fbpx

صدا بصحرا……جان کیری کا سعودی مشن

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ….

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے حج سیزن میں سعودی عرب کاخصوصی دورہ کر کے ایران اورشام کے حاجیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کی سعودی پالیسی کی پر جوش تائید کی ہے اور شام پر امریکی قبضے کے لئے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کا شکر یہ ادا کیا ہے ۔حج سیزن کے آغاذ پر جان کیری کا دورہ سعودی عرب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امریکہ کی ڈیموکر یٹک پارٹی اپنے اقتدار کے آخری سال مسلمان ملکوں کے خلاف سفارتی محاذوں پربھرپور وار کرنا چاہتی ہے اور اسرائیل کے تحفظ ،صیہونی ریاست کے استحکام کے ساتھ امریکہ کے اندرصیہونی لابی کی حمایت میں اضافہ کر نا چاہتی ہے اور یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی صیہونی ریاست کے مفادات کو تحفظ دینے میں ریپبلکن پارٹی سے دو قدم آگے ہے۔ سعودی عرب نے ہجری سال1437 میں ایران اور شام کے زائر ین کو حج کے لئے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے اس سلسلے میں ایران اور شامی سفارت کاروں کی کوشش ناکام ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے کسی ملک کے حاجیوں کو حج کا ویزا دینے سے با قاعدہ انکار کیا ہے اور اس کو امریکہ کی بڑی کا میابی تصور کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت کو اس سلسلے میں امر یکہ ، اسرائیل ،خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیم 1970کے عشرے میں شاہ فیصل شہید اور بھٹو شہید کے وژن کی روشنی میں اسرائیل کے خلاف فعال کردار ادا کر رہی تھی۔80 19 ء کے عشرے میں اوآئی سی کو افغانستان پر امر یکی حملے کے لئے استعمال کیا گیا ۔1990ء میں اوآئی سی نے عراق اور کویت پر امریکی قبضے کی جنگ کے لئے میدان ہموار کیا۔اس کے بعد یہ تنظیم اپنی موت آپ مر گئی۔اب اوآئی سی کے سیکر ٹر یٹ میں اسرائیل کے دفتر خارجہ کا ڈیسک قا ئم ہوا ہے جو انڈر گراونڈ ر اسرائیلی مفاد ات کے لئے کام کر رہا ہے۔ اب تک سیاسی سفارتی ، معاشی اور دفا عی مسائل پر اختلافات ہو ا کر تے تھے ۔ان اختلافات میں سعودی عرب کا وزن ہمیشہ امر یکہ اور اسرائیل کے پلڑے میں ہوتا تھا ۔لیبیا کے معمر قذافی ، عراق کے صدام حسین ، لبنان کے رفیق حریری، مصر کے محمد مر سی اور دیگر لیڈروں کو اس پر تحفظات تھے۔ ایران کی قیادت اس پر اعتراض کر تی تھی۔ اس جھگڑے میں حج کے ویزے کو کبھی متنازعہ نہیں بتا یا گیا تھا ۔1437 ھجری کا سال اس سلسلے میں پہلا سال ہے جب امریکہ اور اسرئیل کو حج پر اختلافات پیدا کر نے کا موقع ملا ہے اور سعودی عرب نے حج کا ویزا جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ اسلامی ملکوں کے اجتماعی مفادات ، اسرائیل کے خلاف عا لم اسلا م کے موقف اور فلسطینیوں کے حقوق کی جدوجہد میں اسلامی ممالک کی نپی تلی رائے کو سبوتاژ کرنے کی بہت بڑی سازش ہے۔ سعودی عرب کی حکومت یا اس سازش کا حصہ ہے یا نہ چاہتے ہوئے سازش کے اس خطرناک جا ل میں پھنس گئی ہے۔ یہ پرانی باتیں دہرانے کا وقت نہیں ہے۔ آگے کی طرف دیکھنے کا وقت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ واضح ہے اُن کے منصوبوں میں اگلے 20سالوں کے اندر اسرائیل کی سرحدوں کو خلیج فا رس تک تو سیع دینا اولین تر جیح کی حیثیت رکھتا ہے۔ ،مصر ،یمن ،شام اورلیبیا میں امر یکیوں کی غیر معمولی دلچسپی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہے اور لطف کی با ت یہ ہے کہ امریکہ کی دو بڑی پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں اس منصوبے پر متفق ہیں۔ ایک سو ایک مسائل پر دونوں کے شدید اختلاف ہیں، اس مسئلے پر کوئی ختلاف نہیں ۔ڈونلڈٹرمپ آیا تب بھی اس پر بھر پور توجہ دی جائیگی ۔ ہیلری آئی تب بھی اس کو امریکہ کی پھر پور تا ئید حاصل ہو گی ۔ اس کے مقابلے میں فلسطینیوں کا دوست کون ہے؟ مسلمانوں کا دوست کون ہے؟ شام ، ایران،چین اور روس۔ یہ چار ممالک ہیں جو امریکہ کے مقابلے میں فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔چین کے ساتھ امریکہ کے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ اگر چین اپنا ہاتھ کھینچ لے تو مریکی معیشت کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ روس نے امریکہ کو دفاعی میدان میں نیزے کی نوک پر رکھا ہواہے امریکہ نے ویت نام کا بدلہ افغانستان میں لے لیا روس اب افغانستان کا بدلہ شام میں لینا چاہتا ہے اور شام کو امریکہ کے لئے دوسرا ویت نام بنانا چاہتا ہے ۔اس وقت مسلمان ممالک دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں۔ دنیا کی کل دولت کا ایک چو تھائی مسلمانوں کے پاس ہے ۔دنیا کے قدرتی وسائل میں سب سے اہم وسیلہ تیل مسلمانوں کے پاس ہے لیکن دنیا کے مسلمان ممالک کی غالب اکثریت سعودی عرب کی طرح ہے جہاں تعلیم کی جگہ جہالت کا ڈیراہے۔ اس جہالت کی وجہ سے مستقبل پر اسلامی ممالک کی نظر نہیں ہیں۔ وہ ماضی میں جی رہے ہیں اور ماضی کی فضول بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسی بحثوں میں ان کو الجھایا گیا ہے جنکا مسلمانوں کے عقائد اور دنیا وآخرت کی کامیابی سے کوئی تعلق نہیں۔1437ہجری کا حج سیزن امریکہ اور اسرائیل کے لئے بڑی کامیابی کی نوید لیکر آیا ہے ۔ جان کیری اور باراک اوبامہ کے ساتھ ساتھ بینجمن نیتن یاہو بھی اس پر فخر کر رہے ہیں کہ سعودی عرب نے ایران اور شام کے حاجیوں کو ویزا جا ری کرنے سے انکار کرکے جر اتمندانہ قدم اٹھایا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی یہ بڑی کامیابی ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق