بشیر حسین آزادؔتازہ ترین

مکتوبِ چترال…..چترال میں بجلی کی کم وولٹیج اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشیر حسین آزاد۔۔۔۔۔۔۔۔
چترال ٹاون کے واپڈا صارفین نے پیسکو(PESCO) کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران روزانہ 22گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ،کم وولٹیج اُور بلنگ اور دیگر ناانصافیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ،وزیر پانی وتوانائی خواجہ محمد آصف اور وزیرمملکت عابد شیر علی کے اعلانات کے مطابق افطاری ،تراویح اور سحری کے اوقات میں بلیک آوٹ کا سلسلہ بند کیا جائے۔ضلع چترال میں سو فیصد بلوں کی ریکوری کا ریکارڈ ہے۔اس ضلع کو لوڈشیڈنگ سے مستشنیٰ قرار دیاجائے۔اور گرڈ کی خرابی کو دور کرکے وولٹیج کی سطح کو20اور35کی حد سے بڑھا کر 110اور220کے درمیان لایاجائے۔اُوربلنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔چترال ٹاون کے گھریلو اور کمرشل صارفین نے آرمی حکام،صارف عدالت،چیف جسٹس اور وزیراعظم پاکستان سے چترال کے صارفین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔صارفین نے نیب(NAB) پشاور سے بھی اس معاملے میں انکوائری کی اپیل کی ہے۔رمضان المبارک میں چترال ٹاون کے اندر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے روزانہ سے بڑھ کر22گھنٹے ہوگیا ہے۔اس کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔روزانہ 2گھنٹے بجلی آتی ہے تو وولٹیج20اور35کے درمیان ہوتی ہے۔گھریلو صارفین کے ٹی وی سیٹ،کاروباری اور دفتری صارفین کی مشینی آلات،کمپیوٹر وغیرہ جل کر برباد ہوجاتے ہیں۔مہینے کے آخر میں جعلی یونٹ ڈال کر اُوربلینگ کے ذریعے صارفین کو لوٹ لیا جاتا ہے۔چترال ٹاون کے صارفین نے دھمکی دی ہے کہ وہ اگلے ماہ سے بل جمع نہیں کرینگے۔جس کی تمام تر زمہ داری واپڈا اور پیسکو حکام پر عائد ہوگی۔صارفین نے پیسکو چترال کے خلاف نیب کی انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کا دائرہ وسیع کرکے صارفین کے بیانات اور دیگر شواہد بھی حاصل کئے جائیں۔چترال ٹاون کے صارفین نے واپڈا کی نجکاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اور نیب کی انکوائری ٹیم کے ساتھ ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔صارفین نے اس بات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیرپانی وبجلی نے رمضان المبارک کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کا حکم دیا مگر واپڈا حکام نے روزانہ 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر مزید4گھنٹوں کا اضافہ کردیا۔صارفین نے واپڈا چترال کا قبلہ درست کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق