ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ….بھارت کا نیا داؤ

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ……..
دشمن مختلف داؤ پیچ آزماتا ہے ۔مختلف چال چلتا ہے ۔بھارت اور عالمی طاقتوں نے پاکستان کے اندر چینی سر مایہ کا ری کو رو کنے کے لئے سیا سی ماحول کو نا سا ز گار اور دہشت گر دی کے حالات کو نا قا بل اعتبار بنا دیا ہے ۔دو سری طر ف اپر یل کے آخری ہفتے میں نئی دہلی میں افغان ایران اور بھارت کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں ایران اور افغا نستان کے راستے وسطی ایشیا سے سمندر تک نئی اقتصادی را ہداری کے منصوبے کی حتمی منظوری دیدی گئی ۔یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہو گا ۔بھا رت نے ایران کی بندرگاہ چا بہار سے کا بل تک بڑی شاہراہ کی تعمیر کا کام اپنے ذمے لے لیا ۔یہ سڑک اگلے دو سالوں میں مکمل ہو جا ئیگی ۔اس کے بعد اقتصادی را ہداری کو تا جکستان کے راستے وسطی ایشیا اور چین تک توسیع دی جا ئے گی۔تاجکستان، کرغزستان اور کزاخستان بھی اس منصوبے میں حصہ ڈا لیں گے ۔یو ں دو سالوں کے اندر چا بہار کی بند رگاہ کو افغا نستان کے راستے چین کی سرحد سے ملا یا جا ئے گا اور تجا رتی مال اس شا ہراہ سے گزرے گا ۔2018 ء میں شا ہر اہ کی تعمیر مکمل ہو جا ئیگی ۔اس کے بعد پا کستان کے سفارت کا روں ،سیا ستد انوں اور صحا فیوں کو اس شا ہر اہ کا دورہ کر ایا جا ئے گا ۔دورہ کرا نے کے بعد بر یفنگ میں بتا یا جا ئے گا کہ اب چین پا کستان اقتصادی را ہداری کی ضرورت نہیں رہی ۔پا کستان بھی بھا رت کی اشیر باد اور خو شنود ی حا صل کر کے ایران ،افغانستان شا ہرا ہ سے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے ۔ اس طرح افغان ٹرا نزٹ کا سا را کا رو بار ایران منتقل ہو جائے گا ۔185ارب ڈالر سالانہ کے کا روبار ی مو اقع اور مفا دات پا کستان کے ہاتھ سے نکل جا ئیں گے ۔اس میں بھا رت ،امر یکہ ،ایران اور افغا نستان کی مکا ری سے زیادہ پا کستانی سیا ستدان کی کا م چو ری ،نا اہلی ،حرص ،لا لچ اور غفلت کا ہا تھ ہو گا ۔وطن عزیز پا کستان میں جنرل مشرف کے علاوہ آفتاب احمد خان شیر پا ؤ ،جنرل افتخار حسین شاہ اور جنرل فضل حق کو یہ احساس تھا کہ وسطی اشیاء اور افغا نستان کے ساتھ مل کر شا ہراہوں کی تعمیر ،تجا رتی سر گر میوں کا فرو غ ا ور سیا حت کے شعبے میں با ہمی تعا ون پا کستان کے مفاد میں ہے ۔خصو صاً جنرل مشرف نے اس شعبے پر خصوصی تو جہ دی تھی ۔وہ بھارت کے داؤ پیچ سے بخوبی واقف تھے ۔ان کی کا بینہ میں قابل لو گ تھے ان کے دور میں دفتر خارجہ بہت فعال تھا اور پاکستان کے سفارت کا روں کو منا سب رہنمائی ملتی تھی ۔قیا دت کی طرف سے وژن ملتا تھا ۔متوازن پالیسی ملتی تھی ۔2008 کے بعد صورت حال میں ابتری آنے لگی ۔شاہ محمود قریشی اور حنا رربانی کھر کے ادوار میں دفتر خارجہ کی طرح بیرون ملک پا کستانی مشن بھی غیر فعال ہو گئے ۔پھر ایسا دور آیاکہ دفتر خارجہ کے لئے کو ئی وزیر ہی نہیں ملا ۔ایڈہاک طریقے سے کام چلانے کے لئے دو ضعیف العمر بزرگوں کو لایا گیا ۔و ونوں کی آپس میں بو ل چال بند ہے ۔دونوں ایک دوسرے کے پکے دشمن ہیں ۔دونوں بڑھاپے کے درجنوں امراض میں گر فتار ہیں ۔چنا نچہ د فتر خارجہ غیر فعال ہے ۔یو رپین ڈسک سے لیکر افغان اور بھارت ڈسک تک ہر شعبے پر جمود طاری ہے ۔ایران سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن نہیں رہا ۔چین کی طرف سے ملنے والی امداد اور سپورٹ کو سنبھالنے کے لئے ادارہ جاتی طریقہ کار نہیں رہا ۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کو دو پیسوں کے لالچ میں متنازعہ بنا کر بھارت اور امریکہ کو پا کستان کے خلاف ایران اور افعانستان کے محاذ پر کام کر نے کا نیا مو قع دے دیا گیا ۔اب بھارت کا نیا داؤ بے حد کا میاب ثابت ہو ا ہے اور پا کستان کے خلاف اقتصادی ناکہ بندی کے لئے دشمن کے حر بے کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔بھارت نے اس سال چا بہار کا بل شا ہر اہ پر 500 کر وڑ روپے کی سر مایہ کا ری کی ہے ۔یہ پیسہ سال 2016 ء کے لئے افغان حکو مت دیا گیاہے اور اقتصادی راہداری کی تعمیر پر کا میابی سے کا م ہو رہا ہے ۔اس کے مقابلے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ تعطل کا شکار ہے ۔پنجاب اور خیبر پختو نخوا کے درمیان اس منصوبے پر شدید اختلافات ہیں ۔وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ پنجاب کو فا ئدہ دینا چا ہتی ہے ۔ عمران خان اور ان کی جماعت منصوبے کو ختم کر انے پر اپنی تو انائیاں صرف کر ہی ہے ۔دوسری جماعتیں تما شا دیکھ رہی ہیں ۔پا کستان کی مسلح افواج نے منصوبے کی حفاظت کے لئے فوج کا الگ ڈویژن قائم کیا ہے ۔پاک فوج کا بیان آیا ہے کہ چین پا کستان اقتصادی را ہداری کی ایسی حفاظت کی جا ئیگی جیسے اپنی ماں کی حفاظت کی جا تی ہے ۔بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ حکومت نے دشمن کے مقا بلے میں سفارتی محاذ پر کو ئی سرگرمی دکھا ئی ہو ۔دیکھنے میں یہ نظر آتا ہے کہ ہماری حکومت خاموش تماشا ئی بن کر بیٹھے گی اور جب دشمن اپنا کا م مکمل کر ے گا تو ہما ری حکو مت کی طرف سے اس کے خلاف اخباری بیا نات جاری کئے جائیں گے ۔مگر اخباری بیانات کے ذریعے کا میاب سفارت کا ری نہیں ہوتی۔عرب ملکوں میں بھارت کے جتنے سفیر ہیں سب کو عربی زبان پر عبور حاصل ہے ۔پاکستانی سفیروں میں اکثر نے قران نا ظرہ بھی نہیں پڑھا ۔سفارش اور اقرباء پروری کی وجہ سے سفارت خانوں پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں ۔ایران اور افغا نستان کے ساتھ ہما رے سفا رتی تعلقات میں حد درجے کی سرد مہری ہے ۔تا جکستان اور دیگر وسطی ایشائی ممالک کے ساتھ سفا رتی رشتوں میں بھی سرد مہری دکھا ئی دیتی ہے۔جبکہ ان ممالک کے سا تھ بھار ت کے تعلقات نہ صرف خو شگو ارہیں بلکہ ان میں گرم جو شی بھی پائی جا تی ہے ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ افغا نستان اور ایران کے بعد امر یکہ اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کو سرخ جھنڈی دکھا ئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے نہ صرف ہمارے دوستوں کوہم سے دور کر دیا ہے بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر ہمارے دیرینہ دوست چین کے ساتھ ملکرہم جو منصوبے لانا چا ہتے تھے ان منصوبوں کو بھی نا کامی سے دو چار کر دیا ہے ۔یہ پا کستان کی اقتصادی نا کہ بندی کے مترادف ہے۔ اس کے لئے دفتر خارجہ کی نئی صف بندی بے حد ضروری ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق