ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا……لوکل گورنمنٹ اور تلاش گُمشدہ

……….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ …….
یکم جون کے تمام اخبارات میں خیبر پختونخوا کے تمام شہروں،قصبوں اور دیہی علاقوں سے لوکل گورنمنٹ کے ناظمین اور کونسلروں کے احتجاج،جلوس،بھوک ہڑتال اور دھرنوں کی خبریں شائع ہوئیں ۔یہ خبر بھی آئی کہ ضلعی ناظمین نے ایک وفد تشکیل دی ہے جو عمران خان اور جہانگیرترین سے ملاقات کرکے اپنی شکایات پیش کر ے گا ۔ ایک کارٹو نسٹ نے اس پر کارٹون بنایا ہے۔ کارٹون میں تلاش گم شدہ کا اشتہار عوام کے ہاتھ میں بینر کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اشتہار کا عنوان ہے لوکل گورنمنٹ جہاں کہیں بھی ہو واپس آجائے ۔اُس سے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جی ہاں ! کا رٹونسٹ درست کہتا ہے ۔31 مئی2015کو لوکل گورنمنٹ کے انتخابات ہوئے تھے ۔ کونسلروں ،ویلج کونسلوں اور ٹاؤن کونسلوں کے انتخابات کے 6ماہ بعد تحصیل کو نسلوں اور ضلع کونسلوں کے انتخابات ہوئے ۔بد قسمتی سے صوبے کے 25ضلعوں میں سے صرف 4ضلعوں میں حکمران جماعت کوکامیابی ملی۔ان میں حکومت سے ناراض فارورڈ بلاک والے حکومت میں آگئے۔باقی اضلاع میں اتحادی جما عتوں یا مخالفین نے حکومتیں بنائیں۔ عقل وفراست، سیاسی پختگی اور ذہنی بلوغت کا تقاضا یہ تھا کہ ان حکومتوں کو تسلیم کیا جاتا، لیکن صوبائی حکومت کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس مجریہ 2015میں ترمیم کرکے 70فیصد اختیارات واپس لے لئے گئے۔اس کے بعد لوکل گورنمنٹ کا فنڈ کم کردیا گیا۔ ضلع ناظم کے اختیارات ڈپٹی کمشنر اور سٹیشن کمانڈر کو دیدیئے۔ اسٹیشن کمانڈر آرمی کا وہ آفیسر ہے جو موقع پر موجود ہوتا ہے۔ آرمی کو تعمیراتی کاموں کے ٹھیکے دلواتا ہے اور ترقیاتی فنڈ کا حساب رکھتا ہے ۔12 مہینے گزرگئے ۔ اب نصف کام سول بیوروکریسی کے پاس ہے۔ نصف کام فوجی کمانڈر کے پاس ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے پاس کچھ بھی نہیں۔ خیبر پختونخوا کے لوکل گورنمنٹ کی سب بڑی خوبی یہ بتائی جاتی تھی کہ اس میں ویلج کونسل کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ ایک سال بعد پتہ لگتا ہے کہ یہ بھی جھوٹ کاپلند ہ تھا۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔آدھے سے زیادہ ویلیج کونسل میں سیکریٹری بھی نہیں ہے ۔اب تورغر،کوہستان،چترال اور شانگلہ کے مقابلے میں پشاور ،ڈی آئی خان اور ایبٹ آباد میں زیادہ پریشانی اور افراتفری ہے ۔یہ وہ اضلاع ہیں جہاں پی ٹی آئی کا باغی گروپ اقتدار میں آیا ہے ۔ نوشہرہ ایسا ضلع ہے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر نوشہرہ میں بھی لوکل گورنمنٹ روپوش ہے، معذور کی سی پوزیشن میں ہے۔ کہیں بھی اس کا پتہ نہیں لگتا ۔ وزیر بلدیات عنایت اللہ جہاں بھی تقریر کرتے ہیں لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اگلے چند مہینوں میں بلدیاتی ادارے کا م شروع کرینگے چند مہینے اب سال بن گئے۔ بلدیاتی اداروں نے کام نہیں سنبھا لا۔ آگے بھی کوئی امید نہیں ہے ۔اس کی تین بڑی وجوہات ہیں ۔پہلی وجہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ممبروں کو لوکل گورنمنٹ بالکل پسند نہیں ہے۔اس وجہ سے سیاسی قیادت اس سسٹم کے خلاف متحد اور یکسو ہوگئی۔ اس سسٹم کو چلانے کے لئے فوجیوں کی ضرورت ہے جوموجودہ حالات میں 2001اور 2005 کی طرح لوکل گورنمنٹ کے سرپر ہاتھ نہیں رکھ سکتے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان اور صوبائی قیادت کے درمیان بہت بڑا کمیونی کیشن گیپ ہے۔ خیالات، پروگرام ،منشور اور لائحہ عمل میں کوئی ہم آہنگی نہیں ۔تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتیں الگ الگ ایجنڈا رکھتے ہیں۔ اتحادی جماعتیں تجربہ کار ہیں۔اپنا ایجنڈا لیکر آگے جارہی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی قیادت نہ اتحادی جماعتوں کا مقابلہ کرسکتی ہے نہ اُن کو اگے جانے سے روک سکتی ہے۔ استادذوق کی غزل کا شعر اتحادیوں پر صادق آتا ہے:
سخت دل اور اشک تردونوں بہم دونوں جدا
ہیں رواں دوہم سفر دونوں بہم دونوں جدا
یہی وجہ ہے کہ لوکل گورنمنٹ کا قانون کسی تجربہ کار قانون دان کے ذریعے ڈرافٹ کرنے کی جگہ ناتجربہ اور نیم خواندہ لوگوں کے ذریعے ڈرافٹ کر وایا گیا ۔اُس کو تضادات کا مجموعہ بناگیا ۔یونین کونسل کوتوڑا گیا۔ ویلیج کونسل کا ناقابل عمل اور بچگانہ قانون دیدیاگیا۔ اُس کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے ۔ویلیج کونسل کے ناظم اور نائب ناظم کے لئے کوئی نامزدگی نہیں ہوتی ۔نامی نیشن پیپر کوئی نہیں تھا۔بیلٹ پیپر کوئی نہیں تھا۔ اب یو نین کونسل کا دفتربند کیا گیا ہے ۔55فیصد دیہی اور شہری کونسلوں میں ویلیج یا نیبر ہڈ کونسل کا بھی کو ئی دفتر،سیکریٹری وغیرہ نہیں ہے ۔گزشتہ ایک سال کے اندر لوکل گورنمنٹ کے ذریعے عوام کو دو پیسے کا فائدہ نہیں ملا۔ چنانچہ عوام کے سڑکوں پر آنے سے پہلے کونسلروں کی تنظیمیں اور ناظمین ،نائب ناظمین سڑکوں پر آگئے ہیں۔ کسی بھی کونسل میں اب تک مانیٹر نگ کمیٹیوں کا قیام ممکن نہیں ہوا۔ کسی بھی کونسل میں اب تک کسی عوامی مسئلہ پر بحث کیلئے وقت نہیں ملا ۔جب اختیارات نہیں ہیں ، وسائل نہیں ہیں ، رولز آف بزنس نہیں، تو پھر مانیٹرنگ کمیٹیاں کس طرح بنیں گی؟ عوامی مسائل پر کیونکر بحث ہوگی؟ اور کس طرح بحث ہوگی ۔چناچہ کارٹونسٹ نے کمال کیا ہے ، عوام کے ہاتھ میں بینر ہے۔ بینر پر لکھا ہے ” تلاش گمشدہ” آگے لکھا ہے لوکل گورنمنٹ 3مئی2015کو پیدا ہوئی تھی۔ نومولود کی عمر ایک سال ہے بچوں والی تمام خصوصیات اس میں پائی جاتی ہیں خود پڑھے تو فور واپس آجائے اس کوکچھ نہیں کہا جائے گا۔کسی کو ملے تو قریبی تھانے میں اطلاع دے کر ثواب دارین حاصل کریں ۔احتجاج کرنے والے ناظمین اور کونسلروں کی خدمت میں علامہ اقبال کا ایک شعر پیش کیا جاتا ہے
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذراتھام ابھی
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق