ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…..ساتویں کے پی کے لینگوجز کا نفرنس چترال

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….


گندھارا ہندکو بورڈ پشاور، گندھارا ہندکو اکیڈیمی پشاو راور انجمن ترقی کھوار چترال کے اشتراک سے ساتویں لینگویجز کانفرنس 28مئی 2016کو چترال میں منعقد ہوئی۔۔ممبرقومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین افتتاحی نشست کے مہمان خصوصی تھے۔ ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے دوسری نشست میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔28مئی1998ء کو وطن عزیز پاکستان نے جو ہردھماکوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منواکر اس دن کو یوم تکبیر کا نام دیا۔اس مناسبت سے ساتویں لینگویجز کانفرنس کے شرکاء نے اس دن زبان وادب اور تہذیب و ثقافت کی رنگا رنگی اور بو قلمونی کا گلدستہ بنا کر ملک اور قوم کی نظریاتی ،ثقافتی اور تہذیبی سرحدں کے دفاع کے لئے سینہ سپر اور خامہ بدست ہونے کا عزم ایک بار پھر دہرایا۔ کانفرنس کی تین نشستوں میں14مقالے پیش کئے گئے۔ رات کو مشاعرہ ہوا جس میں چیدہ شعرائے کرام نے کلام سُنایا۔ جبکہ آفتاب عالم، منصور شباب اور انصار الہی نے منتخب نغمے پیش کئے ۔کانفرنس میں گندھارا ہند کو بورڈ پشاور کے وائس چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین اور جنرل سکرٹری ضیا ء الدین نے بطور خاص شرکت کی۔ ارشد ضیاء صدیقی اور تسلیم حسین رضوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بدھائی کے ارباب ارشد محمود چترال میں قافلے کے ساتھ شامل ہوئے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری عبدالرحیم نے آیات کریمہ کی تلاوت کی۔ افضل اللہ افضل نے نعت شریف سنائی۔ محبوب الحق حقی اور میجر(ر) احمدسعید نے نظمیں سنائیں ۔ڈاکٹر صلاح الدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گندھارا ہند کو بورڈ پورے صوبے کی تمام زبانوں کی یکساں ترقی اور سب کو مساوی موقع دینے کے عزم کو لیکر کام کرتی ہے۔ گندھارا اکیڈیمی کا قیام بھی اسی لئے عمل میں لایا گیا ہے۔ صوبائی حکومت اس کی فنڈنگ کرتی ہے۔ ہم نے ڈی آئی خان،کوہاٹ،ایبٹ آباداور بحرین سوات میں لسانی کا نفرنسوں کا انعقاد کرکے اس کا عملی ثبوت دیا ہے۔ چترال کا نفرنس اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اپنی تقریر میں ضیاء الدین نے کہا کہ ادبی کام وسائل سے زیادہ جذبے کے ذریعے ہوتا ہے۔ کام کا جذبہ ہو، نیت میں اخلاص ہو، اپنی مادری زبان سے محبت ہو تو زبان و ادب کی ترقی ممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے انجمن ترقی کھوار کے تعاون کو سراہتے ہوئے چترال کے ادیبوں اور شاعروں کی کسی بھی کتاب کی کیمرہ ریڈی کاپی کو شائع کرنے کی پیشکش کی۔ کانفرس کی نظامت کے فرائض جاوید حیات اور واسع الدین آکاش نے انجام دئے۔ مقالہ نگاروں میں مولانگاہ، نقیب اللہ رازی، محمد عرفان ،شہزادہ تنویر الملک،ظہیر الدین،شیر حیدر،نالیگ ایڈوکیٹ ، فریدہ سلطانہ فری،روبینہ ،آسیہ اجمل ،شہناز اور راقم الحروف شامل تھے۔ مجلس صدارت میں میجر(ر)احمد سعید،پروفیسر رحمت کریم بیگ ،انجینئر خالد جمیل،عبداللطیف،کرنل(ر)افتخار الملک ،تاج محمد فگار، ظہیر الدین،ارباب ارشدمحمود،تسلیم حسین رضوی، مولانگاہ نے سٹیج کو رو نق نجشی۔تحریک انصاف چترال کے رہنما عبداللطیف نے شستہ اور رواں ہند کو میں صدارتی تقریر کرکے حاضرین سے بے پناہ داد حاصل کی۔ محفل مشاعرہ میں محمد اشفاق جاوید، رشید احمد راوی، جاوید اختر جواد، شہزاد، محمد جنا ح الدین پروانہ، حاجی اکبر حیات، سعید الرحمن سعیدی ، انعام اللہ سیار ، شریف الرحمن مجروح،سرورسرور، عبدالناصر ، محبوب الحق حقی،جاوید حیات ،تاج محمد نگار، افضل اللہ افضل ، ثناء الدین ثانی نے منتحب کلام پیش کیا۔ فیس بک کلچر پر محبوب الحق حقی کی نظم بہت پسند کی گئی۔ اس طرح حاجی اکبر حیات اور سعید الرحمن سعیدی کی نظموں میں پرانے فیشن کی خاتون اور جدید فیشن کی دلدادہ لڑکی کے درمیان مکالمہ کو بے حد سراہاگیا۔ اس میں جدت بھی تھی اور ندرت بھی۔ کانفرنس کی آخر ی نشست میں زبان و ادب ، تہذیب وثقافت اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے تصرف و اختیار کے حوالے سے درج ذیل 12 قرار داد یں منظور کی گئیں۔
1۔ یہ کانفرنس حکومت پاکستان ، حکومت خیبر پختونخوا اور سول سوسائیٹی سے مطالبہ کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹرEcosocکی قراردادوں، یونیسکوکنونشن اور آئین پاکستان کے تحت قدیم نسلوں،قدیم ثقافتوں اور قدیم زبانوں کے تحفظ اور ان کی بقاکے لئے انڈی جینس پیلپز رائٹس کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی نسلی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔مقامی وسائل پر خود اختیاری اور اپنی زبان وثقافت کی ترقی کے لئے کام کا آزادنہ اور منصفانہ ماحول فراہم کیا جائے ۔نیز وفاقی اور صوبائی بجٹ میں زبان وثقافت کی ترقی کے لئے سب کو یکساں اور مساوی مواقع،امکانات اور وسائل فراہم کئے جائیں۔
2۔ یہ کانفرنس صدرپاکستان، وزیراعظم پاکستان ، چیئر مین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو توجہ دلاتی ہے کہ مارچ2014ء میں اطلاعات اور قومی ورثہ کے لئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان کی 22زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کی سفارش کی ہے ۔یہ سفارش وزارت قانون سے بل کی صورت میں اب تک ایوان میں پیش نہیں ہوئی۔ کانفرنس کے شرکاء مطالبہ کرتے ہیں کہ ہند کو، شینا، سرائیکی،بلتی اور کھوار سمیت 22زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کابل ایوان کی منظوری کے لئے پیش کرکے اس کو قانون کا درجہ دیا جائے۔
3۔ یہ کانفرنس صوبائی گورنر،وزیراعلیٰ، سپیکر صوبائی اسمبلی اور خیبر پختونخواحکو مت کی توجہ2011میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے زبانوں کی ترقی کے قانون خیبرپختونخوا ریجنل لینگویجز پروموشن اتھارٹی ایکٹ کی طرف مبذول کرتی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت 2012ء میں لینگویجز پروموشن اتھارتی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔2013 ء کے بعد آنے والی حکومت نے اس پر عملدرآمد روک دیا۔ کا نفرنس پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ لینگویجز پروموشن اتھارٹی فوری طور پر قائم کی جائے اور صوبے کی تمام زبانوں کے اہل قلم کو ایک چھت کے نیچے تحقیق ،تراجم، تدوین کاری اور ڈاکومینٹیشن کے مواقع فرہم کئے جائیں۔
4۔ یہ کا نفرنس صوبائی حکومت ،نظامت نصاب سازی وتریبت اساتذہ(DCTE)اور خیبر پختونحوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے صوبے کی4زبانوں میں پہلی جماعت سے 12جماعت تک مادری زبانوں کی نصابی کتب کی تیاری واشاعت کے لئے اُٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ مادری زبانوں کی تعلیم کے قانون پر عمل درآمد کے لئے ٹیچر زٹرنینگ کاکام بھی ساتھ ساتھ شروع کیا جائے
5۔ یہ کا نفرنس وفاقی حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے لواری ٹنل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا پر جوش خیر مقدم کرتی ہے ۔ کانفرنس کے شرکاء صدر پاکستا ن اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ پلاننگ کمیشن کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لواری ٹنل کے راستے شمال میں تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبہ تک شاہراہ کی تعمیر پر توجہ دے کر وسطی اشیاء کو چترال اور پشاور سے ملایا جائے اور ہمارے عوام کے قدیم لسانی ،ثقافتی اور تہذیبی روابط کا احیاء کرکے قدیم نسلوں کے لئے معاشی فوائد کے دروازے کھولے جائیں۔
6۔ یہ کا نفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ انڈی جینس پیپلز رائٹس کے بین الا قوامی اور ملکی قوانین کے تحت چترال کے معدنی وسائل پر مقامی لوگوں کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے غیر مقامی لوگوں کو ناجائز طریقے سے دیئے گئے تمام لیز منسوخ کئے جائیں اور چترال کی قدیم نسلوں کو معدنی وسائل کے معاشی فوائد میں حصہ دیا جائے۔
7۔کا نفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ چترال میں جنگلات کے ٹمبر پر اڈکٹس اور نان ٹمبر پر اڈکٹس کی تجارت کے جملہ حقوق مقامی آبادی اور قدیم نسلوں کو منتقل کئے جائیں اور مقامی لوگوں کو جنگلات کے حقوق کے ذریعے معاشی خوشی اور آسودگی کے مواقع دئیے جائیں۔
8۔ یہ کانفرنس اس بات کی اشد ضرورت محسوس کرتی ہے کہ وطن عزیز کی ہر زبان کو سرکاری میڈیا پر مساوی نمائندگی ملنی چاہئیے،چترال کی زبانوں کوبھی سرکاری ٹیلی وژن پر حصہ ملنا چاہئیے، یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سرکاری ٹی وی پر کھوار سمیت چترال کی تمام زبانوں کو مناسب اور موثر نمائندگی دی جائے۔
9۔یہ کا نفرنس اس بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ چترال افغان سرحد سے ملحق 14850 مربع کلو میٹر رقبے پر مشتمل ضلع اور 14زبانوں،ثقافتوں کا مرکز ہونے کے باوجود ریڈیو پاکستان چترال میں AMٹرانسمیٹر نہیں ہے۔ ایف ایم کی نشریات کا دائرہ بہت محدود ہے ۔ یہ کانفرنس وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ چترال کے ریڈیو سٹیشن کو طاقتور اے ایم ٹرانسمیٹر مہیا کیا جائے تاکہ اسکی نشریات پورے ضلع کے علاوہ پڑوسی ملکوں میں بھی سنی جاسکیں۔
10۔ یہ کانفرنس یو نیسکو کے کنونشن اورآئین پاکستان کے تحت غلط نا مو ں کی درستگی کے قانون کی روشنی میں صوبائی حکومت، لوکل گورنمنٹ اور پشاور سٹی گورنمنٹ کی توجہ اس امرکی طرف مبذول کرتا ہے کہ دریائے چترال کو غلطی سے دریائے کابل کا نام دیا جاتا ہے۔ اس دریا کا منبع چترال میں چیانتر گلیشیر ہے اور یہ 475کلو میٹر چترال میں بہنے کے بعد کُنٹراور ننگر ہار کے 192کلو میٹر علاقے سے ہوکر وادی پشاور میں داخل ہوتا ہے ۔کابل کے قریب سے بھی یہ دریا نہیں گزرتا ۔اس کو دریائے کابل کا نام دیکر چترال کا حق ضائع کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء اس فورم کے ذریعے مطالبہ کرتے ہیں کہ دریائے چترال کا پرانا نام بحال کیا جائے اور اس کو دریائے کابل کی جگہ دریائے چترال لکھااور پکارا جائے۔
11۔ یہ کانفرنس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ چترال کی 14مادری زبانوں کی طرف مبذول کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ زبان وثقافت پر تحقیقی کاموں کے لئے چترال میں ایک تحقیقی،ادبی و ثقافتی مرکز”ہندوکش ریسرچ سنٹر ” کے قیام کو صوبائی بجٹ کا حصہ بنایا جائے اور ثقافت کے شعبے میں 1995-96کے بجٹ کی طرح اس کے لئے فنڈ مختص کئے جا ئیں۔
12۔ یہ کانفرنس گندھارا ہند کو بورڈ اور گندھارا ہند کو اکیڈیمی کی طرف سے مادری زبانون کی ترقی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے اور انجمن ترقی کھوار کے اشتراک سے چترال میں ساتویں لینگو یجز کا نفرنس کے انعقاد کو سراہتی ہے ۔کانفرنس کے شرکاء اُمید رکھتے ہیں کہ گندھارا ہند کو بورڈ آئندہ بھی صوبے کی تمام مادری زبانوں کو تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع اور مساوی حقوق دلوانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق