ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…..اسلام جیت گیا

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….
یہ تاریخی جملہ ہے اور اسلامی تاریخ کا ایک باب ہے۔ پورا جملہ یوں ہے ” اسلام جیت گیا مسلمان ہار گئے” کیا یہ اسلام اور مسلمانوں کا آپس میں مقابلہ تھا؟ جی ہاں! بعض اوقات جہالت، حسد،کینہ، بغض، لالچ اور دیگر عوامل کی وجہ سے مسلمان خم ٹھونک کراسلام کے مقابلے پر آجاتے ہیں۔ یہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بر صغیر ہندو پاک پر بر طانوی پر چم لہرانے کے دور کا مشہور واقعہ ہے۔ 1880ء میں انگریزوں کا اقتدار مستحکم ہو چکا تھا۔مشرقی پنجاب کے ضلع مظفر نگر کا مشہور قصبہ کا ند ھلہ علمائے کرام کا مو لدو مسکن رہاہے۔اس قصبے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نہا یت قیمتی زمین کے ایک پلاٹ کا تنازعہ پیدا ہوا۔مسلمان کہتے تھے یہ زمین مسجد کی ہے ہندو کہتے تھے یہ مندر کی زمین ہے۔ جھگڑے نے طول پکڑلیا۔بات عدالت تک پہنچ گئی۔ انگریز مجسٹریٹ نے کہا کسی مقامی شخص کو ثالث مقرر کرو ۔بیسیوں نام پیش ہوئے۔ کسی نام پر مسلمان اعتراض کر تے تھے۔کسی نام پر ہندوسیخ پا ہوتے تھے۔آخر تنگ آکر مجسٹریٹ نے ہندو سے کہا، آخر ی بندے کا نام دیدو۔پھر چانس نہیں ملے گا۔ہندووں نے کاندھلہ کے درویش صفت عالم دین مولانا محمد بخشؒ کا نام تجویز کیا۔ مسلمانوں نے اُس کے نام پر اتفاق کیا۔ یوں مولانامحمد بخش کا ندھلویؒ ثالث بن گئے ۔اب مسلمان بہت خوش ہوئے کہ کام ہوگیا۔ زمین کا قبضہ مل جائے گا۔ مولانا محمد بخشؒ مقرر تاریخ کو عدالت میں آئے۔ دونوں طرف کے دلائل سن کر گواہوں کے بیانات اور دستیاب ریکارڈ کو دیکھ کر ہندوؤں کے حق میں فیصلہ دیدیا۔ انگریز مجسٹریٹ نے ثالث کے ساتھ اتفاق کرکے فیصلہ سنا یا۔فیصلہ یہ تھا کہ زمین مندر کی ہے۔ ہندووں کا حق ہے اور ہندووں کو ملے گی۔فیصلہ سننے کے بعد اس گاؤں کے سارے ہندوؤں نے اسلام قبول کیااور اُس زمین پر مسجد بن گئی۔مسلمان اپنا مقدمہ ہارگئے۔مگر اسلام جیت گیا۔اسلام کے ایک شیدائی نے اپنے حسن اخلاق سے کینہ،بغض ،انتقام،حسداوررقا بت کا جذبہ رکھنے والے لوگوں کی مکر وہ ذہنیت کو شکست دی ۔اسلام کا بول بالا کر دیا۔ یہ اخلاقی فتح مسلمانوں کی تاریخ کا محض ایک واقعہ نہیں ۔اسلام کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اچھی باتوں کو پھیلانے کا دستور نہیں ہے۔ میڈیا پر منفی باتیں چھائی ہوئی ہیں۔ یہ کیسی دلچسپی ہے جو صرف منفی پہلوؤں کو اپنی طرف کھنچتی ہے۔ مثبت باتوں سے صرف نظر کرتی ہے۔ اس دلچسپی پر غور کر نے کی ضرورت ہے۔ آپ کسی بھی دینی ادارے سے رجوع کریں۔ کوئی کتاب یاکیسٹ لے لیں، کسی دکان پر دینی جذ بات سے بھر پور کیسٹ خرید لیں۔آپ کو ان میں محبت، حسن اخلاق ، حسن سلوک کے حوالے سے دو جملے نہیں ملیں گے۔ دوسطریں نہیں ملیں گی۔ آپ کے قلب و ذہن پر حسد ،بغض، کینہ اور انتقام کے جذبات کو بھٹرکا یاجاتا ہے ۔مولانا محمود بخش ؒ کے کردار اور دلوں کو جیتنے کے عمل کا ذکر نہیں ہوتا ۔مولانا طارق جمیل ،ڈاکٹر ذاکر نائیک اور علامہ جاوید الغامدی کو ہمارے علمائے کرام کے حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ محبت کے ذریعے، حُسن سلوک کے ذریعے اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کی بات کرتے ہیں ۔بندوق کی جگہ قلم کا ذکر کرتے ہیں۔ دھماکوں کی جگہ مکالموں کی بات کرتے ہیں اور دشمنی کی جگہ دوستی کاہاتھ سب کی طرف بڑھاتے ہیں۔ کاندھلہ ضلع مظفر نگر مشرقی پنجاب میں مولانا محمد بخش ؒ کی طرف حسن کردار اور حسن سلوک کے رویے سے متاثر ہوکر ہندووں کا پورا گاؤں اور پورا محلہ مسلمان ہوا ۔آج پشاور، لا ہور، کراچی اور کوئٹہ کے اطراف میں کیا ہورہاہے ؟ کیا یہاں اس وقت مولانا محمد بخش کا ند ھلوی ؒ جیسے عالم کی ضرورت نہیں ۔یقیناًایسے عالم دین کی ضرورت ہے جو مختلف مکاتب فکر کے ساتھ تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اسلام کے دائرے میں داخل کرے ۔یہ جملہ مکرر لکھنے کے لائق ہے ۔آج غیر مسلم کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی جگہ مسلمان کو دائرہ اسلام میں قبول کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے جنید جمشید کے ساتھ اپنے تعلق اور اپنی رفاقت کا ذکر کیا ہے۔ مولاناطارق جمیل جید عالم دین ،مبلع اسلام اور زمانہ حال کے فقیہہ کا درجہ رکھتے تھے ۔جنید جمشید کی زندگی کا چلن ،ڈگر اور سلوب یہ تھاکہ موصوف ملک کے اندر اور ملک کے باہر مشہور گلوکار کی شہرت رکھتے تھے۔ دونوں کے درمیان ہم آہنگی کی کوئی ظاہری صورت نہیں تھی۔اس کے باوجود 5سالوں تک دونوں ایک دوسرے کے قریب رہے ۔مولانا طارق جمیل شب جمعہ سے آتے اور جنید جمشید میوزک کنسرٹ سے آجاتے۔صبح دونوں ایک دسترخوان پر ناشتہ کرتے ۔ مولانا شلوار قمیص میں ملبوس ،خوب صورت داڑھی ،سر پر ٹوپی یا پگڑی زیب تن کر کے دستر خوان پر بیٹھتے تو جنید جمشید پینٹ شرٹ میں ملبوس ، کلین شیو، ٹائی باندھ کر آجاتے ۔ رات یا دن کا کھانا مل کر کھانے کے بعد مولانا مسجد میں بیان کے لئے اورجنید جمشید محفل موسیقی میں گا نے کے لئے چلے جاتے۔5سالوں تک مولانا نے جنید جمشید کے ساتھ نفرت اور حقارت کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ محبت کا رویہ بر قرار رکھا۔ 5سالوں کے تعلق اور لمبی مدت تک باہمی گفتگو اور نشست وبر خاست کے نتیجے میں یا تو مولانا پر جنید جمشید کا رنگ چڑھ جانا چاہیے تھا یا مولانا کا اثر جنید جمشید کو اپنی گرفت میں لیناتھا۔5سالوں کے باہمی تعلق نے یہ اثر دکھا یا کہ جنید جمشید کے دل کی دنیا بدل گئی۔ اُس نے مولانا طارق کا اثر قبول کیا ۔اگر 5سالوں کے اندر ایک بار بھی وہ محسوس کرتا کہ مولانا میرے طرز زندگی کو پسند نہیں کرتے ، مجھے اپنی محبت کے لائق نہیں سمجھتے تو وہ ان کے مجلس سے اُٹھ کر دور چلے جاتے اور دوبارہ ان کے قریب بھی نہ آتے ۔یہی طرز عمل بر صغیر کے مشہور علماء اور صوفیا کا تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ،خوجہ نظام الدین اولیاء، ؒ بابا فرید الدین گنج شکرؒ ، علی ہجویری داتا گنچ بخش ؒ کا دستور بھی یہی تھا۔اُن کی صحبت میں ہندوؤں نے دس سال بیس سال گزارے کے بعد ان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیااور اسلام برصغیر کا سب سے مقبول مذہب بن گیا۔مگر یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے۔ استاد ذوق نے غزل کے اشعار میں میں کیا بات کہی ہے
کسی بے کس کو اے بیدا دگر مارا تو کیا مارا
جو خود مر رہا ہو اس کو اگر مارا تو کیا مارا
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا
نہنگ واژدہا وشیرنر ماراتو کیامارا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق