تازہ ترین

بریپ میں گذشتہ رات سے سیلاب کا سلسلہ جاری ہے ۔ جس کے نتیجے میں تقریبا پچاس گھرانے اپنے مکانات چھوڑ کر محفوظ مقام کھوتان لشٹ منتقل

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس )بالائی چترال کے گاؤں بریپ میں گذشتہ رات سے سیلاب کا سلسلہ جاری ہے ۔ 13343027_237442089971604_3020555189398186315_nجس کے نتیجے میں تقریبا پچاس گھرانے اپنے مکانات چھوڑ کر محفوظ مقام کھوتان لشٹ منتقل ہو چکے ہیں ۔ تازہ سیلاب سے تین گھرانوں کیلئے تعمیر شدہ شیلٹر بھی بہہ گئے ہیں ۔ جو گذشتہ سال کے سیلاب متاثرین کیلئے این جی اوز نے تعمیر کئے تھے۔ سیلاب سے یارخون اور بروغل کو جانے والی مین سڑک گذشتہ رات سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہو چکی ہے ۔ جس کی وجہ سے درجنوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں ۔ اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایک مقامی شخص سید محمد کریم شاہ عرف بابو جی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ۔ کہ گاؤں بریپ کے اوپر موجود گلیشئر کے پگھلنے سے پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اور نالے کے اس پانی سے ایک پہاڑی ٹیلہ مسلسل کٹاؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ جس سے پانی ڈیم کی صورت اختیار کر جاتاہے ۔ اور یہ ڈیم وقفے وقفے سے ٹوٹنے پر پورا علاقہ اُس کی لپیٹ میں آجاتا ہے ۔ اور گذشتہ رات سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ علاقے کی بڑی آبادی نے نقل مکانی کر لی ہے ۔ اور اپنے سامان و مال مویشیوں سمیت محفوظ مقام کھوتان لشٹ منتقل ہو گئے ہیں ۔ بریپ کی آبادی کا بڑا حصہ سیلابی ملبے سے بھر گیاہے ۔ اور گھروں سمیت باغات اور کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں ۔ جبکہ لوگوں کو خد شہ ہے ۔ کہ سیلاب کا یہ سلسلہ جلد رکھنے والا نہیں ۔ سید کریم کے مطابق ریپ گذشتہ سال بھی سیلاب کی زد میں رہا ۔ اور اس علاقے سے تیس گھرانے پہلے ہی مستقل بنیادوں پر نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ جبکہ تازہ سیلاب سے مزید چالیس خاندان ہجرت کر چکے ہیں ۔ علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ زیادہ تر رات کے وقت سیلاب آتا ہے ۔ اور علاقے میں بجلی نہ ہونے کے باعث لوگوں کو اندھیروں میں جان بچانے کیلئے انتہائی پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے ۔بریپ گاؤں اپنے خوش ذائقہ سیب کی وجہ سے چترال بھر میں مشہور ہے ۔ لیکن مسلسل سیلاب نے یہاں کے باغات کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ متاثرہ لوگوں نے حکومت اور امدادی اداروں سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے ۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق