ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …..قبا ئل ،ایف سی آر اور ریفر نڈم

……….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ


جو ن ایلیا نے مستی کے عا لم میں ایک با ت کہی تھی:
نہیں بنیاد کی کو ئی بنیا د
یہی با با الف کا ہے ارشاد
گز شتہ روز اخبارات میں فا ٹا ریفا ر مز کمیشن کی میٹنگ کی روداد پڑھ کر جون ایلیا بہت یاد آئے۔ فاٹا ریفارمز کمیشن کے اراکین کہتے ہیں قبائلی عوام کی مرضی کے بغیر کوئی نظام اُن پر مسلط نہیں کیا جائے گا ۔ان معزز ممبران سے کسی نے یہ پو چھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ موجود ہ نظام مسلط کرتے وقت قبائلی عوام سے کس نے پوچھا تھا۔ خیبر پختو نخوا کی قبائلی ایجنسیوں اور فرنٹیرریجنز نامی علاقوں میں ایک کروڑ پختونوں کی آبادی رہتی ہے ۔ اس آبادی پر200 لوگوں کی حکومت ہے۔ ان میں سے کچھ قبائلی لوگوں میں سے منحرف عناصر ہیں اور کچھ افراد ایسے ہیں جو انتظامی عہدوں کے ذریعے سسٹم کا حصہ ہیں۔ نناوے لاکھ نناوے ہزار آٹھ سو کی قبائلی آبادی سے کسی نے نہیں پوچھا نہ کوئی پوچھے گا ۔ مَلِک سسٹم اور ایف سی آر کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ اس تایخ کا ایک ایک ورق قبائلی عوام کے ناحق خون سے لکھا گیا ہے۔ 1960 سے لیکر 1901ٓٓٓٓٓٓٓتک انگریزوں نے کم و بیش 4سال پختونوں کی ثقافت کا مطالعہ کیا ۔ پختونوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور پختونوں کی نفسیات کا جائزہ لیا ۔ اس جائزے میں تین باتیں سامنے آگئیں۔ پہلی بات یہ تھی کہ پختونوں کی اکثریت انگریزوں کے اقتدار کو قبول نہیں کریگی ۔ دوسری بات یہ تھی کہ افغان سرحد کے ساتھ ملحقہ علاقوں کے پختون انگریزوں کی دشمنی میں دیگر پختونوں سے دو چار قدم آگے ہی رہیں گے ۔ تیسری بات یہ تھی کہ پختونوں کو بندوق کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں ۔ ان کو لالچ دے کرآسانی سے مارا جاسکتا ہے۔ ان حقائق کی بنیاد پر انگریز وں نے تین بڑے بڑے فیصلے کئے ۔پہلا فیصلہ یہ تھا کہ خان اور مَلِک کو لالچ دے کر ساتھ ملا ؤ ۔ عوام ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ دوسرا فیصلہ یہ تھا کہ افغان سرحد کے ساتھ ملحق علاقوں کے مَلِکوں کے لئے ماجب یا وظیفہ مقرر کرو ۔اُن کو لُنگی دو ۔وہ اس لالچ میں انگریزوں کو جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دینگے تیسرا فیصلہ یہ تھا کہ افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں کے عوام کو ڈراکے اور خوف زدہ کرکے انگریز کا رعب اُن پر بٹھانے کے لئے فرنیٹر کرائمز ریگولیشن کے نام سے ایسا قانون نا فذکرو جس میں صرف انگریز کے لئے جا ن ومال کی حفاظت کا بندوبست ہو۔ قبائل کے لئے جان ومال کے تحفظ اور امن وراحت کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ ان اہم مقاصد میں تیسرا مقصد سب سے زیادہ اہم تھا۔ چنانچہ انگریزوں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے ایف سی آر کا قانون نافذ کیا گیا جس کے تحت ایک افسر پورے گاؤں کو آگ لگا کر جلاسکتا ہے۔ ایک افسر کسی قانونی جواز کے بغیر دو ہزار افراد کو جیل میں ڈال سکتا ہے ۔کسی غیرت مند پختون کو 30سالوں کے لئے جیل میں ڈال سکتا ہے۔ قانون اورانصاف کے تقاضوں کی کوئی بات اور ضرورت نہیں ہے یہ ایف سی آر کی تاریخ ہے۔ اس کا واحد مقصد انگریز حکمران کی جان ومال کا تحفظ تھا ۔اس کا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔ قبائلی عوام کے مفاد، پاکستان کی بقا، یا سلامتی اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل سے اسکا کو ئی تعلق نہیں ہے لیکن یہا ں سنتا کو ن ہے۔ شا عر کہتا ہے ۔
میرے تو لفظ بھی کو ڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے ۔۔۔حد ہے
تیری ہر با ت ہے سر آنکھو ں پر
میری ہر با ت ہی رد۔۔۔حد ہے
قبائل کے ایک کروڑ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں پولیس سٹیشن دیدو ،سول جج ، سیشن جج ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی دو ۔انصاف دو، قانون دو، صوبائی حکومت میں حصہ دو، صوبائی کابینہ دو ، ضلع دو، پٹواری دو ،سکول دو ، ہسپتال دو، روزگار دو، عزت نفس دو ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اظہار رائے کی آزادی دو۔ اظہار رائے کی جو آزادی نو شہرہ، چارسدہ اور مردان کے عوام کو حاصل ہے وہی آزادی قبائل باجوڑ، مہمند ، وزیرستان اور خیبر کے عوام بھی مانگتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ عوام سے پوچھنے اور عوام کی رائے لینے کا کوئی سسٹم نہیں ۔ انگریزوں کے قانون ایف سی آرکا واحد مقصد یہ تھاکہ قبائلی علاقوں میں کوئی عجب خان آفریدی پیدا نہ ہو۔عجب خان آفریدی یا ملا پاوندہ پیدا ہوا تو انگریزوں کے لئے در د سر بنے گا۔ انگریزوں کا اقتدار اپنی آن بان کے ساتھ قائم نہیں رہ سکے گا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد 14اگست 1947ء کی شام کو ایک آرڈرنیس کے ذریغے ایف سی آر کو ختم کرکے قبائلی عوام کو پاکستان کے قومی دھارے یعنی مین سٹریم میں شامل کرنا چاہیے تھا۔ اُس وقت سرحد اسمبلی میں کانگریس کی اکثریت تھی ۔ریفرنڈم ہونا ابھی باقی تھا اس لئے 14اگست کی سہانی شام کو ایف سی آر ختم نہ ہو سکا ۔ ریفر یڈم کے ذریعے پختونوں نے سرحد کا الحاق پا کستان کے ساتھ کر دیا تو پختونستان کے مسئلے نے سراُٹھا یا ۔ اس طرح انگریزوں کی جان ومال کو تحفظ دینے کے لئے بنایا ہوا قانون پاکستان کے حکمرانوں کی ضرورت بن گیا۔ اب بھی200افراد کاٹولہ اس قانون کا دفاع کرتا ہے اور اس قانون کو قبائلی رسم ورواج کا نام دیتا ہے حالانکہ جرگہ اور تیگہ ایف سی آر سے بالکل الگ ہے۔ یہ پولیس سسٹم کے اندر ڈسپیوٹ ریزولیوشن کونسل( ( DRCکی طرح کا دستوری ادارہ بنے گااور باہمی مشاورت و مصا لحت کے ذریعے تنا زعات کا حل تلاش کر نے کی گنجائش جر گہ اور تیگہ کی صورت میں مو جو درہے گی ۔فا ٹا ریفا مز کمیٹی کے سا منے فا ٹا کے عوام کو ایف سی آر سے بہتر قانون اور بہتر نظام حکو مت دینے کا سوال ہے ۔اس سوال کا جو اب پو لٹیکل ایجنٹ اورمَلکوں کے ساتھ میٹنگو ں میں نہیں ملے گا ۔اس سوال کا جو اب ریفر نڈم کے ذریعے مل جا ئے گا۔ مگر ضیا ء الحق اور مشرف والا ریفرنڈم نہیں ۔الیکشن کمیشن ،فا ٹا سیکر ٹریٹ یا پو لٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ریفرنڈم نہیں۔بلکہ تھر ڈ پا رٹی ،پاک فو ج ،سپر یم کو رٹ آف پا کستان یا آزاد را ئے شماری کی کسی تنظیم پلڈاٹ و غیرہ کے ذریعے تمام ایجنسیوں میں مر حلہ وار ریفر نڈم کروا کر با لغ رائے دہی کے حق دار قبا ئلیوں کی آ زاد انہ رائے لی جا ئے ۔ریفرنڈم کا سوال بہت اہم ہو تا ہے ۔ جنرل ضیا ء الحق نے سوال پو چھا تھا کیاآپ پا کستان میں اسلامی نظام کا نفا ذ چا ہتے ہیں ۔اگر جواب ہاں میں ہے تو ضیا ء الحق 5سا لوں کے لئے صدر بن جا ئے گا ۔سوال کے مثبت جو اب کا جو نتیجہ دیا گیا ۔اسکا سو ال یا اس کے جو اب سے کو ئی تعلق نہیں تھا ۔مگر جا دو وہ ہے جو سر چڑھ کر بو لے ۔قبا ئلی عوام کے مستقبل کے حوالے سے ریفر نڈم کا سوال کم و بیش ان الفا ظ میں ہو نا چا ہیے ۔کیا آپ ایف سی آر کو ختم کر کے قبا ئل کو قومی دھا رے میں شامل کر نا چا ہیتے ہیں ۔آگے ہاں یا نہیں کے دو با کسنر ڈال دیں ۔جو اب ہا ں میں آئے تو پہلے مر حلے میں قبائل خیبر پختو ا کے اندرضم ہو نگے ۔نو ،دس سالوں میں ادارے مستحکم ہو نے کے بعد قبا ئل کا الگ صو بہ بھی بن سکے گا اور یہ قابل عمل ہو گا ۔ سرکاری دفاتر اور لا ئین ڈیپا ر ٹمنٹس کی غیر مو جو دگی میں نیا صوبہ قا بل عمل نہیں ہے ۔فا رسی میں مقولہ ہے “یکے را ہگیر ،بد یگردعو یٰ کن ” ایف سی آر کی جگہ قانون اور انصاف لے آؤ، پھرصوبہ بناؤ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق