محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان۔۔ میرے پشاور میں چوہے،،

…….محمد جاوید حیات…….


مدت دراز بعد سارے چوہوں کو اطلاع دی گئی۔کہ جمع ہو جاؤ بہت ضروری میٹنگ ہے۔،، سارے چوہے جمع ہو گئے۔چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان، موٹے تازے،لاغرنزار سب جمع ہو گئے۔پتہ نہیں اس ڈرپوک مخلوق میں اب جراٗت کہاں سے آگئی تھی۔سب کی آنکھوں سے خوف غائب تھا۔سب جراٗت کے پتلے نظر آرہے تھے۔ان کے دل مضبوط چٹان کی طرح تھے۔وہ جو پل پل بے چین رہنے والی مخلوق، وہ اپنی خوراک کیلئے چوری چھپے سب کچھ جمع کرنے والی مخلوق میں اتنی ڈھٹائی کہاں سے آگئی تھی۔صبح سے آتے گئے۔شام ہو گئی۔۔۔ان کو شہر پشاور کی ہلچل ،رونق اور مصروفیات سے سروکار نہیں تھا۔گلیوں سے ہو کے آئے۔بازاروں سے ہو کے آئے۔گھر گھر سے ہو کے آئے۔بچے جو ان کے پیچھے بھاگا کرتے تھے۔ان کو دیکھ کر خوف سے چیخ کر بھاگ رہے تھے۔اب تک بلی کی میاؤ میاؤ سے وہ خوف کے مارے جان بہ لب ہو تے اب کی بار ان کی وجہ سے پشاور چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔انسان تھے کہ چوہوں کو گندی ترین مخلوق کہہ کر نفرت کرتے۔۔برتن ڈھانپ کے رکھتے ۔کہیں اس میں منہ نہ لگائیں تو طاغون جیسی خوفناک بیماری میں مبتلا ہو جائیں گے۔۔اب انسان ان پر تبصرہ کر رہا تھا ۔ان کے مقابلے کا سوچ رہا تھا ۔۔۔شام تک سارے چوہے پہنچ گئے۔ان میں وہ بوڑھا چوہا بھی تھا ۔جو آج سے سینکڑوں سال پہلے ایسے ہی ایک اجتماع میں شامل تھا ۔جب اس اجتماع میں چوہو ں نے فیصلہ کیا ۔۔ کہ بلی تنگ کرتی ہے۔فیصلہ ہواکہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھی جائے گی۔بلی کے چلنے سے گھنٹی ہلے گی اس کی آواز آئے گی ۔چوہوں کو خبر ہوگی۔ایک سیکنڈ میں گھنٹی چرا کر لائی گئی۔۔تب اس تجربہ کار چوہے نے کہا تھا ۔کہ فیصلہ قابل تحسین ہے مگربلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟؟سب حیران تھے۔میٹنگ ناکام ہوئی تھی۔۔اب کی بار اس کو بڑے احترام سے بٹھایا گیا۔اعلان ہوا۔۔کہ دوستو!زمانہ بدل گیا ہے۔دنیا ہم پہ تنگ ہو تی جا رہی ہے۔ٹھیک ہے کہ رزق زیادہ ہے ۔انسانوں نے اصراف کی حد کر دی ہے۔کھانے راہوں میں بکھرے پڑے ہیں ۔مگر ان بدبختوں نے عمارتیں پکی بنائی ہیں ۔ ٹائیل اور سیمنٹ توڑنے اور بل بنانے میں مشکل ہوتی ہے۔پھر زہر وغیرہ کی جگہ انھوں نے اسپرے وغیرہ ایجاد کیا ہے۔پھر راتیں بھی دنوں کی طرح روشن ہو گئیں ہیں ۔۔۔ہم کہیں چھپ نہیں سکتے ہیں ۔اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر ادھر ادھر جانے کی آزادی بھی ختم ہو گئی ہے۔اس لئے کوئی لائحہ عمل طے کرنی چاہئے۔۔۔۔خدشات پیش کئے گئے۔تجاویز پیش ہوئے۔۔بوڑھا چوہا خاموش بیٹھا رہا۔۔آخر سب بڑی شدت سے خوف اور تذبذب کے ملے جلے جذبات سے بوڑھے چوہے کے بولنے کا انتظار کرنے لگے۔۔اس کو دعوت دی گئی۔۔پہلے اس نے لمبی آہ بھری۔پھر کہا دوستو؛ بہت پہلے مجھے تم پر بہت ترس آتا تھا ۔اب تمہاری بجائے ان بے چارہ انسانوں پہ ترس آتا ہے۔تمہارے مسلسل کام اور محنت نے تمہیں اس قابل بنا دیاکہ آج تم دن دھاڑے ان کی گلی کوچوں میں ڈٹھائی سے چل سکتے ہو۔تمہاری چوری کے دن گذر گئے۔اب تم ان سے اپنا حق چھین سکتے ہو۔جو سامنے آئے چھیرو پھاڑو کاٹو۔۔اس نے پھر آہ بھری۔۔کہا کہ یہ انسان بھی کیا عجیب مخلوق ہے۔اس کو عقل و خرد سے نواز کر اشرف بنایا گیا۔اس کو دنیا کی حقیقت بھی بتائی گئی۔اس کو طرز حکمرانی بھی سیکھائی گئی۔اس کو گائیڈ بک بھی دیا گیا۔مگر اس میں بعض ایسی کمزوریاں ہیں ۔جو اسکے اشرف ہونے کے راستے میں روکاوٹ ہیں ۔دوستو! اب کی بار تو ان کی کمزوری انتہا کو پہنچی ہے۔اس موقع سے فائدہ اُٹھاؤ۔ان میں امانت میں خیانت ،لالچ اور کرپشن آگئی ہے۔وہ فحاشی و عریانی کی طرف رحجان رکھتے ہیں مجھے ڈر ہے۔کہ کہیں ان پر ہماری صورت میں عذاب نازل نہ ہو کیوں کہ ان سے پہلے قوموں پر ٹڈی دل ، مینڈک اور جوؤں کا عذاب نازل ہوا۔غیرت مند قوم پر چوہوں کی صورت میں عذاب تو نازل نہیں ہو گا۔مگر یہ کیوں نہیں ڈرتے۔حلانکہ اس سے پہلے ہم اتنے بہادر نہیں ہوا کرتے تھے۔مجھے لگتا ہے کہ اگر ہمیں ان پر مسلط بھی کی گئی تو وہ ہمیں خدا کا غذاب نہیں سمجھیں گے حکومت کی سستی کہیں گے ،پارٹی کی غلط پالیسی کہیں گے۔ہم سے نہیں آپس میں الجھ پڑیں گے۔ہمیں سیاسی طور پر کیش کریں گے۔۔ایک دوسرے کو ،،چوہے مارنے،،کا طعنہ دینگے۔۔اب کسی گھنٹی اور کسی بلی سے مت ڈرو۔ان کی گلی کوچوں سے دھرانا گذر جاؤ۔ان کو ان کی کمزوری کا سبق سیکھاؤ۔یہ کاٹنے کے قابل ہو گئے ہیں ۔خدا ظلم اور بے حیائی برداشت نہیں کرتا ۔دیکھو ان میں نفاق آگیا ہے۔یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں ۔تمہیں ان کے سابق صدر غلام اسحاق خان کے وہ الفاظ یاد ہیں انھوں نے کہاتھا کہ ایک کی حکومت آتی ہے دوسرا اڑھی چوٹی کا زور لگا کر اس کو گراتا ہے پھر دوسرا اپنا بدلہ لیتا ہے۔قوم کا کوئی نہیں سوچتا۔خدا کی قسم اگر یہ متحد ہوجائیں تو ہمیں جراٗت نہیں کہ ان کی آبادیوں میں گھس جائیں ۔۔۔جس کی حکومت آجائے تو دوسرا اخلاقی طور پر اس کی مدد کرے زاتی مفاد بھول کر اس کے ساتھ مل کر قوم کیلئے کام کرے۔ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑیں تو کسی کی کیا مجال کہ ان کے مقابلے پہ آجائیں ۔اب کی بار ان کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے اللہ سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے ۔شہر پشاور ان کی تاریخ ہے ،ان کی پہچان ہے ،ان کی قومی دولت ہے ۔وہ اس کا خیال نہیں رکھتے۔اس لئے ان کی گلیوں کو ہمارے حوالہ کیا گیا ہے ۔انجائی کرو گھومو پھرو تمہیں کوئی ہٹا نہیں سکتا ہاں اگر ان کو اپنی کوتاہی کا اندازہ ہوا۔وہ خداسے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں سب ایک پیچ پر آکر اس سرزمین کی ترقی اور خوشحالی پر سوچیں اس انعام اور امانت کیلئے اللہ کا شکر ادا کریں تو ہم خود بھاگ جائیں گے مگر جب تک وہ ہم پر اپنی سیاست چمکاتے رہیں گے ہمیں ہٹا نہ سکیں گے۔ان کا جینا دوبھر ہوگا۔مگر دوستو اس سر زمین کی قوم بہت غیرت مند ہے جب گڑگڑانے پہ آجائے تو رب کو منا لے گی اور ہما ری شامت آئے گی ۔۔بوڑھے چوہے کی تقریر ختم ہو ئی محفل بھی اختتام پذیر ہوئی۔۔۔میں نے سوچا کہ آقا خاکم بدہن کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سے ،،چیتے کا جگر اور صفت شاہینی،،واپس لے کر ہمارے سامنے چوہے لا کھڑے کئے گئے ہوں ۔یا اللہ ہماری ٹھوکر سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوتے تھے آقا ہمیں وہ صلاحیتیں واپس دلا کہ ہماری ٹھوکر سے زمین ہلنا بند کر دے۔آسماں لبئیک کہے۔۔دریا راستہ دے۔آقا ہم تیرے حبیبﷺ کی کمزور امت ہیں آقا اپنے حبیبﷺکے صدقے ہمیں معاف فرما دے۔ہم اور ہما رے’’بڑے‘‘ اگر کوتاہیو ں کے مرتکب ہو گئے ہیں ۔تو ہماری لغزشیں معاف فرما ۔پھر میں نے اپنے بڑوں کو مخاطب کرکے کہا۔۔اے ہما رے بڑو۔۔ہمیں تم سے محبت ہے۔اس کا لحاظ رکھو ۔اگر خدا نخواستہ تم سے نفر ت کرنے لگیں تو تم چھوٹے بنتے جاؤ گے تمہاری بڑائی چھوٹا پن میں بدل جائے گی۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔۔ خلوص سے اس مٹی کی خدمت کرو۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق