا اثر ملک کی تعمیر ترقی پر ہوتا ہے ۔ حکمران کی نیت درست ہو تو تعمیر وترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے ۔ عوام خوشحال ہوتے ہیں۔غربت میں کمی آتی ہے۔ بے روزگاری ختم ہوتی ہے۔ حکمران کی نیت میں فطور ہو تو معاملہ اس کے برعکس ہوتاہے۔ سول اور ملٹر ی بیوروکریسی کے آفیسروں نے اپنی سوانح عمریاں شائع کی ہیں۔ جنرل گل حسن، جنرل عارف، روئیدان خان، قدرت اللہ شہاب اور جنرل مشرف کی سوانح عمری شائع ہوئی ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی ڈائریاں شائع ہو چکی ہیں۔حکمران کے نیت میں فتور اور کھوٹ ہو تو وہ فائل ورک نہیں کرتا۔ دفتری نظام اور سرکاری ڈاک میں دلچسپی نہیں لیتا ۔ہر روز اپنی مطلب اور مفاد کے دو چار کام نکال لیتا ہے۔ حکمران کی نیت ٹھیک ہو اس کے دل میں ملک کا درد اور عوام کے لیے محبت ہو تو وہ فائل ورک بہت کرتاہے ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان، ضیاء الحق شہید اور جنرل مشرف فائل ورک میں بہت وقت لگاتے تھے۔ خیبر پحتونخوا کے دو سابق گورنرلیفٹیننٹ جنرل فضل حق اور لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ فائل ورک کے لیے وقت نکالتے تھے۔ میجر (ر) آفتاب احمد خان شیرپاؤ بھی فائل ورک میں بہت اچھے تھے۔ حکمران فائل پڑھتا ہو۔ رپورٹنگ ، اخباری تراشے اور سمری پڑھ کر احکامات دیتا ہو تو اوپر سے نیچے تک حکومت کا پورا نظام سیدھا ہو جاتا ہے۔ ہر آفیسر کو ڈر رہتا ہے کہ فائل حکمران کی میز پر جائے گی۔ایک ایک سطر پڑھا جائے گا۔ ایک ایک لفظ کے نیچے خط کھینچا جائے گا۔حاشیے پر ریمارکس لکھے جائیں گے تو وہ اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے۔ایسا نہ ہو تو سرکاری آفیسر بے فکر ہو جاتے ہیں۔ مکھی پر مکھی مارتے ہیں۔۔دفتری نظام ٹھپ ہو جاتاہے۔بجٹ کی رقم واپس کی جاتی ہے۔ ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔موجودہ صورت حال اس طرح کی ہے۔ایک ضلع میں اگر چار ہزار رجسٹرڈگورنمنٹ کنٹریکڑہیں تو ان کے پاس 18ہزار ٹیکنیکل عملہ اور ڈیڑھ لاکھ مزدور کام کرتے ہیں۔4ہزار گورنمنٹ کنٹریکڑز میں سے صرف 10 کنٹریکٹرز کے پاس کام ہیں تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ سترہ ہزار ٹیکنیکل اور ایک لاکھ چالیس ہزار مزدور بے روزگارہے۔ بینکوں میں ٹرانزیکشن نہیں ہے۔ گاؤں کی سطح پر پیسے کی گردش رک گئی ہے۔ لوگ اپنی بیماروں کا علاج کرنے اور سکول جانے والے بچوں کی فیس ادا کرنے کی مالی استتطاعت نہیں رکھتے۔ اس کا اثر تھوک اور پرچون کے کاروبار پر بھی پڑتاہے۔ بینکوں کے پورٹ فولیو(port folio) پر بھی اس کا منفی اثر ہوتاہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان روزانہ آٹھ گھنٹے فائل ورک کرتے تھے۔ سفر میں بھی ضروری ڈاک ان کے ہمراہ جاتی تھی ۔ جہاز میں بھی ڈاک دیکھتے اور ضرروری احکامات دیتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق شہید روزانہ دس گھنٹے فائل ورک کرتے تھے۔ جنرل مشرف ہر روز کم از کم سات گھنٹے فائل ورک کو دیتے تھے۔ اس میں ناغہ نہیں ہوتا تھا ۔ اُس کے دور میں ذرائع ابلا غ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر وترقی کے جو بڑے بڑے کام ہوتے ان میں جنرل مشرف کی ذاتی قابلیت کا بڑا ہاتھ تھا ۔وہ عوام کے دل کی دھڑکنوں کو سننے کی کوشش کرتے تھے۔عوام کے ساتھ ان کا قریبی رابطہ تھا ۔ اخبارات کے تراشے ہمیشہ ان کے میز پر جاتے تھے۔ ایڈیٹروں اور سینئیر صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں وہ ان تراشوں کی چیدہ چیدہ باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اخبارات کو حکومت کی آنکھ اور کان کا درجہ حاصل ہے۔ اخباری تراشوں سے صرف نظر کرنے والا حکمران اندھا اور بہرا ہو جاتاہے۔ وہ عوام سے دور ہوتا ہے۔2008ء اور 2016ء کے درمیان 8سالوں میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں جو اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کا عوام سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ عوام کا رخ اگر مشرق کی طرف ہے تو حکمران مغرب کی جانب محو سفر ہے۔ مہاتیر محمد، لی کو ان یو اور نیلسن منڈلا نے عوام کو نظر انداز کر کے ملک کو ترقی نہیں دی۔غربت اور بے روزگاری کی شرح میں بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لیے حکمرانوں کو عوام کے ساتھ رابطہ جوڑنا ہو گا۔ حکمرانوں کو اپنی نیتوں کا نقص اور فطو ر دور کرنا ہوگا۔فیلڈ مارشل ایوب خان ، جنرل ضیاء الحق شہید اور جنرل مشرف کی طرح روزانہ 8سے 10گھنٹے فائل ورک کرکے عوامی مسائل کا ادراک کرنا ہو گا۔ ورنہ جنرل یحٰی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ عوام سے دور ہوئے۔ عوامی احساسات سے دور جذبات سے بے خبر رہے تو ملک کا آدھا حصہ گنوادیا۔ اور عوام کی نظروں سے اس طرح گر گئے کہ کوئی ان کانام لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ وطن عزیز کا بڑامسئلہ غربت اور بے روزگاری ہے۔دہشت گردی بھی غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے پروان چڑھتی ہے۔ اس لیے حکمرانون کی پہلی تر جیح ملک سے غربت اور بے روزگاری کے ناسور کو ختم کرنے پر مرکوز ہونی چاہیئے۔
ترسم نہ رسی بہ کعبہ ا ے اعرابی
کین رہ کہ تومی روی بہ تر کستان است

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔