ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد….آرمی چیف کی خدمت میں اپیل

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……

Advertisements

ملاکنڈ ڈویژن کو دہشت گردوں سے صاف کئے ہو ئے بمشکل 5 سال گزرے ہیں ۔اب ملاکنڈ ڈویژن کے پہا ڑی اضلاع میں بد انتظامی کی وجہ سے بے چینی پھیل رہی ہے ۔افغان سرحد سے ملحق اضلاع کے لو گ حساس سر حدی مقامات پر وفا قی اور صوبائی حکو متوں کے خلاف جلسے جلوس کر کے ملک چھوڑ کر افغا نستان جا نے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔بر اول دیر ،ارندو چترال اور بر و غیل چترال سے اس طر ح کی بری خبر یں اخبارات میں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں ۔بر اول اور ارندو کے راستے بھارت نے دو سے زیادہ بار پا کستان کے سرحدی اضلاع کی آبا دی پر زمینی حملہ کیا ہے ۔ سول کپڑوں میں بھارتی حملہ آوروں نے ہماری سیکو رٹی ایجنسیوں کو بھی نشا نہ بنا یا ہے ۔ہما رے بے گنا ہ شہر یوں کو بھی نشا نہ بنا یا ہے ۔حساس سرحدی اضلاع میں بے چینی سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ وفا قی اور صوبا ئی حکو متیں حساس مقا مات پر عوام کا اعتماد حا صل کر نے اور عوام کو اعتماد کے قابل انتظامی مشینری فراہم کر نے میں بر ی طر ح نا کام ہو چکی ہیں ۔سول انتظامیہ ،صوبائی اور ضلعی حکو مت پر عوام کا اعتماد نہیں رہا اس لئے عوام کھلم کھلا وطن چھو ڑے کا الٹی میٹم د ے رہے ہیں اور اس طرح کے الٹی میٹم دینے والے عام لو گ نہیں ہیں ۔ان میں سیاسی جما عتوں کے اکا بر ین ، ضلع کو نسل کے سا بقہ اور مو جود ممبران بھی شا مل ہیں ۔ان کو صوبا ئی اسمبلی اور قو می اسمبلی کے ممبروں کی حما یت بھی حا صل ہے ۔کیو نکہ منتخب اراکین اسمبلی بھی سول انتظامیہ، وفا قی اور صو بائی حکو متوں کے طرز عمل سے ما یوس ہو چکے ہیں ۔چترال اور براول با نڈہ میں عوام کو تین طرح کے مسا ئل کا سا منا ہے ۔ 2012 اور 2015 کے سیلابوں سے وا ٹر سپلا ئی سکیموں ،آب پا شی کی نہروں اور سڑکوں ،پلو ں ،حفا ظتی پشتوں کو جو نقصان پہنچا تھا ۔وہ نقصان جو ں کا توہے۔وفاقی حکو مت نے ایک پا ئی نہیں دی ۔صوبا ئی حکو مت نے ایک پا ئی نہیں دی۔ فنڈ نہیں ہیں ۔منصوبے نہیں ہیں ۔بلد یاتی انتخابات کو پو را سال گزر نے والا ہے ۔بلد یاتی نما ئندوں کو اختیا رات اور فنڈ نہیں ملے ۔زمین پر دو پیسے کا منصوبہ اب تک نہیں آیا ۔چترال ٹاؤن کی آبادی ایک لاکھ 10ہزار ہے ۔ضلع کو نسل اور تحصیل کو نسل کے تین تین حلقے ہیں ۔جشن بہا ران کے کھیلوں کا میلہ لگا ہوا ہے ۔با ہر سے 50 ہزار سیاح اور دوسرے لو گ ٹا ون آرہے ہیں ۔ٹاؤ ن کے نصف حصے میں پینے کا پا نی نہیں ہے ۔دریا کی طغیا نی کے دوران بقیہ نصف حصے کا پا نی بھی کٹ جا ئے گا ۔ ٹاون پچھلے سا ل بھی کر بلا کا منظر پیش کر تا تھا ۔لو گ ٹینکو ں اور دیگر ذرائع سے پا نی لا تے تھے ۔اب بھی وہی صورت حال ہے ۔واٹر سپلا ئی کے بڑے منصوبے کی نصف لا ئن کٹ گئی ہے ۔بقیہ نصف ایک ہفتے میں دریا برد ہو نے والی ہے ۔ٹاؤن کے اندر 6000 کنا ل زمین پر گندم کی فصل لگی ہے ۔4بڑی نہریں جو لائی 2015 میں دریا برد ہو چکی ہیں ۔اب تک بحال نہیں ہو ئیں ۔گندم کی سا ری فصل پا نی نہ ملنے کی وجہ سے بر باد ہو چکی ہے ۔اب بھی نہروں کی بحالی کے لئے ایک پا ئی نہیں ملی ۔دور دراز دیہات کے لو گ ضلعی ہیڈ کو اٹر سے 120 کلو میٹر یا 400کلومیٹر کے فا صلے پر وا قع نہروں اور آب پا شی کی سکیموں کی تبا ہی کا رو نا رو تے تھے۔ضلعی حکو مت اور تحصیل میو نسپل ایڈ منسٹریشن نے جشن بہا راں ٹو رنمنٹ میں شرکت کے لئے ان کو ضلعی ہیڈ کو ارٹر بلا یاتو بڑے ٹا ؤن اور سا بق ریاستی پا یہ تخت کی حا لت دیکھ کر حیران ہو گئے ۔جہان ڈپٹی کمشنر رہتا ہے ۔جہا ں سپرٹنڈنٹ آف پو لیس رہتا ہے۔ جہاں چترال سکاؤٹس کا کمانڈنٹ رہتا ہے۔ جہاں دو ایم پی اے صا حبان کے گھر واقع ہیں ۔جہاں ایم این اے کا گھر ہے ۔جہاں ضلع ناظم کا گھر ہے۔ جہا ں تحصیل نا ظم کا گھر ہے ۔اگر ایسے ٹاون میں پینے کا پا نی دستیاب نہیں ۔آب پاشی کا پا نی دستیاب نہیںٍ ۔ نا لہ چترال پر با زار کے دو اطراف کو ملا نے والے دو پیدل پل گز شتہ 11 مہینوں میں نہ بن سکے ۔سکولوں کے بچوں اور بچیوں کو آنے جانے کا راستہ نہیں مل رہا ہے تو پھر ضلعی ہیڈ کوارٹر سے 120کلومیٹر دور یا 400کلو میٹر دور افغانستان کی سرحد پر واقع گاؤں میں سیلاب یا زلزلہ سے ہونے والی تباہی کی خبر کون لے سکتا ہے ۔غریبوں کی دلجوئی کون کرسکتا ہے۔ ریشن کا بجلی گھر جولائی سیلاب میں تباہ ہوا ہے۔ نئی مشینری 3مہنیوں میں آسکتی ہے۔ 10مہنیوں کے بعد بھی نہیں آتی ۔ چترال ٹاون کے بجلی گھر کو 2015 ء میں ٹاؤن کے عوام نے سیلاب سے بچایا تھا ۔10مہنیوں میں حکومت نے حفاظتی پشتے تعمیر نہیں کئے۔ اگلے ماہ تک یہ بجلی گھر بھی دریا برباد ہونے والا ہے۔ 4میگاوٹ کا بجلی گھر ضائع ہونے بعد 600کے وی کا بجلی گھر بھی تلف ہونے والا ہے اور یہ سیاسی قیادت کے ساتھ سول انتظامیہ کی بھی ناکامی ہے۔ حساس سرحدی اضلاع میں عوام کی مشکلات اور عوامی مسائل سے پہلوتہی کا خمیازہ سال ،ڈیڑھ سال بعد پاک فوج کو بھگتنا پڑتی ہے ۔ عوامی محرومیاں آخری مرحلے میں آکر پاک فوج کے گلے پڑجاتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اُمید اُٹھ چکی ہے ضلعی حکومت کسی حساب میں نہیں ہے ۔ایم این اے ، ایم پی اے اور عوامی نمائیندوں کی آواز سُنی نہیں جاتی ہے:
بات اپنی واں تک پہنچتی نہیں
عالی رتبہ ہے جناب بہت
اس لئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خدمت میں التجا ہے کہ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے سیلاب میں بھی آپ نے چترال کا دورہ کرکے راستے کھولنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت بھی پاک آرمی ،کور کمانڈر اور جی اوسی چترال کے حساس معاملات کی طرف توجہ دیں تو عوام کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں ۔ سیاسی قیادت سے کوئی امید نہیں ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہو جائنگے ہم تم کو خبر ہونے تک

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى