ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا…..جے آئی یوتھ اور کرپشن

………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..

Advertisements

کرپشن کے خلاف اس وقت جو باتیں ہو رہی ہیں ان میں جے آئی یوتھ کی آواز ایک توانا آواز ہے ۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کرپشن کے خلاف مہم میں کراچی اور کوئٹہ سے لے کر خیبر اور باجوڑ تک کرپشن کے خلاف تقریروں کے ذریعے محفل کو گرما یا ہے۔ تاہم 29مئی 2016ء چترال میں جے آئی یوتھ کے جلسے میں اعلان کیا کہ ملک کو کرپشن کی لعنت سے پاک کرنے کی مہم کا آغاز وہ چترال سے کر رہے ہیں۔ اگلے روز اسلام آباد میں ملک سے جے آئی یوتھ کے کارکنوں کا کنونشن تھا اور سراج الحق کو اسلام آباد پہنچنے کی جلدی تھی۔ جے آئی یوتھ کے جلسے میں 20ہزار کا مجمع تھا۔ چترال کے وسیع و عریض پولو گراؤنڈ کو جھنڈیوں اور بینروں سے سجایا گیا ۔ چناروں کے سامنے تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد نے اپنی تقریروں میں کرپشن کے خلاف مہم میں عوامی حمایت کی اپیل کی۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کا اولین مسئلہ کرپشن ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے اور بد ترین دہشت گردی ہے۔ جس طرح دہشت گرد گولی سے بے گناہ انسان کا قتل کرتا ہے۔ اس طرح کرپشن کرنے والا بے گناہ انسانوں کو بھوک ، بے روز گاری اور ناانصافی سے قتل کرتا ہے۔ انصاف نہ ہونا بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے اور کرپشن ہی دہشت گردی کی بنیاد ہے۔ ٹرکوں میں بھرا ہوا غیر قانونی اسلحہ کرپشن کے بغیر ملک میں نہیں آسکتا۔ اس لئے کرپشن ختم کرو تو دہشت گردی کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ انہوں نے نئی نسل کو کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کا ہراول دستہ قرار دیا۔ آگے بڑھو اور بد عنوان عناصر کے ہاتھ روکو۔ ورنہ اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ کوسٹر 42 سواریوں کو لے کر اسلام آباد سے پشاور آرہی تھی۔ تھری پیس سوٹ میں ملبوس ادھیڑ عمر کا خوبصورت، تنومند آدمی میرا ہم نشست تھا۔ اس نے سگریٹ سلگایا۔ ابھی دو کش ہی لئے تھے کہ سامنے والی سیٹ سے 18یا 19سال کا لڑکا اٹھا اور شیر کی طرح جھپٹ کر اس آدمی کے ہاتھ سے سگریت چھین لیا ۔ پاؤں کے نیچے مسل کر ختم کر دیا اور واپس اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا۔ نہ اس بزرگ نے ایک لفظ بولا۔ نہ اس لڑکے نے کوئی بات کی۔ بقول غالب “خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیئے”اگر ہر بس، ہر کوسٹر، ہر ہائی ایس، ہر دفتر اور ہر گھر میں اس جرات، ہمت اور رویے کا نوجوان بٹھا دیا جائے تو ہر برائی ہاتھ سے روکی جائیگی۔ جس دفتر میں ایسا نوجوان بیٹھا ہو۔ اس دفتر کے اندر کرپشن نہیں ہوگی۔ ایسے 40دفتر ہونگے تو کرپشن کے بغیر دفتر چلانے کا نمونہ سامنے آئے گا۔ جلسے کے بعد غیر رسمی نشست میں سراج الحق نے احباب کو بتا یا کہ 20کروڑ کی آبادی والے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے زیادہ قربانیوں ضرورت نہیں۔ صرف 6ہزار کرپٹ، بد عنوان اور کام چور عناصر کو عبرت کا نشان بنا دو۔ 20کروڑ کی آبادی کو کرپشن سے نجات مل جائے گی۔ کلیہ آسان ہے۔ فارمولا مشکل نہیں۔ کسی بھی عوامی عہدے پر آنے والا پیسہ لگا کر اس عہدے پر نہ آئے۔ کسی بھی سرکاری عہدے پر آنے والاپیسہ لگا کر وہ عہدہ حاصل نہ کرے۔ اگر قومی اسمبلی کا ممبر 80کروڑ روپے خرچ کر کے آئے گا تو وہ کرپشن کو کیسے روکے گا۔ اس کا اپنا سرمایہ اس کام میں لگا ہے۔ مختصر مدت میں سرمایہ بھی واپس لینا ہے۔ منافع بھی لینا ہے۔ سرکاری افسر 30لاکھ روپے کی رشوت دے کر اپنی پوسٹنگ کرائے گا تو وہ کرپشن کے سوا کس طریقے سے اصل زر بمعہ سود واپس حاصل کرے گا۔ ایک من چلے نے سوال کیا دفاتر میں کرپشن کو بند کیا گیا تو آفیسر کس لالچ میں کام کرے گا اور کیوں کام کرے گا ؟ سراج الحق نے کہا وہ کام کی تنخوا لیتا ہے۔ اس کو پنشن کا حق دیا گیا ہے۔ کیا یہ کافی نہیں؟ سوال کرنے والے نے کہا تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات کابینہ کے وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی ملتی ہیں مگر وہ کرپشن سے باز نہیں آتے۔ سراج الحق نے کہا ہماری مہم کا مطلب اور مقصد ہی یہ ہے کہ انتخابی نظام اور عدالتی نظام سے لے کر سیاسی نظام اور دفتری نظام تک ہر جگہ اصلاحات لائی جائیں۔ میں نے سوچا نیب کے قانون 80ارب روپے کے غبن کا مجرم پکڑا جاتا ہے۔ وہ پلی بارگین کے نام پر 50کروڑ روپیہ قومی خزانے میں جمع کر کے 50کروڑ نیب کے افسروں کا قانونی حصہ حق حلال کی کمائی ادا کر کے تمام جرائم سے پاک، صاف ہو کر باہر آجاتا ہے۔ دو سال بعد کابینہ کا وزیر یا عدالت کا جج بن جاتا ہے۔ نیب کا یہ قانون کرپشن کو ختم کرنے کی بجائے کرپشن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ میں نے دوبارہ سوچا، پچھلے مہینے فوج کے گیارہ آفیسروں کو کرپشن کے الزام میں فوج سے نکال دیا گیا۔ مگر ان میں سے کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ کوئی جیل نہیں گیا۔ میں نے سوچا واقعی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا حل کیوبا میں فیدل کاسترو اور شی گویرا نے بھی پیش کیا، چین کے ماوزے تنگ اور چو این لائی نے تجویز کیا۔ ایران میں خمینی اور اسکے ساتھیوں نے بھی اس کا حل تجویز کیا۔ بلکہ عمل کر کے دکھایا۔ سراج الحق کی اس بات میں وزن ہے کہ 20کروڑ کی آبادی والے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے 6ہزار یا 7ہزار کرپٹ عناصر کی قربانی دینا مہنگا سودا نہیں۔ اب جے آئی یوتھ نے اس کابیڑا اٹھا یا ہے۔ جے آئی یوتھ سے مستقبل میں پاسداران انقلاب والا کام لیا جائے گا۔ 18سال کا نوجوان آگے بڑھے تو 55سالہ سیاستدان، بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کا ہاتھ کرپشن سے روک سکتا ہے۔ یہ آسان ہے۔ مشکل نہیں ۔ جے آئی یوتھ اس مہم کا ہراول دستہ ہو گا۔ جماعت اسلامی کی تاریخ میں یہ اسلامی جمعیتہ طلبہ اور شباب ملی کا تسلسل ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کلام اقبال کے شیدائی تھے۔ وہ اکثر نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کر تے تھے۔

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہوگا
سفینہ ء برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشا کشی مگر یہ دریا سے پار ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى