مضامین

داد بیداد ……گلدستہ

………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …….

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دل کے اپریشن کی کامیابی اور صحت یا بی کے بعد ہارلے سٹریٹ لندن کے کلینک سے ایک بیان جاری کر کے تمام بہی خواہوں کا شکر یہ ادا کیا ہے جنہوں نے ان کی عیادت کے لئے فون ، ای میل ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پیغامات بھیجے اُن کی صحت یا بی کے لئے دعائیں مانگیں اور اُن کو گلدستے بھیجے ایسے وقت پر یاد کر نے والا یاد رہتا ہے آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف نے ایسے لوگوں کو کبھی نہیں بھلایا وزیراعظم کا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بڑ ھ چڑھ کر خدمت کر تے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کو گولیاں ماری گئیں تو سب سے پہلے میاں نواز شریف ہسپتال پہنچ گئے تھے عمران خان کو سیڑھی سے گر کر چوٹیں آئیں تو میاں محمد نواز شریف نے ان کو گلدستہ بھیجا تھا خبر آئی ہے کہ عمران خان نے بھی لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں میاں محمد نواز شریف کو گلدستہ بھیجا ہے دیگر ملکی اور عالمی لیڈروں نے بھی گلدستے بھیجے ہیں اگر ہر گلدستے کے ساتھ ایک شعر لکھ کر بھیجنے کا رواج ہوتا تو گلدستوں پر مشتمل بیاض و جود میں آتی اگر عمران خان اپنے گلدستے کے ساتھ کوئی شعر لکھنا چاہتے تو شاید مرزا غالب کا یہ شعر مستعار لیتے
خدا یا وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات
دل ہی انہیں اوردے جو نہ دے مجھ کو زباں اور
قبلہ آصف علی زرداری اردو شاعری کا اچھا ذوق رکھتے ہیں تنہائی میں گنگناتے بھی ہیں اُن کے گلدستے کے ساتھ فیض احمد فیض کا یہ شعر ضرور ہوگا
مشکل ہیں اگر حالات وہاں جان دے آئیں دل بیچ آئیں
کو چہ جاناں میں اے دل والو کیا ایسے بھی حالات نہیں
ہمارے مخدوم اور ممدوح لندن والی سرکار، کراچی اور حیدر آباد والوں کے بھائی الطاف حسین کے گلدستے کا شعردیوان غالب ہی کا ہوتا شاید یہی شعر ہوتا
پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے دل
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے
خبر آئی ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام شانگلہ سے روانہ ہو کر لندن کے اُس مقام تک گئے جہاں میاں محمد نواز شریف کے دل کا اپریشن ہوا ہے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو وطن عزیز کے اندر اہم ذمہ داریاں دی گئی تھیں اس لئے انہوں نے وزیراعظم کو گلدستہ بھیجا گلدستے کے ساتھ یہ شعر تھا

پیش آئینہ میر ا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
اگر سردی کا موسم ہوتا تو ماحول مختلف ہوتا ایسے میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے گلدستے میں شعیب بن عزیز کا یہ شعر ضرور جگہ پاتا
کیوں اداس پھرتے ہو سر دیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
مولانا فضل الرحمن اگر چہ بہ نفس نفیس وزیراعظم کی عیادت کے لئے لندن پہنچ گئے ہیں تاہم انہوں نے جاتے جاتے ایک گلدستہ ضرور ہاتھ میں لیا ہوگا اس گلدستے کے لئے اگر مولانا کو شعر کی تلاش ہوتی تو یقیناًکلام اقبال میں ان کو ملا ہوگا کیا برمحل شعر ہے ۔
نہ مجھ میں سلیقہ کلیم کا نہ تجھ میں قرینہ خلیل کا
میں ہلاکِ جادو ئے شامر ی تو قتیل شیوہ آذری
شیخ الاسلام طاہر القادری وزیراعظم کے بچپن کے دوست اور دیرینہ رفیق رہے ہیں دھرنے میں بیمار ہو کر لندن گئے اور ہسپتال میں داخل ہوئے تو وزیراعظم نے ان کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ گلدستہ بھیجا تھا ہو سکتا ہے طاہر القادری نے بھی اُس کے جواب میں گلدستہ بھیجد یا ہو اگر بھیجا ہوگا تو اُس کے ساتھ غالب کا یہ شعر بھی ضرور بھیجا ہوگا
کسی کو دے کے دل کوئی نواسبخ فغاں کیوں ہو
جب دل ہی نہ ہو سینے میں تو پھر منہ میں زبان کیوں ہو
ہمارے ایک اور ممدوح فرزند پنڈی لال حویلی والے شیخ رشید احمد دو دفعہ میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر رہے ہیں علم نجوم کی تھوڑی سی ان بن کی وجہ سے تیسری بار وزیراعظم کی کابینہ سے باہر رہے ورنہ مشرف کی کابینہ کے بعض وزراء میاں صاحب کے دائیں بائیں جگہ پاچکے ہیں بہرحال شیخ رشید نے اگر اپنے پرانے بوس کی خدمت میں گلدستہ بھیجا تو فلمی گانے کا یہ شعر ضرور گلدستے کے ساتھ لکھ بھیجے نگے
یوں غم سے نہ مچل جانا
اے میرے دلِ نا دانا
ہمارے ایک اور ممدوح اسفندیار ولی خان ماضی میں میاں نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کے قریبی حلیف رہے ہیں پردہ پوشی اور پر دہ داری کے قائل ہیں ان کے گلدستے کے ساتھ مرزا عالب کا یہ شعر جا ئے گا
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
پاکستانی عوام کے ایک اور محبوب لیڈر بیمار ہو کر علا ج کے لئے لندن گئے ہوئے ہیں پرویز مشرف کس ہسپتال میں ہیں اور کس بیمار ی کا علاج کروا رہے ہیں اس بارے میں فرشتوں نے کوئی خبر جاری نہیں کی اُن کے آباواجداد ہلی کے رہنے والے تھے میاں نواز شریف کے آباو اجداددہلی سے کچھ فاصلے پر مشرقی پنجاب میں جالندھر کے قصبہ جاتی امراء سے تعلق رکھتے تھے اس حوالے سے ہجرت دونوں کا معتبر حوالہ بنتا ہے ہو سکتا ہے مشرف بھی ایک آدھ گلدستہ ہمارے وزیر اعظم کو بھیجدیں اگر یہ واقعہ وقوع پذیر ہوا تو ایک بار پھر دیوان غالب سے فال نکا لنا پڑے گا اور بعید نہیں کہ فال میں غالب کا یہ شعر نکل آئے
وہ اپنی خو نہ چھوڑ ینگے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
بر طانیہ والے وضعدار لوگ ہیں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے میاں محمد نواز شریف کے لئے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ’’گیٹ ول سون‘‘ والا ایک نایاب گلدستہ بھیجا ہو اہے اگر گلڈستہ کے ساتھ پاکستان کی قومی زبان میں کوئی شعر لکھنا چاہتے تو ضرور یہ شعر ان کے قلم کی نوک پر ہوتا
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو ، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
اوریہ بات بعید از امکان نہیں کہ عیدین پر مسلمانوں کو تہنیتی پیغام بھیجنے والا امریکی صدر باراک اوبامہ تمام کدورتوں ، نفرتوں اور حقارتوں کو پس پُشت ڈال کر ایک گلدستہ ہمارے وزیر اعظم کو بھجدیں اگر ایسا ہو ا تو قومی زبان کے کس شاعر کا کونسا شعر گلدستہ کے ساتھ جائے گا یقیناًفراز ہی کا شعر ہوگا
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سو کھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى