ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……ایف 16- کا نیا تنا زعہ

……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …..
گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان اور امر یکہ کے درمیان ایف 16طیا روں کی خر یداری اور فر اہمی کا نیا تنا زعہ اخبارات کی زینت بن رہا ہے ۔تبصرے اور تجزیے آرہے ہیں۔پا کستانی عوام کو چند بے بنیاد بحثوں میں الجھا یا گیا ہے اور چند بے بنیاد چیزوں کا شوقین بنا یا گیا ہے۔کر کٹ میں ہا رجیت اور ایف16- طیاروں کا استعمال ایسے ہی مسائل ہیں ۔ہماری قوم خواہ مخواہ ایف 16- طیاروں کی شیدائی بن چکی ہے ۔طیارے ملنے پر خوش اور نہ ملنے پر نا راض ہو تی ہے ۔حالانکہ ایف 16-طیاروں کی اہمیت پا کستان ایئر فورس کے لئے صفر کے برابر ہے ۔جر منی ،چین ،روس اور فرانس کے پاس ایف 16- سے دس گنا بہتر ٹیکنالوجی ہے ، دس گنا بہتر جہا ز ہیں اور ایف 16- سے سستے بھی ہیں ۔تکنیکی تفصیلات کے حوالے سے ڈاکٹر عطاء الرحمن کی تحریر ” سا ئنس کی حیرت انگیز دنیا “میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو جو طیارے فروخت کئے وہ بھارت کے خلاف کسی جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں ۔ان طیاروں میں کمپیو ٹر چپ لگی ہوئی ہے ۔یہ چپ پاکستان کی فضائی حدود کا تعین کر تی ہے ۔ان فضائی حدود سے باہر نکلے تو سسٹم کو جام کر دیتی ہے ۔اس نقط نظر سے امر یکہ سے خریدا جانے والا جہاز پاک فضا ئیہ کے لئے صرف اڑنے والی مشین ہے ۔حر بی ضروریات اور جنگی مقاصد کے لئے یہ جہاز پاکستان کے کسی کا م نہیں آسکتا ۔اس کے با وجود ہمارے دفا عی حکام ،ہماری ائیرفورس امر یکہ سے جہا ز کیو ں خریدتی ہے ؟کیا ڈاکٹر عطا ء الرحمن دفاعی امور میں فو جی حکام اور پا کستانی سیاست دانوں سے زیادہ تجر بہ رکھتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دفاعی امور میں کیمسٹری کا پر وفیسر ہمارے ائیر چیف سے زیادہ تجربہ رکھتا ہے ۔تا ہم یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ ائیر چیف پر جو دباؤ ہے وہ کیمسٹری کے پروفیسر پر نہیں ۔کیمسٹری کا پروفیسر آزاد اور خودمختار پاکستانی ہے۔ ایئر چیف اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں۔ وہ وزیراعظم ،وزیر دفاع ،پا رلیمنٹ ،دفتر خارجہ اور وزارت خزانہ کے احکامات کا پابند ہے۔ پارلیمنٹ خودمختارنہیں ہے۔وزیر اعظم آزاد نہیں ہے۔ دفتر خارجہ پر بیرونی دباؤ ہے ۔ وزارت دفاع اور وزارت خزانہ پر بیرونی دباؤ ہے۔ امر یکہ اپنے بیکار اور فضول طیارے 10گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر نا چاہتا ہے ۔70کروڑ ڈالر کے سودے میں امریکہ کو 30کروڑ ڈالر کا خالص منافع ملتا ہے۔ اس سودے کے عوض آپ کو 74کروڑ ڈالر قرض دے کر سود کی مد میں 60کروڑ ڈالر آپ سے مزید منافع لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ مجبور ہیں کہ امریکہ سے سود ی قرض لے کر امریکی طیارہ خریدیں اور سود در سود کرکے اگلے 20سالوں تک ادائیگی کرتے رہیں۔ طیارے دفاعی مقاصد کیلئے بیکار ثابت ہونگے اور سودی قرضے کی جال میں پھنس کر آپ کی قوم مزید 20سالوں تک غلامی اور چاکری سے باہر نہیں آئے گی۔ یہ ہماری پارلیمنٹ ، ہمارے سیاسی اکابرین ، ہماری سیاسی جماعتوں اور ہمارے لیڈروں کا وژن ہے۔ دوست ممالک روس ، چین ، جرمنی اور فرانس کے پاس F-16سے دس گنا بہتر طیارے موجو د ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران امریکہ سے ناکارہ طیارے خریدنے پر مجبور ہیں۔ اگلے 50سالوں تک ہماری قوم کو صرف دو دشمنوں کا سامنا ہے۔ بھارت اور امریکہ، ان دشمنوں کے خلاف F-16 طیارے استعمال نہیں ہوسکیں گے۔ پھر یہ طیارے 70کروڑ ڈالر یا 8ارب روپے میں خریدکر ہم کیا کریں گے؟ امریکہ نے کانگریس کی کمیٹی کے ذریعے 74 کروڑ کے قرض کی ادائیگی روک دی۔ یہ ادائیگی نہیں ہوئی تو پاکستان کے پاس F-16طیاروں کی خریداری کی پہلی قسط 43کروڑ ڈالر کی رقم دستیاب نہیں ہوگی۔ یہ رقم دستیا ب نہیں ہوئی توہم F-16 طیارے نہیں خرید سکیں گے۔ اس سے پہلے 1990 ء کی دہائی میں امریکہ نے F-16 طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے بعد طیاروں کی فراہمی سے انکار کیااور 12سال تنازعہ چلتا رہا۔ 12سالوں کے بعد جب F-16کی چوتھی جنریشن آگئی تو پاکستان کو پہلی جنریشن کے ناکارہ طیارہ فروخت کئے گئے۔ ہماری قیادت اس پر خوش ہوئی۔ میڈیا نے طیاروں کی تصویریں شائع کیں اور” عوام کالانعام ” نے تالیاں بجائیں۔ ایف۔ 16طیاروں کا نیا تنازعہ پاکستان کو ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے۔ اس زرین موقع سے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو ضرور فائدہ اٹھانا چاہئیے۔ اس وقت امریکہ کا ایک اعلانیہ مطالبہ ہے اور ایک خفیہ مطالبہ ہے۔ اعلانیہ مطالبہ یہ ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ختم کیا جائے۔ چین کے ساتھ 46کروڑ ڈالر کے تعاون کا معاہدہ ختم کیا جائے۔ خفیہ مطالبہ یہ ہے کہ وزیرستان سے لیکر باجوڑ اور خیبر تک قبائلی پٹی کی زمین امریکی عسکریت پسندوں ، جنگجوؤں اور دہشت گردوں کو واپس کیا جائے۔ قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو نکالنے کے بعد افغانستان اور پاکستان میں امریکی مفادات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ امریکہ چاہتاہے کہ یہ علاقے القاعدہ دولت اسلامیہ اور داعش کے جنگجوؤں کو واپس کئے جائیں۔ جو علاقے میں امریکی مفادات کی جنگ لڑینگے ۔ 74کروڑ ڈالر کا قرضہ اور ایف- 16طیاروں کی فراہمی کو بریک لگا کر امریکی حکام نے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت اندرونی مسائل میں بری طرح الجھی ہو ئی ہے ۔ہمارا دشمن اس مو قع سے بھر پو ر فا ئدہ اُٹھا نا چا ہتا ہے اور پا کستان کو بلیک میل کر کے دہشت گردوں کے کم ازکم چار بڑے گروہوں کو واپس وزیر ستان لا نا چا ہتا ہے۔ سفارتی اور سیاسی محاذ پر ہمارے پاس مو اقع ہیں ۔پہلا مو قع یہ ہے کہ ایف 16- طیاروں کے مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھا یا جا ئے ۔پا رلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے سفا ر شات مر تب کر کے طیاروں کی خر یداری کے معاہدے کو منسوخ کیا جا ئے ۔یہ امریکی کا نگر یس کے لئے سخت پیغام ہو گا۔دوسرا مو قع یہ ہے کہ اگلے سال سے افسروں کی تر تیب ،طلبہ اور طالبات کے بیرون ملک دوروں کا پروگرام وضع کر کے امریکہ کے دوروں پر اور امریکہ میں پا کستانی آفیسروں کی تربیت کے پروگراموں پر پا بندی لگا ئی جائے ۔ایک سروے کے مطابق امریکی اداروں میں تربیت سے ہمارے آفیسروں کے استعداد میں 40فیصد کمی آتی ہے ۔اور یو تھ ایکسچینج یا دوسرے پر وگراموں میں ایک سال یا 10ماہ کے لئے امریکہ کا دورہ کر نے والے طلبہ وطالبات پو ری عمر کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ان کی تعلیمی ترقی رک جا تی ہے ۔ان کا کیرئیر بر باد ہو جاتا ہے۔یو تھ ایکسچینج پروگرام کے تحت امر یکہ کا دورہ کر نے والے ایک ہزار طلبہ و طالبات کا سروے کیا گیا ۔ان میں سے صرف 34 طلبہ اور طالبات نے اپنی تعلیم مکمل کی ۔ 966واپس آکر اپنی تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکے ۔اب امریکہ کے سامنے” نہیں” کہنے کا وقت آگیا ہے ۔ ہماری پا رلیمنٹ کو اپنی خود مختاری دکھا نی چاہیے ۔ہماری سیاسی قیادت کو اپنی آزادی اور خود مختاری کا مظاہرہ کر نا چاہیے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق