تازہ ترین

دیر میں کامیاب جرگہ؛ہڑتال ختم کر دی گئی/سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک چترال پہنچ گئے

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس)اسسٹنٹ کمشنر دروش بشارت احمد، عوامی نمائندے کے طور پر قاری جمال عبدالناصر اور ایس ڈی پی او دروش ظفر احمد پر مشتمل ایک وفد نے گذشتہ روز دیر میں منعقد ہونیوالے ایک جرگے میں شرکت کی جسمیں دیر اور چترال کے کاروباری و ٹرانسپورٹ حلقوں کے درمیان پیدا شدہ غلط فہمیوں کے ازالے کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے بعد گذشتہ پانچ دنوں سے جاری ہڑتال ختم ہوگئی اور سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک چترال پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق دیر (اپر) میں ہونیوالے اس جرگے میں چترال کی طرف سے سابق اسسٹنٹ کمشنر دروش بشارت احمد، عوامی نمائندے کے طور پر قاری جمال عبدالناصر، ایس ڈی پی او دروش ظفر احمد شریک ہوئے جبکہ دیر اپر کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر دیر آصف علی، ایس ڈی پی او شیر رحمن، پناکوٹ دیر سے ممبر ضلع کونسل غیاث الدین، ٹرانسپورٹ یونین کے صدر محمد وزیر، یونین کے سیکرٹری فضل راضی ، جاوید اقبال اور احمد نبی ،ظاہر اور میرزہ محمد شریک ہوئے ۔جرگے کے دوران حالیہ مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی گئی جبکہ دیر کے ٹرانسپورٹ یونین کی طرف سے بعض دیگر مسائل بھی پیش کئے گئے جن پر اے سی دروش نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ تمام معاملات کا قانو ن کے مطابق حل نکالا جائیگا۔ اس موقع پر جرگہ سے گفتگو کرتے ہوئے وفد میں عوامی نمائندے قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ چترال اور دیر کے عوام کے دکھ درد مشترکہ ہیں اور بعض انفرادی معاملات کو بنیاد بناکر آپس میں دوری پیدا نہیں کی جاسکتی بلکہ باہم گفت و شنید سے ایسے مسائل کا حل کرکے شر پسند عناصرکے کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چترال کے عوام کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور ضلع دیر بالا کے انتظامیہ سے گذارش کی کہ وہ ان مسائل کے حل پر بھی توجہ دے۔ بعد ازاں جرگے میں متفقہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جوکہ باہمی مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں کردار ادا کریگی۔ جرگے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں طرف کے مسائل کو بہر صورت گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائیگا اور اس ضمن میں اشتعال انگیز اور متعصبانہ اقدامات کی مکمل حوصلہ شکنی کی جائیگی۔
واضح رہے کہ چند دن پہلے زیارت کے قریب مشین چڑھائی میں فلائنگ کوچ میں سوار افراد اور ایک ٹرک کے ڈرائیور کے درمیان جھگڑا ہوا جسکے دوران مبینہ طور پر ٹرک حادثے کا شکار ہوگئی اور اس نتیجے میں ایک شخص جان بحق ہوگیا۔ اس واقعے کی وجہ سے دیر کے لوگوں میں زبردست اشتعال پیدا ہوگیا اور عوامی سطح پر اسکی مذمت کرنے کیساتھ ساتھ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا جبکہ ٹرک یونین نے ہڑتال کردی ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق