زہرہ جبین

پانامہ لیکس

آج کل پانامہ لیکس کے چرچے زبانِ زدعام و خاص ہیں ۔ میڈیا کے پردوں سے لیکر عوام الناس تک ہر طرف پانامہ لیکس کا تذکرہ زورو شور سے جاری و ساری ہے ۔ اس سکینڈل سے قبل غالباً عوام الناس کا پانامہ کے بار ے میں معلومات انتہائی قلیل تھیں مگر پانامہ کی ایک ؂فرم موسیک فو نسیکانے پانامہ کو دنیا بھر میں فلیش پوائنٹ کا درجہ دیا ہے۔ اگر آپ دنیا کے نقشے کا عمومی جائزہ لیں تو امریکاکے درمیان مختصر سی پٹی نظر آئے گی اسی پٹی پرپانامہ کی چھوٹی سی ریاست قائم ہے جس کی غالباً واحد وجہ شہرت پانامہ کینال تھی جو بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کے درمیان جہاز رانی کے طویل فاصلے کو کم کرنے کیلئے 1913ء میں بنائی گئی۔ حال ہی میں ہونے والی پانامہ لیکس نے تمام دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ پانامہ سے تعلق رکھنے والے دو وکلاء جوگین موسیک اور ریمن فو نسیکانے مل کر آج سے چالیس برس قبل ’’مولیسک اینڈ فو نسیکا‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ بظاہر اس کمپنی کا مقصد مالیاتی امور میں مشاورت اور تعاون تھا مگرپردے کے پیچھے کمپنی کے قیام کے اصل مقاصد کچھ اورتھے کمپنی کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے ارب پتی افراد کو اپنی دولت ٹیکس سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا اور اس مقصد کے لئے ایسی ’’آف شور‘‘ کمپنیوں کا قیام تھا جہاں دولت ایسے ذرائع سے منتقل کی جائے جس کو ٹریس نہ کیا جاسکے۔ کمپنی اپنے کلائنٹس سے ابتدائی طور پر 15سے 30 لاکھ روپے کا معاوضہ طلب کرتی ہے جبکہ کمپنی کی خدمات مستقل طور پر حاصل ہوجانے کے بعد یہ معاوضہ دس لاکھ روپے سالانہ تک چارج کیا جاتا ہے ۔ فو نسیکاکا مالی امور سے متعلق خدمات کا بیک گراؤنڈ لگ بھگ 40 سال پرانا ہے ۔ پانامہ کیساتھ درجن آئی لینڈ بھی زیر بحث ہیں جسے برطانوی حکومت نے ایک نیم خود مختار حکومت کا درجہ دے رکھا ہے۔ ورجن آئی لینڈ درحقیقت دنیا بھر کے کرپٹ اور ٹیکس چوروں کی جنت ہے ۔ ورجن آئی لینڈ، پانامہ اور ایسے دیگرجزائرمیں مونسیک اینڈ فو نسیکاجیسی سینکڑوں کمپنیاں قائم ہیں۔ ان جزائر پر کسی حکومت کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ بالخصوص معاشی قوانین ایسے ڈیزائن کئے جاتے ہیں جہاں بظاہر سرمایہ کاری کے نام پر اکٹھی کی جانے والی رقم کا کوئی سراغ نہ لگایا جاسکے۔ امریکہ کے ادارے ٹیکس جسٹس کے مطابق صرف امریکی سرمایہ کاروں ، سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات کا تقریباً 32ہزار ارب امریکی ڈالرز ان جزائر میں چھپائے گئے ہیں جو کماتے امریکی سرزمین سے ہیں مگران پر لا گو ہونے والا ٹیکس امریکی معیشت کو ادا نہیں کیا جاتا۔ ادارے کی 2012ء کی رپورٹ کے مطابق اس رقم پر 200ارب ڈالرز ٹیکس سالانہ کے حساب سے واجب الادء ہے ۔ مشہور امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کی 60 بڑی کمپنیوں نے 166 ارب امریکی ڈالرز ان ٹیکس چوروں کی جنت میں چھپا رکھا ہے۔ وال جرنل آف پبلک اکنامکس کے مطابق 60فیصد امریکی کمپنیوں نے اپنا سرمایہ باہر منتقل کرنے کا یہی وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ دنیا بھر میں ہر ملک کو ایک FSI:Financial Secrecy Index جاری کیا جاتا ہے جو اس امرکو ظاہر کرتا ہے کہ وہاں ٹیکس چوری اور کالا دھن سفید بنانے کی شرح نمو کیا ہے۔ اینڈیکس کے مطابق اب تک دنیا بھر میں ایسے 82 جزیرے ہیں جنہیں حقیقت میں ٹیکس چوروں اور دنیا کے بدعنوان ترین افراد کی جنت قراردیا جاسکتاہے۔ اس میں سرفہرست سوئس اکاؤنٹس کے بدولت شہرت پانے والا ملک سوئٹزلینڈ ہے، اسکے بعد لکسمبرگ ، ہانگ کانگ، کیمن آئی لینڈ، سنگاپور، امریکہ ، لبنان، جرمنی اور جاپان ہے۔ برطانیہ بھی لسٹ کا حصہ ہے جس کانمبر21ہے ۔ ان ممالک میں پائے جانی والی دولت کا ذریعہ بطور ثبوت نہیں پوچھا جاتا اور یہ کام موسیک فو نسیکا جیسی کمپنیاں سرانجام دیتی ہیں۔
اب آتے ہیں ان کمپنیوں کے طریقہ واردات کی جانب ! طریقۂ واردات بہت پیچیدہ ، گنجلک اور کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اس ٹویسٹ کے پیچھے کارفرما سائنس ہی ہوتے ہیں کہ کالے دھن کو اس قدر گھمایا پھرایا جائے۔ کہ کڑی سے کڑی آڈٹ تو کیا آڈٹ پراسیسنگ بھی اس رقم کا کھوج نہ لگا سکے ۔ طریقۂ واردات کے ساتھ دنیا بھر کے بددیانت افراد پہلے ملک کے رہائش پذیر ہونے کی سرکاری طور پر اجازت حاصل کرتے ہیں ۔ رہائش کے حصول کے فوراً بعد ان کمپنیوں کا کردار شروع ہوجاتا ہے۔ ان کمپنیوں کے خدمات کے حصول کے بعد کمپنی ملک میں آپ کے کاروبار اور سرما یہ کاری کے سلسلے میں متحرک ہوجاتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی سفارشات کی روشنی میں اپنے ملک کی حکومت کے سامنے آپ کا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ پلان پیش کرتی ہے۔ اگر کلائینٹ کا اپنے ملک میں پہلے سے کاروبار ہو تو اس کی شاخ متعلقہ ملک میں کھولنے کیلئے سفارشات مرتب کرتی ہے۔رجسٹرڈ کروائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان ممالک میں ٹرسٹ اور کمپنیاں بھی بنا کر رجسٹرڈ کروائے جاتے ہیں اُس کے بعد اس شیطانی چکر کا پہیہ گھومنا شروع ہوجاتا ہے۔ دنیا بھر میں آپ کہیں بھی کاروبار کریں۔ کہیں بھی سرمایہ کاری کریں ۔ اُس سے حاصل ہونے والا منافع متعلقہ ملک کے ٹیکس نیٹ سے بچتے بچاتے ہوئے اسی ملک یا جزیرے میں منتقل ہوجائے گا۔ اس چکر کا دوسرا محور یہ ہے کہ آپ کی سرمایہ کاری ٹیکس نیٹ اور بنکنگ سسٹم سے بچ بچاتی ہوئی واپس آپ کے ملک میں داخل ہوتی ہے ۔ آپ کے پہلے سے موجود کاروبار ی منصوبوں میں انویسٹ ہوتی ہے اور حاصل ہونے والا منافع پہلے کی طرح ٹیکس نیٹ اور بیکنگ سسٹم کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہوا واپس آف شور اکاؤنٹس میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ شیطانی چکرجاری رہتا ہے اور اس چکر کی ہر ایک محوری گردش اپنے خوفناک اثرات کو ضرب دیتی چلی جاتی ہے۔ اگر اس کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھا جائے تو آپ اپنے ملک کو ایک جسم سے تشبیہ دیں، سرمایہ کاری کو جسم میں دوڑنے والے خون سے حاصل ہونے والی توانائی سے غذاکا حصول ممکن بنائیں ۔ غذا کا استعمال آپکے بدن کو مزید توانائی مہیا کرے گا جو مزید خون کی پیدائش پر منتج ہوگا، اس کے برعکس اگر ایک دوڑنے والے خون کی توانائی استعمال کریں اور حاصل ہونے والی غذاء اسی بدن کو تقویت پہنچانے کی بجائے سٹور کرکے رکھ لیں تو نتیجہ بدن کی صحت کی تباہی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوگا انٹرنیشنل کنسورشم آف انویسٹیگیٹیو جنرنلسٹ (ICIJ) وہ تنظیم ہے جس نے پانامہ لیکس کا آغاز کیا ICIJ، 65ممالک میں پھیلے ہوئے تقریباً 190صحافیوں پر مشتمل تنظیم ہے جس کی بنیاد 1997میں امریکی صحافی چک لیوز نے رکھی ۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد انویسٹیگیٹیو جنرنلزم کے مطابق اپنی صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دینے کے لئے دنیا بھر کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فار م پر اکٹھا کرنا تھا۔ دنیا میں بڑھتے ہوئے جرائم ، باالخصوص معاشی جرائم، کرپشن اور بااثرافراد کا دولت کے بل بوتے پر اپنے ملکوں میں کمزور طبقے کے استحصال کو روکنا تھا ۔ اس مقصد کے لئے دُنیا بھر کے صحافیوں کے ایسے اتحاد کی ضرورت تھی جو ایک یونٹ بن کر ان جرائم کے خلاف کام کرے اور ایک دوسرے سے اہم معلومات کا تبادلہ یقینی بنائے۔ اس مقصد میں حائل دیگر رکاوٹوں میں ایک بڑی رکاوٹ مالی مشکلات تھیں ۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ دنیا بھر میں کام کرنے والے مختلف ممالک کے میڈیا گروپس نہ تو دوسر ے ممالک میں بیورو آفس کھولنے کا خطرہ مول لیتے ہیں اور نہ ہی کسی عالمی سکینڈل پر کام کرنے والی کسی صحافی کے سفر اخراجات برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے قیام کے چند برس بعد ہی اپنے کام کے وسیع تر سپیکٹرم کے باعث یہ تنظیم روایتی صحافت کرنے والے میڈیا گروپس پر سبقت حاصل کرنے لگی اس تنظیم میں دنیا بھر سے انویسٹی گیشن جرنلزم سے وابستہ بہترین صحافی چُنے جاتے ہیں جنکے سفری اخراجات ICIJ برداشت کرتی ہے یہ صحافی آنکھیں اور کان بن کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ پاکستان سے عمر چیمہ ا س کنسوریشم کا حصہ ہیں جنہوں نے پانامہ لیکس میں پاکستانی شخصیات کے حوالے سے تحقیقاتی کام کیا ۔ پانامہ لیکس لگ بھگ ایک برس پرانی ہیں۔منظر عام پر آنے سے قبل مالیاتی بدعنوانیوں میں ملوث عناصر کو اپنے ذرائع کی بابت معلوم ہوچکا تھا ۔ کہ کچھ بڑا ، کچھ اہم بریک ہونے جارہا ہے ۔ جس کی شدت دنیا بھر میں محسوس کی جائے گی اور ا س سکینڈل کو روایتی ہتھکنڈوں سے روکنا اُن کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ نواز شریف صاحب کے صاحبزادے کے جاوید چوہدری کے پروگرام میں اپنی آف شو ر کمپنیوں کے حوالے سے کئے گئے انکشافات بھی اسی ’’حفظِ ماتقدم‘‘ کا حصہ تھے جسکی حدت اُن کو آنے والے وقت کے حوالے سے محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی۔ حالانکہ اُس سے قبل جیو نیوز کے شو ’’لیکن‘‘ ثنا ء بُچہ کے پروگرام میں مریم نواز اپنی اور اپنی خاندان کی ملکیت کے حوالے سے مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی رہیں کہ انکی یا اُن کے خاندان کے کسی فرد کا کوئی آف شور کمپنی یا اکاؤنٹ موجود نہیں ہے۔ نہ ہی ملک کے اندر اُن کی کسی قسم کی کوئی پراپرٹی موجود ہے۔ مستہزادیہ کہ وہ شادی شدہ ہونے کے باؤدجود اپنے والد گرامی کے گھر میں رہائش پذیر ہیں کہ صفدر صاحب اُنکا خرچہ اٹھانے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ پانامہ لیکس کی کہانی خاصی فلمی اور ڈرامائی پہلورکھتی ہے۔موسیک اینڈ فونسیکا کا ڈیٹا ایک مین سرور سے چرایا گیا۔ کمپنی کے مالی معاملات کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دنیا کے بہترین پروٹوکولز استعمال کئے گئے تھے۔ تاکہ معلومات تک ماسوائے چند سرکردہ افراد کے کسی بھی رسائی کو ناممکن بنایا جاسکے۔ مبینہ طور پر کمپنی کے ایک سابقہ ملازم نے جرمنی کے سب سے بڑے اخبار ’’سڈوئچے‘‘ سے رابطہ کیا اور اخبار کو موسیک اینڈ فونسیکا میں موجود انتہائی حساس نوعیت کی حامل خفیہ دستایزات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اخبار کے مطابق بدلے میں کسی مالی معاونت یا معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ سیکورٹی سے متعلق یقین دہانی کرانے کی درخواست کی گئی۔ اخبار کی جانب سے یقین دہانی کو ممکن بنانے کے بعد نامعلو م ذریعے سے معلومات کی ترسیل کا عمل شروع ہوا اور چندروز میں اس ڈیٹا کا حجم 206ٹیر ابائٹ تک جاپہنچا۔ اخبارنے اس تما م ڈیٹا کی حقیقت جانچنے کیلئے ICIJسے مدد لینے کا فیصلہ کیا ICIJ کی رضامندی سے دنیا بھرمیں کنسورشم سے ملحق صحافیوں نے اپنے اپنے ملک میں موجود سیکنڈ لز پر خفیہ طریقے سے کام کرنا شروع کیا ۔ معلومات کا انتہائی تفصیلی مگر انتہائی رازداری سے جائزہ لیا گیا اور تحقیق کے ہر مرحلے میں اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ کسی ایک ڈاکومنٹ میں بھی کوئی ایسا قانونی سقم نہ رہ جائے ۔ جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملزم عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرسکے ۔ یاد رہے کہ ICIJاس سے قبل بھی سڈوئچے اخبار کے ساتھ آفس شور لیکس، لکس لیکس اور سوئس لیکس پر کام کرچکا تھا ۔ ان پیپرز کی تحقیقات میں ایک سال کے دوران تقریباً 400 کے قریب صحافیوں نے حصہ لیا جنکا تعلق 100 مختلف میڈیا تنظمیوں سے ہے جو 80 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں BBC، برطانیوی اخبار ’’گارڈین‘‘ فرانسیسی اخبار ’’لاموند‘‘ اور ارجنٹائن کے اخبار’’لانسیون‘‘ شامل ہیں۔ زیرِ تفتیش فائلز یا کیسز کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب قریب ہے۔ بدعنوان افراد کی فہرست انتہائی طویل مگر انتہائی چشم کشا ہے۔ فہرست میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سابقہ اور موجودہ حکمران ، سربراہِ مملکت ، سیاستدان، بزنس مین، سماجی شخصیات ، سابقہ اور حاضر سروس بیورکریٹس ، جج صاحبان ، نامورا فراد ، کھلاڑی اور فلمی دُنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ فائلز میں روسی صدر ولادمیرپیوٹن کے قریبی رفقاء ، چینی صدر کے بہنوئی، شامی صدر کے فرسٹ کزن، یوکرین کے صدر، آئس لینڈ کی صدارتی کابینہ کے سرکردہ افراد ، ارجنٹائن کے صدر، برطانوی صدر ڈیوڈ کیمرون کے والد اور نواز شریف کے چار میں سے تین بچوں کا ذکر ہے۔
لیکس کے باوجود موسیک اینڈ فونسیکا اسی امر پر مصر ہے کہ آف شور کمپنیاں قانونی ہوتی ہیں اور ان میں رکھی جانے والی دولت بدعنوانی اور کرپشن کا پیسہ نہیں بلکہ انویسٹمنٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کمپنیوں کو باقاعدہ حکومت کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ کروایا جاتا ہے اور اس سارے عمل کی دستاویزی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ تمام کمپنیاں شیل یعنی کھوکھلی ہوتی ہیں۔ یہ برائے نام سرمایہ کاری کرتی ہیں بلکہ انکا تمام تر ارتکاز جائیدادیں خریدنے اور دیگر اشکال میں اثاثہ جات کا حصول ہوتاہے۔ ٹیکس چوری اور منی لانڈری کی فنکاری کی انتہا یہ ہے کہ کمپنی اپنے ملک یا Beneficiary کا نام تک بتانے کی مجاز نہیں اور اپنے نام پر جائیداد خرید سکتی ہے۔ جس کا فائدہ خفیہ طور پرBeneficiaryکوسامنے آئے بنا منتقل ہوتا رہتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں وزیر اعظم کے تین بچوں کے تام بدعنوان افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے سے چند ہفتے قبل حسین نواز یہ اعتراف کرچکے تھے کہ وہ اور انکی بہن مریم نواز آف شور کمپنیوں اور ان کمپنیوں کے نام پر خریدی جانے والی جائیداد کے براہ راست Beneficiary ہیں۔ اس جائیداد میں سرفہرست لندن کے انتہائی پوش علاقے مے فیئر (Mayfair) میں خریدے جانے والے اپارٹمنٹس ہیں جنکی ملکیت کے حوالے سے اس سے قبل بھی شریف فیملی اپنے کئی متضاد بیانات دے چکی ہے ۔ وزیراعظم صاحب کے صاحبزادے یہ فرماتے ہیں کہ 2006ء میں سعودی عرب میں اپنی سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے اپارٹمنٹس خریدے گئے۔ یہ خرید براہ راست نہیں ہوئی بلکہ ا س کے لئے دو آف شور کمپنیاں نیلسن انٹر پرائز اور نیسکول انٹر پرائز خریدی گئی جس کے نام لندن میں جائیداد خریدی گئی۔ برطانوی ذرائع کے مطابق یہ ملکیت 2006 میں نہیں بلکہ 1995 میں عمل لائی گئی ۔ شریف فیملی کے مطابق 2006 میں حاصل کی گئی حدبیہ پیپرز ملز نادہندگان کیس میں برطانوی ہائی کورٹ 1999 کے اپنے فیصلوں میں یہ ظاہر کیا تھا کہ شریف فیملی نے ا ن فلیٹس کوالتوفیق انویسٹمنٹ فنڈ کے پاس گروی رکھ کر کاروبار کیلئے قرضہ حاصل کیا تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شریف فیملی کے دعوؤں کے برعکس یہ جائیداد 2006سے بہت عرصہ قبل سے ہی شریف خاندان کی ملکیت چلی آرہی ہے۔ شریف خاندان کے دعوؤں کے مطابق اگر یہ جائیداد 2006ء میں خریدی گئی تھی تو اس کو 1995ء میں اپنی خرید سے قبل گروی رکھ کر قرضہ کیسے حاصل کیا گیاتھا۔ اس سے حکمران خاندان کے متضاد بیانات کی بوکھلاہٹ سامنے دکھائی دیتی ہے۔ اس مضحکہ خیز بیان کو مزید تڑکا اس وقت لگتا ہے جب بیگم کلثوم نواز ان فلیٹس کی خرید کا معاملہ سرے سے مسترد کردیتی ہیں اور برطانوی اخبار کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں جو کہ 2000 میں ریکارڈ کیا گیا تھا اس جائیداد کو کرائے پر حاصل کردہ بتاتی ہیں۔ حسین نواز کے ایک حالیہ انٹرویو میں اس جائیداد کو اپنی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے مریم نواز کو صرف ٹرسٹی ((Trustee قرار دیا تھا جبکہ پانامہ لیکس کو دستاویزات کے مطابق مریم نواز دونوں آف شور کمپنیوں نیلسن انٹر پرائز اور نیسکو انٹرپرائز کے مالک (Owner Beneficial) ہیں۔
پاکستا ن میں پانانہ لیکس کے تناظر میں ایک ہنگامہ بپا ہے۔ میڈیا سے لیکر اقتدار کے ایوانوں تک شور بپا ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی بولی بولنے میں مصروف ہے۔ حالات سنجیدگی کی بجائے مضحکہ خیز ی کی جانب گامزن ہیں۔ نامزد ملزمان یعنی حکمران طبقہ اپنی ٹی او آرز(TOR’s) پر تحقیقات کرانے پر مصر ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے توپوں کا رُخ اپنی جانب دیکھ کر ملک سے باہر جانے میں ہی عافیت جانی۔ شریف فیملی اپنے اوپر عائد الزامات کا دفاع کرنے کے لئے پرویز رشید وں اور دانیال عزیزوں جیسی نابغۂ روزگار ہستیوں سے مدد لے رہی ہے۔ جنکی دفاع حکمتِ عملی کا محور و مرکز محض تحریک انصاف، عمران اور انکے قریبی رفقاء یا شوکت خانم ہسپتال میں سے کیڑے نکلنا ہے تاکہ اس Smoke screenکا فائدہ اٹھا کہ ابہام پیدا کیا جاسکے۔ میڈیا کو پانامہ سے شدید نوعیت کا کوئی نیا سکینڈل سامنے آگیا تو آنے والے وقت میں یہ سکینڈل وقت کی دیمک کا شکار ہوکر عوام و خواص کے ذہن و قلوب سے قصۂ پارینہ بن کر محو ہوجائیگا۔
رہا سوال وزیراعظم کی سرکردگی میں قائم کردہ انکوائری کمیشن کا تواپنے قوم سے خطاب کے دوران تحقیقات کا دائرہ تاحدِ نظر و سیع کردیا گیا ہے اور ہمارے وزیراعظم قیام پاکستان کے وقت سے احتساب کے عمل سے شروع کرنے کے متمنی ہیں جس کی تحقیقات کا عمل مکمل ہوتے ہوئے اگر ہمارے موجودہ قانونی ڈھانچے کی انصاف فراہم کرنے کی رفتار کو ذہن میں رکھ کر اندازہ لگایا جائے تو ان تحقیقات کا نتیجہ آتے آتے مزید 800سے 300 سال لگیں گے تب تک پانامہ کی ریاست بھی غالباً دنیا کے نقشے سے مٹ چکی ہوگی۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کا اس قوم کو انتظار ہے اس بات سے قطع نظر کہ ملک کو دولخت ہوئے کتنا عرصہ گزرا۔ اگر اس تمام قضیے کا باقاعدہ فرانزک آڈٹ نہ کروایا گیا اور شفاف اور بے رحم احتساب کو طے کردہ وقت کے اندر ممکن نہ بنایا گیا تو کسی بھی انصاف کی تو قع رکھنا احمقو ں کی جنت میں مزید کچھ اور صدیاں قیام و طعام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں!


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق