ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…..کیپٹن اجمل شہید ( تمغہ بسالت)

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ کو قسم پریڈ بھی کہا جا تا ہے۔ پاسنگ آؤٹ کے وقت جنٹلمین کیڈٹ قسم کھا تا ہےajmal کہ وطن کی مٹی کو دشمن کے حملوں سے بچانے کے لئے اپنی جان بھی دیدے گا۔ پھر وہ اپنا دن، اپنی راتیں، اپنا سکھ ، چین ، اپنا آرام وطن کے لئے قربان کرتا ہے اور اپنی جان بھی وطن کے لئے دے دیتا ہے۔ کیپٹن محمد اجمل خان شہید تمغہ بسالت کی پہلی برسی پر آبائی ضلع چترال میں ان کی یاد منائی گئی۔ ان کی زندگی کے تین پسندیدہ جملے پینا فلیکس اور بینر کی صور ت میں جگہ جگہ آویزاں کئے گئے۔ پہلا جملہ انگریزی میں ہے۔ “فوجی سے محبت کا خطرہ مول نہ لینا وہ بہت جلد مرتے ہیں اور جدائی کا صدمہ دے جاتے ہیں” دوسرا جملہ قدرے طویل ہے ۔ انگریزی جملے کا رواں اور سلیس ترجمہ یوں بنتا ہے “اگر میں واپس نہ آیا تو ان کوبتا دیجئے کہ میں نے اپنا آج ان کے کل پر قربان کر دیا ہے”یہ جملے ان کی شرٹ، ان کے فریج اور دیگر نمایاں اشیاء پر لکھے تھے۔ زندگی میں ایک شعر ان کو بہت پسند تھا۔ وہ تنہائی میں اس کو گنگناتے اور محفل میں سنا تے تھے۔
کیوں نہ تجھ سے لپٹ کے سوؤں اے قبر میں نے جان دے کر پایا ہے تجھے
پہلی برسی کی تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نےCol.nizamudin اپنی تقریر خون کی اہمیت سے شروع کی اور خون کی اہمیت پر ختم کی۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی حفاظت کے لئے خون بہانا اور جان کا نذرانہ دینا پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے۔ پاک فوج میں ہر جوان اور ہر آفیسر پاک وطن کے لئے خون کا نذرانہ دینے لئے بے تاب ہے اور پاک فون میں آفیسروں کی شہادتوں کی شرح دنیا کی ہر فوج سے زیادہ ہے۔ کیونکہ کیپٹن محمد اجمل شہید کی طرح پاک فوج کا آفیسر محاذ جنگ پر سپاہیوں سے آگے ہوتا ہے۔ -5سندھ رجمنٹ کے کیپٹن محمد اجمل خان شہید بھی “آپریشن خیبر ٹو”میں جوانوں سے آگے ہو کر دشمن کی ایک ایک ٹھکانے کی تلاشی لے رہا تھا۔ ajmal 2وادی تیراہ میں دشمن کے ایک خفیہ ٹھکانے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو زیر زمین مائن کے دھماکے میں جام شہادت نوش کیا۔
بِنا کر دند خوش اسمے نجاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طنیت را
یہ 30اپریل 2015ء کا واقعہ تھا۔ یکم مئی کو جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل نادر زیب اور اعلیٰ فوجی حکام شہید کی جسد خاکی کو لے کر انکے آبائی گاؤں زنگ لشٹ تورکھو ضلع چترال پہنچ گئے جہاں سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ چند ماہ پہلے گھر جاتے ہوئے اس نے کہا تھا “میں آؤں گا نہیں مجھے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر لایا جائے گا ” جمعیتہ العلمائے پاکستان (ف) کے رہنما شیخ الحدیث مولانا حسین احمد نےajmal 4 فلسفہ شہادت اور پاک فوج کی لازوال قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیرونی دشمن کے خلاف جہاد ہو یا اندرونی دشمن کے خلاف معرکہ ہو چترال کا بچہ بچہ اسلام اور وطن کی محبت میں سرشار ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ جان دینے کے لئے تیار ہے۔ جہاد کشمیر کا معرکہ ہو، 1965ء کی جنگ ہو، 1971ء کی لڑائی ہو۔ کارگل کا معرکہ ہو، آپریشن راہ راست ہو، آپریشن ضرب عضب ہو یا آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو ہو دشمن کے خلاف وطن اور اسلام کے دفاع کی ہر جنگ میں چترال کے سپوتوں نے جہلم اور چکوال کے سپوتوں کی طرح قربانیاں دی ہیں۔ مولانا نے کہا اجمل شہید عالم اسلام کا سپوت ہے۔ اس نے عالم اسلام کا نام روشن کیا۔ ممتاز سماجی شخصیات سید احمد خان اور صفت زرین نے اپنی تقریروں میں کہا کہ چترال کے طول و عرض میں سینکڑوں شہیدوں کے مزارات ہیں۔ ہر مزار پر دن کو پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے اور رات کو نور کا چراغا ں ہو تا ہے۔ عصمت عیسیٰ ایڈوکیٹ نے ajmal3فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی:
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم نہایت اسکی حسین ابتدا ہے اسماعیل
شہید کے والد گرامی محمد غازی خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں وہ بات کہی جو ہر غیرت مند محب وطن اور اسلام کا شیدائی کہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا محمد اجمل خان بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال نہیں کرتا۔ اس کو کبھی تھا نہیں کہتا کیونکہ حق تعالیٰ اس کو زندہ و جاوید قرار دیتا ہے ۔ اس لئے میرا بیٹا زندہ ہے۔ مجھے اس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ میں شہید کا باپ ہوں اور میرے لئے یہ نئی بات نہیں۔ میرے باپ جنان غازی نے میرے دادا آباد خان کے ہمراہ جہاد کشمیر میں سکردو، کارگل ، تراگبل کے محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا۔ میرے دو چچا عبد الحنان اور محمد وزیر خان بھی اس جنگ میں شریک تھے۔ میرے ایک چچا نواب خان نے اس معرکے میں جام شہادت نوش کیا۔ میرے چچا میر سلطان نے 1971ء کی جنگ میں شہادت پائی۔ یہی ذوق شہادت ہے جو محمد اجمل خان کو پاک فوج میں لے گیا۔ اور اس نے اپنی منزل کو پا لیا۔ تقریب کا اہتمام اجمل شہید کے مادر علمی چترال ماڈل کالج کی طرف سے کیا گیا تھا۔ کالج کے بانی پرنسپل یار محمد خانajmal 5 نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کی شہادت کی پہلی برسی پر آنے والے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے شہید محمد اجمل خان کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ چترال ماڈل کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 12سالوں میں اس تعلیمی ادارے کے 13طلبہ کو پاک فوج میں کمیشن ملا ہے۔ اور چترال کے پہلے شہید آفیسر کا تعلق بھی چترال ماڈل کالج سے ہی ہے۔ اس وقت 137 لانگ کورس کے لئے مزید چار طلبہ کا انتخاب ہوا ہے۔ انہوں نے شہید کیپٹن محمد اجمل خان کو تمغہ بسالت دینے کی تقریب کا حال سناتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے جو آفیسر اور جوان بیرونی سرحدات پر ہونے والی جنگوں میں شہادت کا درجہ پاتے ہیں یا غازی ہو کر آتے ہیں ان میں ایک فیصد سے بھی کم کو نشان حیدر ملتا ہے باقی کو دیگر اعزازات ملتے ہیں۔ اندرون ملک کسی آپریشن میں شہادت اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے والوں کو تمغہ بسالت ، ستارہ بسالت، تمغہ خدمت اور دیگر اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ انہوں نے شہید کے ورثاء کی حوصلہ افزائی کرنے پر 5سندھ رجمنٹ ، پاک فوج کے حکام اور چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر چترال محمد خالد خان نے اجمل شہید کی شہادت کے دن کا حال آب بیتی کی صورت میں سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ شہید محمد اجمل کی کمپنی کو تیراہ میں اہم مقامات دشمن سے چھڑانے کا ٹاسک دیا گیا تھا جو انہوں نے دو راتوں میں مکمل کیا۔ اس موقع پر شہید محمد اجمل خان کی مختصر سوانح عمری پیش کی گئی۔ شہید آفیسر 1987ء میں زنگ لشٹ تورکھو چترال میں محمد غازی خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول زنگ لشٹ، ہائی سکول شاگرام، اسلامیہ پبلک سکول نوشہرہ، چترال پبلک سکول، چترال ماڈل کالج چترال اور اسلامیہ کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی۔ 2007ء میں 119 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے ان کا سلیکشن ہوا۔ 2009ء میں انہیں 5سندھ رجمنٹ میں کمیشن ملا۔ جنٹلمین کیڈٹ کی حیثیت سے وہ پہلے قاسم کمپنی میں تھے۔ پھر صلاح الدین کمپنی میں گئے۔ پرچم پارٹی میں رہے۔ مزار قائد پر گارڈ کے فرائض انجام دینے والے دستے میں شامل ہوئے۔ 6فٹ سے اونچا قد تھا۔ فٹ بال ٹیم کے گول کیپر اور فاتح رہے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ ایوان صدر میں ہوئی۔ دوسری پوسٹنگ سیاچن کے محاذ پر تھی۔ تیسری پوسٹنگ خیبر ٹو میں ہوئی۔ انہوں نے سکول آف انفنٹری کوئٹہ سے اسالٹ کورس میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی تھی۔ تقریب میں شہید کی زندگی کے حوالے سے ایک ویڈیو ڈاکیو مینٹری بھی دکھائی گئی۔ کھوار زبان میں فاروق احمد اور رشید احمد کے دو مرثیے بھی پیش کئے گئے۔ شہید کے کمسن بیٹوں ریان غازی اور محمد اکمل خان کی تصویریں دیکھ کر ہر آنکھ پر نم ہوئی۔ تقریب کی کمپیئرنگ جاوید حیات اور وسیع الدین آکاش نے کی۔ ان کی شہادت پر صدر مملکت، چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر اعلیٰ حکام کے تعزیتی و تہنیتی پیغامات وسیع الدین آکاش نے پڑھ کر سنائے۔ جبکہ تمغہ بسالت کی سائٹیشن آر جے وقا ر احمد نے پیش کی۔ سائٹیشن میں بتایا گیا کہ ایک مہینے کا ٹاسک دو دنوں میں مکمل کرکے اپنی جان کا نذرانہ دینے پر انہیں تمغہ بسالت دیا گیا۔ تلاوت کی سعادت قاری حافظ محمد شعیب نے حاصل کی۔ ماڈل کالج کے طالب علم فاروق حسین نے نعت شریف پیش کی جبکہ مناحل خالد اور انکی ساتھیوں نے ملی نغمہ پیش کیا۔ تقریب کا حاصل ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کی تقریر تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں شہید کیپٹن محمد اجمل خان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے والد گرامی محمد غازی خان اور خاندان کے جذبے کو داد دی۔ ضلع ناظم نے اعلان کیا کہ چترال کے جن نامور فرزندوں نے پاک فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے ان کی یاد میں ضلعی حکومت اس طرح کے ریفرنس منعقد کرے گی اور قوم کے شہداء کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چترال کی ضلعی حکومت کیپٹن محمد اجمل خان شہید جیسے عظیم فرزندوں پر فخر کرتی ہے اور پاک وطن کے سرحدوں کی حفاظت کے لئے پاک فوج کے ساتھ ہر محاظ پر شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ برسی کی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیرتعداد میں شرکت کی اور شہید وطن کو خراج تحسین پیش کیا۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق