fbpx

صدا بصحرا……کمپیو ٹرآپریٹروں کا تیسر ادھر نا

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……..
” دھر نا” جماعت اسلا می نے متعا رف کر ایا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکو مت کے خلاف قاضی حسین احمد نے راولپنڈی سے اسلام آباد تک مارچ کر کے دھر نا دیا۔ مو جو دہ وزیر اعظم میا ں محمد نواز شریف کے خلاف طاہر القادری ،شیخ رشید اور عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دے کر احتجاج کے اس طریقے کو مذید مقبول بنایا۔ اب انصاف کی تلاش میں نکلنے والے پا کستان تحریک انصاف کے خلاف کبھی پشاور کبھی مردان ،کبھی سوات، اور کبھی بنی گا لہ میں دھر نا دیتے ہیں۔میں نے سول سیکریٹریٹ پشاور کے سا منے کمپیو ٹر آپریٹروں کو تیسر ی بار دھر نا دیتے ہو ئے دیکھا تو ان کے قریب گیا۔حال احوال پو چھا ۔ ان کے بینرز بڑے دلچسپ ہیں۔ اس بینر پر سوالیہ جملہ لکھا ہے۔ تحریک انصاف کی حکو مت کب انصاف کرے گی؟ میں نے بے سا ختہ کہا “کبھی نہیں ” انصاف ہما رے نام میں ہے، منشور میں نہیں۔ ایک بینر پر لکھا ہے ون سٹیپ پرو موشن سے کمپیو ٹر آپر یٹر کیوں محروم ہے ؟میں نے کہا یہ خیبر پختو نخوا ہے یہا ں پتھر کے زمانے کی بات کرو ۔کمپیو ٹر، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی کا نام نہ لو۔ ایک اوربینر ہے” کمپیو ٹر آپریٹر کو سکیل 16دیدو” میں نے کہا شکر کرو خیبر پختو نحوا کی حکو مت نے کمپیو ٹر سمیت تمہیں دفتر سے باہر نہیں پھینکا۔ پورے صوبے میں کمپیوٹر آپریٹروں کا احتجاج اور دھر نا جاری ہے ۔ ڈی آئی خان، ابیٹ آباد ، صوابی ، نو شہرہ اور مر دان سے احتجاج اور دھر نے کی خبر یں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دھو م مچی ہو ئی ہے۔ فیس بک اور ٹو ئٹر پر عمران خان ،اسد عمر ،جہا نگیر ترین، پر ویز خٹک اور صوبا ئی وزیر خزانہ مظفر سید کے نام پر طرح طرح کی اپیلیں پوسٹ کی جارہی ہیں۔ ایک پوسٹ میں عمران خان کو یاد دلایا گیا ہے کہ آپ کو خیبر پختونخوا کا اقتدار ٹیکنالو جی ، کمپیو ٹر ، فیس بک اورٹوئیٹرکے زور پر ملا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے کمپیوٹر آپریٹر کو عربک ٹیچر ،ڈرل ماسڑاور ڈرائنگ ماسٹر کے برابر ترقی دینے سے کیوں انکار کیا ہے ؟ میں نے کہا عمران خان نے کب انکار کیا ہے۔ کمپیو ٹر آپریٹر وں کے صدر نے سپریم کو رٹ اور ہائی کورٹ کے دو فیصلے میرے سا منے رکھے اور کہا ان فیصلوں کو صوبائی حکومت نے ویٹو کر دیا ۔ میں نے کہا پھر سپریم کورٹ جاؤ ، تو ہین عدالت کا کیس لے آؤ ۔ دھرنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ ایک کمپیو ٹر آپر یٹر نے کہا ہمارے قائد عمران خان نے کہا ہے سب کچھ دھرنے سے ہو گا ۔ اب ہم بنی گالہ جا کر دھر نا دینگے ۔ میں نے کہا اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں ہے۔ کمپیو ٹر آپر یٹر وں کے ایک لیڈر نے کہا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ حکو مت نے میٹرک پاس ، ایف اے فیل ملازمین کو سکیل 16دید یا ہے۔ کمپیو ٹر آپر یٹر کی پوسٹ کے لئے اشتہا ر میں دی گئی کم سے کم قابلیت بی اے ، بی ایس سی کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنا لو جی میں ڈپلومہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے کمپیو ٹر آپر یٹروں میں 70فیصد بی سی ایس ، ایم سی ایس کر چکے ہیں۔ ماسٹر ز ڈگری ہولڈر ہیں ۔پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں کمپیو ٹر آپر یٹر کی تقرری گریڈ 16میں ہوتی ہے۔ خیبر پختو نخوا میں اس کو سکیل 12دیا گیا تھا اور وعدہ کیا گیا تھا کہ بہت جلد سکیل کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔مگرانصاف والوں کی حکومت چلی گئی ۔ انصاف کے نام پر نئی حکومت آئی اور نئی حکومت نے کمپیو ٹر کو فضول مشین قرار دیا ۔ کمپیو ٹر آپریٹر کو سکیل 16دینے سے انکار کیا ۔ میں نے پو چھا کتنا عرصہ ہوا ؟ دھرنے والوں نے بتا یا کہ اکرم خان درانی کی حکومت میں کمپیوٹر ٹیکنالو جی کو دفتروں میں متعارف کردیا گیا۔ اس شعبے کو الگ محکمہ دے د یا گیا ۔ سوات کے ایم پی اے حسین احمد اس کے وزیر بنے ۔ امیر حیدر خان ہوتی کے دور میں کمپیوٹر آپریٹروں کے سروس سٹر کچر کی تجویز پر کام شروع ہوا۔ اگر ان کی حکو مت ایک سال اور رہتی تو کمپیو ٹر آپریٹر وں کو سب سے پہلے سکیل 16 مل جا تا ۔ مگر ان کے جانے کے بعد نئی حکومت نے کمپیو ٹر آپریٹر وں کو سکیل 16دینے سے انکار کیا۔ چنانچہ صوبے کے کمپیوٹر آپریٹر3سالوں میں تیسری بار احتجاج ،ہڑ تال اور دھر نے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔کمپیو ٹر آپر یٹروں نے گورنر ظفر اقبال جھگڑااور کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے سو موٹو ایکشن لے کر تو ہین عدالت کا حساب چکانے کی در خواست کی ہے۔ کمپیوٹر آپر یٹر دفتر کا وہ عملہ ہے جو اپنے افسر سے پڑھا لکھا ہے ۔دوسرے کیڈروں کی ترقی کے سارے احکامات کمپیوٹر آپر یٹر کی میز پر آتے ہیں۔ اُس کی میز پر کام آگے بڑھتا ہے اور اس کی میز پر اُس کے ہاتھ سے احکامات جاری ہوتے ہیں۔3سالوں سے وہ اس انتظار میں ہیں کہ کب اُس کی میز پر اُس کی اپنی ترقی کا حکمنا مہ آئے گا ؟ میں نے کہا موجودہ حکومت کے جانے کی دعا ئیں مانگو ۔کمپیوٹر آپر یٹر نے کہا اس حکومت کو لانے میں ہمارا خون پسینہ ایک ہوا ہے ۔ میں نے کہا تم نے مزا چکھ لیاہے ۔اب اس حکومت کے جا نے کی دعائیں مانگو ۔اس کے ہوتے ہوئے کمپیو ٹر آپریٹر کو پنجاب ، سند ھ اور بلوچستان کی طرح سکیل ۔16نہیں ملے گا ۔ اگر یہ حکو مت رہی تو سپریم کورٹ کا حکم بھی رائیگاں جائے گا۔ تمہارا دھر نا اور احتجاج بھی رائیگاں جائے گا ۔اس حکو مت میں بات سننے ،درخواست پڑھنے اور فریاد پر غور کرنے کا کلچر نہیں ہے ۔قانونی حوالے بے سود ہیں۔عدالتی فیصلے بے کار ہیں اور دلائل کے انبار بے معنی ہیں۔ اگر تمہیں انصاف چائیے تو انصاف والوں کے جانے کا انتظار کرو۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق