تازہ ترین

گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز بونی میں زین لعابدین مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)8مئی 2016کو BSSکوشٹ کی جانب سے گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز بونی میں اپنے سرپرست اعلیٰ سابق ایم پی اے ، زین لعابدین مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر مرحوم کے عزیز و اقا رب ، دوست و احباب اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایم پی اے سید سردار حسین شاہ تھے اورصدارت کی نشست استاد بلبل امان نے سنبھالی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت قاری یوسف لیکچیررS BSکوشٹ قاری یوسف نے حاصل کی۔ تلاوت کے بعد مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے اجتماعی دعاکی گئی۔ پرنسپل BSS کوشٹ نے ادارے کی جانب سے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ تقریب میں اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگوں کی شرکت زین العابدین مرحوم سے بے لوث محبت کا ثبوت ہے۔ معروف تعلیم دان استاد محترم مکرم شاہ نے مرحوم کی زندگی کا ایک جامع خلاصہ پیش کیا۔ انکا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک بھر پور ذندگی گزاری ، بڑی جرات اور دلیری سے کٹھن حالات کا سامنا کیا اور بہت سی کامیابیوں سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ بڑی فہم وفراست اور دانشمندی سے سیاست کی اور ایک عاجزانہ زندگی گزاری۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ ظاہری طور پر ہم سے بچھڑ گئے ہیں، مگر ان کی یادیں ، انکا اخلاق ، انکی شفقت اور انکی کہی ہوئی ہر بات ہمارے دلوں میں تا حیات زندہ رہے گی۔ تقریب میں شریک مقررین نے اپنے خیالات و تجربات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم زین العابدین ایک نکتہ دان، مخلص سفیر محبت، پیکر مہرو وفا ، محسن انسانیت اور عظیم اخلاقیات کے مالک انسان تھے۔ انھوں نے ہر عہدے کو بڑی ذمہ داری سے نبھایا۔ سیاست میں ایک اعلیٰ اور منفرد مقام پیدا کیا اور ایک اعظیم لیڈر کے طور پر چترال کی سیاسی تاریخ انمٹ نقوش چھوڑے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے سماجی کارکن تھے جن کاا صول خدمت انسانیت تھا۔وہ بلا تفریق رنگ، نسل اور مسلک کے ہر انسان کی خدمت میں ہر دم حاضر رہتے تھے۔ ان کی انسان دوستی اور مخلوق خدا کے لئے بے لوث محبت پر بات کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی کارکن ڈاکٹر نظار ولی شاہ کا کہنا تھا کہ میری چترال ہیڈ کواٹرز ہسپتال میں کئی سالوں کی سروس میں کوئی ایسی صبح نہیں گزری کہ جب مرحوم نے ہسپتال کا دورہ نہ کیا ہو۔ وہ جتناعرصہ چترال میں گزارتے ہر روز DHQہسپتال کا دورہ کرتے اور نادار مریضوں کی مالی و اخلاقی معاونت فرماتے تھے۔ مقررین کا کہنا تھاکہ وہ ایک ایسے انسان تھے کہ انھوں نے ہر جگہ، ہر دل اور ہر خیال اپنی محبت سے ایک ایسا مقام بنالیا تھا کہ ان کی اس دنیا فانی سے جانے پر ہر دل افسردہ اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انکی شہرت اور عظمت کا اساسہ کوئی مال و دولت نہیں بلکہ شفقت، محبت انسانیت اور نظم و ضبط تھے۔ پرنسپل گورنمٹ ہائی سکول کوشٹ استاد امان اللہ کا کہنا تھا کہ سابق MPAزین العابدین اخلاق کا مجسمہ تھے۔ انکی نظر میں انسانیت ہرنصب اور ہر عہدے سے بڑی تھی۔ انھوں نے کبھی بھی اپنے صبر کا دامن میلا نہیں ہونے دیا۔ سیاست کے جتنے رموز تھے وہ اعلیٰ پیمانے پر ان کے اندر موجود تھے۔ سماجی و سیاسی کارکن فیض لرحمن بونی نے کہا کہ جو کرادار اور جو عمل مرحوم نے اپنی حیات میں انجام دیے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ وہ عاجزی اور انکساری سے بھر پور انسان تھے اور ہماری دعا ہے انکا خاندان انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے مخلوق خدا کی خدمت میں حاضر رہیں۔ ظفر اللہ پرواز نے مرحوم کے بارے میں اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے انسان تھے کہ جس بھی معاشرے میں گئے وہاں پر انھوں نے اپنے اعلیٰ کرادار سے ایک مخصوص مقام پیدا کیا۔ ان کے پاس اخلاق کا وہ ہتھیارتھا جس کی مدد سے انھوں نے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ پراگرام منیجر ہاشو فاونڈیشن سلطان محمود نے مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ علم و ادب سے گہری لگن رکھتے تھے۔ ان کو ہر موضوع پر عبور حاصل تھا اور وہ وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔
مرحوم زین العابدین کی کامیابیوں کے بارے میں مقررین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چترال کے حقیقی سفیر تھے۔ انھوں نے ہر میدان میں چترال کی نمائندگی کی اور چترال کی فلاح و ترقی کی لئے ایسے کارنامے سر انجام دیے جو ناقابل فراموش ہیں۔ چترال کی نیشل گرڈ اسٹیشن سے الحاق، لوار ی ٹنل پروجیکٹ، ڈگری کالج فار بوائز بونی کی تعمیر سابق MPAزین العابدین کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔
جنرل منیجرAKESPچترال برگیڈیر(ر) خوش محمد نے مرحوم کی خدمات خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے افکار کو کتابی شکل دی جائے تاکہ موجودہ نسل اور آنے والی نسل ان کے زریں اصولوں سے مستفید ہو سکیں ۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا جس کو سراہتے ہوئے ناظم یونین کونسل کوشٹ ایڈوکیٹ غلام مصطفےٰ نے بھی اپنے ڈسکرشنری فنڈ سے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا۔
چترال کے سماجی کارکن صوبیدار محمد عمر نے خاندان مرحوم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جو نہ صرف چترال بلکہ پاکستان کے ہر فورم پر انھوں نے اپنا مقام پیدا کیا تھا۔ انھوں نےture Inter Peace Research Venکی جانب سے مرحوم زین العابدین کی خدمات کے عوض پیش کیا جانے والا ایوارڈمرحوم کے خاندان تک پہنچایا، جس نے نہ صرف خاندان مرحوم بلکہ ضلع بھر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔
پروگرام کے مہمان خصوصی MPA اپر چترال سید سردار حسین شاہ نے بہت ہی جامع انداز میں مرحوم زین العابدین کی زندگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ مجھے زندگی میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا ۔ میں انکی شخصیت کے ہر پہلو سے واقف رہا ہوں۔ وہ ایک ایسے انسان ہیں تھے جو اوپر سے دیکھو کو سپاہی اور اندر سے دیکھو تو ایک صوفی ۔ وہ زندگی کے فلسفے کو سمجھ چکے تھے اور جو شخص زندگی کے فلسفے کو سمجھ جاتا ہے وہ زین العابدین بن جاتا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتے اپنی شخصیت ایسا سہر پھیلاتے کہ ہر انسان اسکا گرویدہ بن جاتا اور انکی انسان دوستی اورملنساری کا یہ عالم تھا کہ جب وہ علیل ہوئے تو کراچی سے لے کر گلگت بلتستان تک ہر دل ان کے لئے دعاگو تھا۔ انھوں نے خدمت خلق کی جو مثالیں قائم کیں وہ بینظیر ہیں اور مجھے انکے خاندان کے ہر فرد سے یہ امید ہے کہ وہ انکے نقش قدم پر چل چلتے ہوئے خدمت خلق کے اصولوں کو زندہ رکھیں گے۔
پروگرام میں شریک شعراء نے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار میں مرثیے پیش کئے، جس نے ماحول کو ان کی یاد کے خوشبو سے معطر کردیا۔ پروگرام میں مرحوم کی زندگی پر مبنی ایک تصویری جھلکی بھی پیش کی گئی۔ تقریب کے آخر میں مرحوم کے فرزند مینیجنگ ڈایریکٹر BSSکوشٹ عدنان زین العابدین نے اپنے خاندان اور علمی ادارے BSSکوشٹ کی جانب سے تقریب میں شریک مہمانوں ، ڈگری کالج فار بوائز بونی کی انتطامیہ اور ولنٹیرزکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے ہمارے والد ماجد کی علالت سے لے کر انکے انتقال تک جس طرح چترال کے ہر فرد نے ہماری حوصلہ افزائی کی وہ قابل ستائش اور باعث فخر ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ وقتوں میں بھی آپ کی محبت اور تعاون ہمارے ساتھ جاری رہے گا۔ انھوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ انکا پورا خاندان اپنے سر پرست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چترال کے ہر فرد کی خدمت میں ہر دم تیار رہیں گے۔ انھوں نے پامیر ادبی سوسایٹی اور کلچر فورم گرم چشمہ اور پامیر پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج گرم چشمہ کی جانب سے اپنے والد محترم کی یاد میں منعقدہ تعلیمی و تعزیتی ریفرنس پر منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔دعایا کلمات پر پروگرام کا اختتام ہوا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق